ہزار ٹن چاول یا 15.7 ٹریلین ڈالر کی دنیا: پاکستان کی معیشت کس راستے پر ہے؟وزیراعظم خواب دیکھ رہے یا دکھا رہے ؟
وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے لیے پاکستانی چاول کی مزید 70 ہزار میٹرک ٹن برآمد کو کسانوں کی خوشحالی اور قومی معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے،حکومت کے مطابق یہ اضافی مقدار اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران ملائیشیا بھیجی جائے گی اور اسے پاکستان کی زرعی اجناس کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے
چاول کی برآمد یقیناً اچھی خبر ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ 70 ہزار ٹن چاول پاکستان کی 407 ارب ڈالر کی معیشت کے حجم، 25 کروڑ سے زیادہ آبادی کی ضروریات اور مستقبل کی عالمی معیشت کے مقابلے میں حقیقتاً کتنی بڑی پیش رفت ہے؟
پاکستان نے مالی سال 2025-26 میں تقریباً 42.82 لاکھ ٹن چاول برآمد کیے جن کی مجموعی مالیت 2.291 ارب ڈالر رہی،اس حساب سے فی ٹن اوسط برآمدی قیمت تقریباً 535 ڈالر بنتی ہے،اگر ملائیشیا کے لیے اضافی 70 ہزار ٹن بھی اسی اوسط قیمت کے قریب فروخت ہوتا ہے تو اس کی مجموعی برآمدی مالیت تقریباً 37.5 ملین ڈالر بنتی ہے،پاکستانی روپے میں 280 روپے فی ڈالر کے حساب سے یہ تقریباً 10.5 ارب روپے بنتے ہیں
یعنی یہ 37.5 ملین ڈالر پاکستان کی پوری سالانہ چاول کی برآمدات کے مقابلے میں ایک محدود اضافہ ہے، جبکہ پاکستان کی پوری معیشت تقریباً 407 ارب ڈالر ہے
اس خبر کا دوسرا پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب پاکستان کو اس دنیا کے ساتھ رکھا جائے جہاں معاشی طاقت تیزی سے زرعی اجناس سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، کمپیوٹنگ، طبی ٹیکنالوجی، روبوٹکس، بائیوٹیکنالوجی، جدید مشینری اور ڈیجیٹل خدمات میں منتقل ہو رہی ہے
PwC کے معروف تخمینے کے مطابق مصنوعی ذہانت 2030 تک عالمی معیشت میں 15.7 ٹریلین ڈالر تک اضافی معاشی اثر پیدا کر سکتی ہے، جس میں تقریباً 6.6 ٹریلین ڈالر پیداواری صلاحیت میں اضافے اور 9.1 ٹریلین ڈالر صارفین کی طلب اور AI سے بہتر مصنوعات و خدمات سے آنے کا اندازہ ہے،یہ 15.7 ٹریلین ڈالر ’’AI مارکیٹ‘‘ کی براہ راست فروخت نہیں بلکہ عالمی معیشت پر ممکنہ مجموعی اثر کا تخمینہ ہے
پاکستان اس نئی معیشت سے اگر مکمل بالکل باہر نہیں ہے، تو اس کا یہاں کوئ ایسا حصہ بھی نہیں ہے جو قابل ذکر سمجھا تاہم جسطرح چاول کی اضافی برآمد کا ڈھول پیٹا جارہا ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو پھر مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی ٹیکنالوجی اور آئی سی ٹی برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو گزشتہ سال سے تقریباً 21 فیصد زیادہ تھیں
لیکن یہی عدد پاکستان کے لیے ایک اور سوال پیدا کرتا ہے،70 ہزار ٹن اضافی چاول کی ممکنہ 37.5 ملین ڈالر آمدنی، پورے سال کی 4.6 ارب ڈالر کی ٹیکنالوجی برآمدات کا بھی ایک فیصد سے کم بنتی ہے،یعنی پاکستان کے پاس ٹیکنالوجی میں ایک راستہ پہلے ہی موجود ہے، مگر قومی معاشی گفتگو میں اس شعبے کی جگہ ابھی بھی روایتی اجناس اور محدود برآمدی کامیابیوں کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے
دوسری طرف ویتنام کو دیکھیں،2025 میں اس نے کمپیوٹر، الیکٹرانک مصنوعات اور پرزہ جات کی 107.75 ارب ڈالر کی برآمدات کیں، جو اس کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 23 فیصد تھیں،اسی سال ویتنام کی مجموعی اشیا کی برآمدات تقریباً 475 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کی کل آبادی دس کروڑ سے کچھ زیادہ ہے
