ایک فیصلے کے بعد عدالت میں پولیس افسر پر مکوں کی بارش، پانچ اہلکار گرفتار: پنجاب کے ’جعلی مقابلوں‘ پر پہلی بڑی گرفت
لاہور ہائیکورٹ میں جمعہ کو ایک ایسے مقدمے کی سماعت نے اچانک ڈرامائی رخ اختیار کرلیا جس کے مرکز میں پولیس کا مبینہ جعلی مقابلہ نہیں بلکہ وہ پورا نظام ہے جس پر پنجاب میں سینکڑوں شہریوں کو پولیس مقابلوں میں مارے جانے کے الزامات لگ رہے ہیں،عدالت نے قصور کے سابق ایس ایچ او حسن عمران سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کی عبوری ضمانتیں خارج کیں تو عدالتی احاطے میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور وکلا نے پولیس افسر کو گھیر لیا
جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے پانچوں اہلکاروں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کیں،مقدمہ قصور کے تھانہ مصطفیٰ آباد میں 2024 میں درج ہوا تھا،مدعی کے وکیل کے مطابق پولیس نے ان کے بھائی کو ڈکیتی کے مقدمے میں گرفتار کیا، مگر بعد میں اسے دوران حراست ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا،معاملے کی تفتیش وفاقی تحقیقاتی ادارے نے بھی کی اور مدعی کے مطابق ایف آئی اے کی تحقیقات میں پولیس اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیا گیا
فیصلہ آتے ہی عدالت کے باہر معاملہ قانونی بحث سے نکل کر شدید کشیدگی میں تبدیل ہوگیا،رپورٹ کے مطابق وکلا نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں کو ضمانت خارج ہونے کے باوجود گرفتار نہیں کیا جارہا،اس دوران وکلا نے سابق ایس ایچ او کو گھیر لیا اور اس پر تھپڑ اور مکے برسائے،عدالت کی سکیورٹی نے پولیس افسر کو ہجوم سے نکال کر سکیورٹی روم منتقل کیا، جس کے بعد ہائیکورٹ کے احاطے میں وکلا کی بڑی تعداد جمع ہوگئی
بعد ازاں پولیس نے پانچوں اہلکاروں کو گرفتار کرلیا،رپورٹ کے مطابق انہیں ہتھکڑیاں لگا کر ہائیکورٹ سکیورٹی سے حاصل کیا گیا اور پرانی انارکلی تھانے منتقل کردیا گیا،یعنی عدالت میں آج کا بنیادی واقعہ صرف ضمانت مسترد ہونا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے مقدمے میں نامزد پولیس اہلکاروں کا بالآخر عدالتی احاطے سے حراست میں لیا جانا تھا جس میں دوران حراست قتل اور جعلی مقابلے کے الزامات ہیں
اس کیس میں ایک اور اہم پہلو ایف آئی اے کی تفتیش ہے،مدعی کے وکیل کے مطابق معاملہ صرف پولیس کے اپنے بیان تک محدود نہیں رہا بلکہ ایف آئی اے نے بھی دوران حراست موت کی تحقیقات کی اور ملزمان کو ذمہ دار قرار دیا،یہی وجہ ہے کہ آج کی ضمانت کا فیصلہ محض ایک معمول کی ضمانتی کارروائی سے زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے،
آج کا واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ لاہور ہائیکورٹ خود ماضی میں یہ اصول واضح کرچکی ہے کہ کسی شخص کو محض خطرناک یا سخت گیر مجرم قرار دے کر قانونی کارروائی کے بغیر پولیس مقابلے میں مارنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا،عدالت کے قانونی تحقیقی بلیٹن میں جعلی مقابلوں کے بارے میں واضح کیا گیا کہ ریاستی ادارے قانون کے مقرر کردہ طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کرسکتے اور پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کی آزادانہ نگرانی ضروری ہے
یہ ایک کیس پنجاب میں سامنے آنے والے اس کہیں بڑے تنازعے کا حصہ ہے جس نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلا کو تشویش میں مبتلا کیا ہے،انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق 2025 میں پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سے متعلق 707 پولیس مقابلوں میں 977 مشتبہ افراد مارے گئے،HRCP نے ان اعداد و شمار پر اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے
وکلا کی ایک درخواست میں اس سے بھی زیادہ تعداد، تقریباً 1,100 ہلاکتوں، کا دعویٰ کیا گیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں مبینہ جعلی مقابلوں کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں،اس درخواست میں 2022 کے انسدادِ حراستی موت کے قانون کے تحت ایف آئی اے کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا سوال بھی اٹھایا گیا تھا
دوسری طرف پولیس کا مؤقف اس سے بالکل مختلف ہے،پنجاب پولیس نے عدالت میں جعلی مقابلوں کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے اقدامات کے بعد جرائم میں کمی آئی ہے،یوں عدالت کے سامنے اصل کشمکش دو دعووں کے درمیان ہے،پولیس کے مطابق یہ خطرناک جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی ہے، جبکہ درخواست گزار اور انسانی حقوق کے حلقے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا کسی ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر اس کی جان لینے کا اختیار پولیس کو دیا جاسکتا ہے
آج لاہور ہائیکورٹ میں جو کچھ ہوا، اس کا سب سے حساس پہلو شاید یہی ہے کہ جس ادارے پر شہری کو قانون کے سامنے لانے کی ذمہ داری ہے، اسی ادارے کے اہلکار خود ایک شہری کی مبینہ ماورائے عدالت ہلاکت کے مقدمے میں عدالت کے سامنے ملزم کی حیثیت سے کھڑے تھے،ضمانت خارج ہوئی، پولیس اہلکار گرفتار ہوئے اور عدالت کے احاطے میں وکلا کا غصہ جسمانی تصادم تک پہنچ گیا
لیکن وکلا کی طرف سے پولیس افسر پر تشدد خود قانون کی بالادستی کے سوال کو پیچیدہ بناتا ہے،ایک طرف وہ مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف انصاف کا مطالبہ کررہے تھے، دوسری طرف عدالت کے احاطے میں تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا،اس تضاد نے آج کے واقعے کو صرف پولیس کے احتساب کا واقعہ نہیں رہنے دیا بلکہ ریاستی طاقت، عدالتی عمل اور قانون کے نفاذ کے پورے کلچر پر سوال بنا دیا ہے
پنجاب میں پولیس مقابلوں کا اصل امتحان اب یہی ہے کہ کیا ایسے مقدمات میں صرف چند اہلکاروں کی ضمانتیں خارج ہوں گی یا عدالتیں ان واقعات کے پیچھے موجود پورے طریقہ کار، تفتیش، ایف آئی اے کی ذمہ داری، پولیس ریکارڈ اور ہر ہلاکت کے آزادانہ فرانزک جائزے تک جائیں گی،آج کا فیصلہ اس بحث میں ایک نمایاں قدم ضرور ہے، لیکن تقریباً ایک ہزار ہلاکتوں سے متعلق وسیع تر سوال کا جواب ابھی باقی ہے
آج لاہور ہائیکورٹ میں پانچ پولیس اہلکاروں کی گرفتاری ایک مقدمے کا اگلا مرحلہ ہے،اصل تاریخی سوال یہ ہوگا کہ کیا یہ کارروائی پنجاب میں ’مقابلے‘ کے نام پر ہونے والی ہر مشتبہ ہلاکت کے لیے جواب دہی کا دروازہ کھولتی ہے، یا یہ بھی ایک محدود مقدمہ بن کر رہ جائے گی،اس سوال کے جواب میں ملک میں موجود سماجی سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں عدالتوں میں ایسے واقعات کے خلاف مقدمات کی سماعتیں ڈھوکسلے کے سوا کچھ نہیں کہ پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی اکثریت ایسے غریب مبینہ جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ہے جنکی سماجی حثیت نہ ہونے کے برابر ہے اور جنکے لواحقین دو وقت کی روٹی کے حصول میں رات دن حالت جنگ میں ہیں انکی اتنی سکت نہیں کہ وہ مقدمات کی پیروی کرسکیں جبکہ پولیس کے ہاتھوں مرنے والوں میں ایک مخصوص تعداد وہ ہے جنکی اوپر تک رسائ تو ہے مگر حکمراں اشرافیہ سے انکی سیاسی سماجی مخالفت و رقابت کے نتیجے میں ہی انکے عزیز پولیس کے ہاتھوں مروائے گئے ہیں جبکہ ان تجزیہ نگاروں اور سماجی و سیاسی دانشوروں کا کہنا ہے میاں نواز شریف خاندان کی پنجاب میں حکمرانی کے دوران پولیس نے سب سے زیادہ پولیس مقابلوں میں عوامی سطح پر قتل عام کیا ہے جبکہ شہباز شریف نے اس مذموم طریقہ حکمرانی کے ذریعے سب سے زیادہ قتل کروائے جبکہ نواز شریف کی بیٹی نے اپنے باپ اور چچا کے تمام ریکارڈ ہی توڑ دیئے ہیں






