Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جدید ریاست کی منفرد تاریخی مثال : اسلام آباد میں کنٹینر ریاست،پولیس اور گڈز ٹرانسپورٹرز کی شراکت داری پر جمہوری ریاست پر خوفناک سوال کھڑے کردئیے

جدید ریاست کی منفرد تاریخی مثال : اسلام آباد میں کنٹینر ریاست،پولیس اور گڈز ٹرانسپورٹرز کی شراکت داری پر جمہوری ریاست پر خوفناک سوال کھڑے کردئیے

اسلام آباد میں سیاسی احتجاج اب صرف پولیس کی نفری، رکاوٹوں اور آنسو گیس کا مسئلہ نہیں رہا، ریاست نے احتجاج روکنے کے لیے استعمال ہونے والے کنٹینرز کو بھی ایک مستقل انتظامی ضرورت سمجھنا شروع کر دیا ہے،وفاقی دارالحکومت کی پولیس اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان طے پانے والے انتظامات جس کے تحت ٹرانسپورٹرز اور محکمہ پولیس کے درمیان معاہدہ ہوا ہے کہ کینٹینرز میں پولیس سرمایہ کاری کرے گی اور دونوں پاٹنر اپنی اپنی ضرورت کے وقت ان کنٹینرز کو استعمال کرسکیں گے ، نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان میں احتجاج اور سیاسی کشیدگی اس مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں ریاست کو شہریوں کے راستے کھولنے سے زیادہ انہیں بند رکھنے کے لیے مستقل سرمایہ کاری کرنا پڑ رہی ہے
اسلام آباد پولیس کے آئی جی محمد سہیل چوہدری نے گڈز ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں سے ملاقات میں کہا کہ قانون و امن کی صورتحال میں استعمال ہونے والے کنٹینرز کے مالکان کو کرایہ ادا کیا جائے گا،پولیس کے مطابق ضروری اشیائے خورونوش، ادویات اور خراب ہونے والی اشیا سے لدے کنٹینرز فوری طور پر مالکان کے حوالے کرنے کی ہدایت بھی دی گئی
لیکن اس انتظام کی اہمیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب اسے گزشتہ چند ہفتوں کی حقیقت کے ساتھ دیکھا جائے،ستمبر میں احتجاج کی تیاریوں کے دوران اسلام آباد، پنجاب اور دیگر علاقوں میں ہزاروں ٹرکوں اور کنٹینرز کو راستے بند کرنے کے لیے استعمال کیا گیا،ٹرانسپورٹرز کے مطابق تقریباً 2,700 گاڑیاں پولیس کی تحویل میں لی گئیں، جبکہ رائٹرز نے ستمبر میں 2,000 سے زائد گاڑیوں کے requisition کیے جانے اور سامان کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر خلل کی اطلاع دی
اسلام آباد میں کنٹینرز کی قیمت صرف ان کا کرایہ نہیں،ہر کنٹینر جو شاہراہ پر کھڑا کیا جاتا ہے، وہ ایک سپلائی لائن، ایک کاروباری سفر، ایک ڈرائیور کی روزی اور کسی شہر کی معیشت کے معمول کے بہاؤ کو بھی روک سکتا ہے،رائٹرز کے مطابق موجودہ بندشوں کے نتیجے میں کراچی کی بندرگاہ پر کارگو جمع ہونے لگا، ٹرک مالکان شمال کی طرف جانے سے گریز کر رہے ہیں اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے
اسی لیے اسلام آباد پولیس اور گڈز ٹرانسپورٹرز کا یہ انتظام محض ایک انتظامی معاہدہ نہیں، پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاسی معیشت کی ایک علامت بھی ہے،ایک طرف حکومت سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرتی ہے، دوسری طرف دارالحکومت کے راستوں پر کنٹینرز کھڑے کیے جاتے ہیں، پولیس ان کے لیے رقم مختص کرتی ہے اور ٹرانسپورٹرز کا کاروباری ڈھانچہ ریاست کے احتجاجی انتظام کا حصہ بن جاتا ہے،ستمبر میں صرف اسلام آباد میں 1,550 کنٹینرز کے لیے روزانہ 46.5 ملین روپے کرائے کی رقم بتائی گئی تھی اور احتجاج ایک ہفتہ مؤخر ہونے کے بعد اخراجات ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا
یہاں اصل سوال کنٹینر کا نہیں بلکہ ریاستی ترجیح کا ہے،جدید ریاست میں پولیس کا بنیادی کام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، قانون کا نفاذ اور شہریوں کے معمولات زندگی کو محفوظ بنانا ہے،لیکن جب سیاسی احتجاج ریاستی انتظام کا مستقل خطرہ بن جائے تو پولیس کا ایک حصہ سڑکیں کھولنے کے بجائے سڑکیں بند کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر وسائل خرچ کرنے لگتا ہے،اس مقام پر سکیورٹی اور شہری آزادی کے درمیان وہ کشمکش سامنے آتی ہے جس پر سیاسی سماجیات اور سکیورٹی اسٹڈیز کے ماہرین کئی دہائیوں سے بحث کرتے رہے ہیں
سکیورٹی کے بارے میں معروف ’’سکیورٹائزیشن‘‘ نظریے میں بیری بوزان، اولے ویور اور ان کے ساتھیوں کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جب کسی مسئلے کو معمول کی سیاست سے نکال کر ’’وجودی خطرے‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو ریاست کے لیے غیر معمولی اقدامات کی گنجائش پیدا ہوتی ہے،جدید علمی بحث میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ سکیورٹی کے نام پر غیر معمولی اقدامات سیاسی عمل، نگرانی، احتساب اور شہری آزادیوں کو کس طرح محدود کر سکتے ہیں
اسی نظریے کو پاکستان کی موجودہ صورتحال پر رکھیں تو ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے،آئین شہریوں کو اجتماع اور اظہار کی آزادی دیتا ہے، لیکن جب احتجاج کو ’’امن و امان‘‘ یا ’’سکیورٹی‘‘ کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے تو ریاست کا جواب سیاسی مذاکرات سے زیادہ پولیس، رکاوٹوں، گرفتاریوں، انٹرنیٹ بندش اور سڑکوں کی ناکہ بندی کی طرف منتقل ہو سکتا ہے،فریڈم ہاؤس کی 2026 کی پاکستان رپورٹ بھی لکھتی ہے کہ اگرچہ آئین آزادی اجتماع کی ضمانت دیتا ہے، حکومت بعض اجتماعات کو عوامی نظم کے لیے خطرہ قرار دے کر روک سکتی ہے اور بڑے سیاسی اجتماعات کے دوران غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں
دانشور کہتے ہیں جہاں کنٹینر ایک دھاتی ڈبے سے بڑھ کر ریاستی طاقت کی علامت بن جاتا ہے،وہ بیک وقت تین چیزیں ظاہر کرتا ہے،ریاست کے پاس طاقت ہے، ریاست کے پاس وسائل ہیں، اور ریاست نے سیاسی تصادم کو ایک مستقل سکیورٹی مسئلے کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے
پاکستان کے وفاقی بجٹ میں 2026-27 کے لیے دفاعی امور اور خدمات کے لیے تقریباً 3.011 ٹریلین روپے جبکہ ’’پبلک آرڈر اینڈ سیفٹی‘‘ کے لیے تقریباً 389.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں پولیس اور سول آرمڈ فورسز کا بڑا حصہ شامل ہے،پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے بھی گزشتہ بجٹوں کا جائزہ لیتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ وفاقی بجٹ میں دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کا حصہ بہت بڑا رہا ہے جبکہ تعلیم اور صحت کا حصہ انتہائی محدود ہے