چین کا معاملہ اس سے بھی بڑا ہے۔ 2025 میں چین کی مربوط سرکٹس یعنی چپس کی برآمدات تقریباً 201.9 ارب ڈالر رہیں، جبکہ اس کی سیمی کنڈکٹر صنعت صرف ایک شعبہ ہے، پوری ہائی ٹیک معیشت نہیں
اور یہ تبدیلی صرف چین اور ویتنام تک محدود نہیں،عالمی دانشورانہ ملکیت کے ادارے کے مطابق 2025 میں دنیا کی 10 بڑی ہائی ٹیک برآمد کنندہ معیشتوں میں چین، امریکا، سنگاپور، جرمنی، جنوبی کوریا، نیدرلینڈز، ملائیشیا اور ویتنام شامل تھے،ان میں کئی ایشیائی ممالک نے مصنوعی ذہانت اور جدید الیکٹرانکس کی عالمی طلب سے فائدہ اٹھایا
جنوبی کوریا کی تازہ مثال تو اس تبدیلی کی رفتار بھی دکھاتی ہے،ستمبر 2026 میں اس کی سیمی کنڈکٹر برآمدات ایک ہی ماہ میں 60.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 262.8 فیصد زیادہ تھیں،مجموعی ستمبر برآمدات 120.9 ارب ڈالر کا ریکارڈ بن گئیں،اس اضافے کے پیچھے AI اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی عالمی طلب بنیادی محرکات میں شامل تھی
یہاں پاکستان کا اصل معاشی مسئلہ سامنے آتا ہے،سوال یہ نہیں کہ چاول برآمد کیوں کیے جائیں،یقیناً کیے جائیں،سوال یہ ہے کہ کیا چاول ہماری آخری منزل ہے یا ابتدائی سیڑھی؟
پاکستان میں زراعت آج بھی معیشت کا تقریباً 23 فیصد پیدا کرتی ہے، لیکن عالمی معیشت کی سب سے زیادہ قدر پیدا کرنے والی زنجیروں میں صرف خام یا نیم تیار زرعی اجناس بیچنے کے بجائے تحقیق، ٹیکنالوجی، برانڈ، پروسیسنگ، مشینری، ڈیٹا اور دانشورانہ ملکیت زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ پاکستان اپنی موجودہ صنعتی بنیاد بھی پوری قوت سے استعمال نہیں کر پا رہا،حکومت کے اپنے اقتصادی سروے کے مطابق جولائی تا مارچ 2025-26 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 0.5 فیصد کم ہوئیں،پورے مالی سال میں ٹیکسٹائل برآمدات معمولی 0.26 فیصد اضافے کے ساتھ 17.93 ارب ڈالر رہیں،جون 2026 میں ٹیکسٹائل برآمدات سال بہ سال 16.71 فیصد کم ہوئیں
صنعتی حلقوں نے اس سے بھی زیادہ سنگین تصویر پیش کی،ایف پی سی سی آئی کے مطابق مہنگی بجلی اور زیادہ ٹیکسوں کے باعث گزشتہ دو برس میں تقریباً 150 بڑی ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو چکی تھیں،ایک اور صنعتی رپورٹ میں صنعت کاروں نے گزشتہ 18 ماہ میں 150 سے زیادہ صنعتی یونٹس بند ہونے اور بعض شعبوں میں کارخانوں کے تقریباً نصف پیداواری استعداد پر چلنے کا دعویٰ کیا،یہ صنعت کاروں کے بیانات ہیں، سرکاری طور پر ہر بند یونٹ کی الگ تصدیق شدہ فہرست نہیں، لیکن صنعتی بحران کی سمت ضرور واضح کرتے ہیں
یہی وہ مقام ہے جہاں چاول کی خبر کو دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے
اگر ایک طرف 70 ہزار ٹن اضافی چاول کی ممکنہ 37.5 ملین ڈالر برآمد پر ریاست اسے قومی معیشت کے لیے ’’اہم سنگ میل‘‘ قرار دیتی ہے، اور دوسری طرف اسی معیشت میں ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، سیمی کنڈکٹرز، طبی تحقیق، جدید مشینری اور عالمی سپلائی چین میں پاکستان کا حصہ محدود رہتا ہے، تو بنیادی سوال چاول کا نہیں بلکہ معاشی سمت کا ہے
دنیا میں آج مقابلہ صرف اس بات پر نہیں ہو رہا کہ کون زیادہ گندم، چاول یا کپاس اگاتا ہے،مقابلہ اس بات پر ہے کہ کون اس زرعی پیداوار کو بہتر بیج، جدید مشین، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ، کولڈ چین، برانڈنگ اور عالمی تقسیم کے ذریعے کتنی زیادہ قدر میں تبدیل کرتا ہے