یہ اعداد خود یہ ثابت نہیں کرتے کہ ہر سکیورٹی خرچ شہری حقوق کے خلاف ہے،ریاست کو دہشت گردی، جرائم اور حقیقی خطرات سے نمٹنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی اداروں پر خرچ کرنا ہی پڑتا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ سیاسی اختلاف اور شہری احتجاج کو کس حد تک مستقل سکیورٹی خطرہ سمجھا جائے اور اس کے لیے کتنے وسائل مختص کیے جائیں؟
دنیا بھر کی ریاستوں میں پولیس مختلف نوعیت کے رکاوٹی آلات اور گاڑیاں استعمال کرتی ہے، اور حکومتیں نجی شعبے سے عارضی طور پر گاڑیاں یا سامان بھی حاصل کرتی ہیں،اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ دنیا میں کسی حکومت نے کبھی نجی شعبے سے ایسی چیزیں حاصل نہیں کیں،لیکن اسلام آباد کے موجودہ معاملے کی غیر معمولی بات اس کا سیاسی تناظر اور اس کا ممکنہ مستقل انتظامی ڈھانچہ ہے،سیاسی احتجاج کے لیے درکار کنٹینرز کی دستیابی کو پولیس کے مستقل انتظامی مسئلے کے طور پر دیکھنا اور ٹرانسپورٹرز کے ساتھ اس استعمال کا باقاعدہ مالی بندوبست کرنا
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ سکیورٹی کے جدید علمی مباحث میں ایک بنیادی خدشہ یہی ہے کہ جب ’’خطرہ‘‘ ریاستی پالیسی کا مرکزی حوالہ بن جائے تو معمول کی سیاست پیچھے چلی جاتی ہے،آکسفورڈ کی ایک حالیہ علمی بحث میں سکیورٹائزیشن کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے کہ سکیورٹی کے دائرے کو مسلسل وسیع کرنے سے سیاسی عمل، جمہوری نگرانی اور احتساب کمزور ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہےایک اور علمی مطالعہ میں یہ استدلال سامنے آتا ہے کہ سکیورٹی کے اداروں کو اس طرح استعمال کرنا کہ ایک گروہ کے تحفظ کے لیے دوسرے گروہ کو دبایا جائے، شہری حقوق کو غیر مساوی بنا سکتا ہے
پاکستان میں اس بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ریاست شہریوں سے صرف یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ قانون کی پابندی کریں، بلکہ سیاسی بحران کے ہر نئے مرحلے پر ریاستی مشینری کو مزید وسائل اس بات کے لیے درکار ہوتے جا رہے ہیں کہ شہری ایک جگہ جمع نہ ہو سکیں، ایک شہر میں داخل نہ ہو سکیں یا کسی شاہراہ تک نہ پہنچ سکیں
یوں سوال یہ نہیں رہتا کہ کنٹینر کس کا ہے،سوال یہ بن جاتا ہے کہ ریاست کس چیز میں سرمایہ کاری کر رہی ہے،شہریوں کے لیے محفوظ راستوں میں یا شہریوں کے راستے بند کرنے کی صلاحیت میں؟
اگر ایک جمہوری ریاست میں سیاسی اختلاف کا جواب مذاکرات، پارلیمنٹ، عدالت، انتخابات اور پرامن اجتماع کے بجائے ہر بار مزید کنٹینرز، مزید نفری، مزید ناکہ بندی اور مزید سکیورٹی بجٹ بنتا جائے تو یہ صرف قانون و امن کا انتظام نہیں رہتا،یہ ریاست اور شہری کے تعلق کی نوعیت بدلنے لگتا ہے
اسلام آباد میں کھڑا ایک کنٹینر اس لیے محض ایک رکاوٹ نہیں،وہ ایک ایسے سیاسی نظام کا استعارہ بن گیا ہے جس میں ریاست اپنے شہریوں کو سہولت دینے سے پہلے یہ حساب لگانے لگی ہے کہ اگلا احتجاج کہاں ہوگا، کتنے کنٹینر درکار ہوں گے اور انہیں کتنے دن تک کھڑا رکھنا پڑے گا
اور شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے بڑا سوال ہے،کیا ریاست کی طاقت کا مقصد شہریوں کے لیے راستے محفوظ رکھنا ہے، یا سیاسی بحران کے وقت راستے بند کرنے کی صلاحیت کو مستقل بنانا؟

قومی خبریں سے مزید