پاکستان اگر صرف چاول اگا کر خام یا نیم تیار چاول فروخت کرے گا تو اسے عالمی قیمت کا ایک حصہ ملے گا،اگر وہ زرعی تحقیق، بیج، آبپاشی کی ٹیکنالوجی، زرعی مشینری، فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ، برانڈنگ اور عالمی خوراکی کمپنیوں کے ساتھ مربوط سپلائی چین بناتا ہے تو اسی زمین اور اسی کسان سے پیدا ہونے والی قدر کئی گنا بڑھ سکتی ہے
یہی فرق ویتنام، چین، ملائیشیا اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی کہانی میں نظر آتا ہے،ان ممالک نے زراعت کو ترک نہیں کیا، بلکہ معیشت کی اگلی منزل صنعت اور ٹیکنالوجی بنائی،ویتنام آج چاول بھی برآمد کرتا ہے اور 107 ارب ڈالر سے زیادہ کے الیکٹرانکس اور کمپیوٹر بھی
پاکستان کے لیے اصل سوال اس لیے یہ نہیں کہ وزیراعظم کو چاول کی اضافی برآمد پر خوش ہونا چاہیے یا نہیں،کسان کو نئی منڈی ملے، ڈالر آئیں اور برآمد بڑھے تو یہ بلاشبہ مثبت پیش رفت ہے،اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس کامیابی کو ایک بڑے صنعتی اور ٹیکنالوجیکل منصوبے کی پہلی سیڑھی بنا رہی ہے، یا ہر محدود برآمدی اضافے کو معاشی تبدیلی کی علامت بنا کر پیش کرنے پر اکتفا کر رہی ہے؟
یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ پاکستان کو آج صرف مزید چاول بیچنے کی نہیں، زیادہ قدر پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے
ایک ایسے ملک میں جہاں 25 کروڑ سے زیادہ انسان بہتر تعلیم، علاج، روزگار، رہائش اور عالمی معیار کی زندگی کے خواب دیکھتے ہیں، صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ ایک اور منڈی میں 70 ہزار ٹن چاول فروخت ہوں گے،قوم کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اگلے 10 برس میں پاکستان عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں کہاں ہوگا، مصنوعی ذہانت کے کاروبار میں کیا حصہ لے گا، طبی تحقیق اور بائیوٹیکنالوجی میں کتنی سرمایہ کاری ہوگی، کتنے انجینئر اور سائنس دان تیار ہوں گے، کتنی صنعتی پیداوار مقامی ہوگی اور کتنی عالمی منڈی کے لیے بنائی جائے گی
سیاسی کشمکش، بدامنی، دہشت گردی، توانائی کی بلند قیمت، ٹیکس کا بوجھ اور صنعتی بندشیں اسی بڑے سوال سے جڑی ہوئی ہیں،سرمایہ کار اس ملک میں طویل مدتی فیکٹری لگاتا ہے جہاں پالیسی کا تسلسل، امن، قانون، بجلی کی قابل اعتماد قیمت، ہنرمند افرادی قوت اور سیاسی پیش بینی موجود ہو،ورنہ سرمایہ چاول کی طرح ایک بندرگاہ سے دوسری بندرگاہ نہیں جاتا، ملک ہی چھوڑ دیتا ہے
چنانچہ ملائیشیا کے لیے 70 ہزار ٹن چاول کی خبر کو نہ معمولی سمجھنا چاہیے، نہ اسے معاشی انقلاب سمجھنا چاہیے،یہ ایک سانس ضرور ہے، مگر ایک صحت مند معیشت کے لیے صرف سانس آ جانا کافی نہیں ہوتا،اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کب ایسی معیشت بنے گا جسے ہر چند ماہ بعد ایک چھوٹی برآمدی کامیابی کو قومی معاشی فتح کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت نہ پڑے
کیونکہ آنے والی دنیا میں مقابلہ یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان کتنے ٹن چاول فروخت کر سکتا ہے،مقابلہ یہ ہوگا کہ پاکستان ایک ٹن چاول سے کتنی قدر پیدا کر سکتا ہے، ایک انجینئر سے کتنی عالمی آمدنی کما سکتا ہے، ایک لیبارٹری سے کتنی دوا بنا سکتا ہے اور ایک چپ، ایک سافٹ ویئر یا ایک مصنوعی ذہانت کے نظام سے عالمی منڈی میں کتنے ڈالر حاصل کر سکتا ہے






