عمران خان سے ایک ملاقات نے حکومت اور لانگ مارچ کے درمیان آخری دروازہ کھول دیا، مذاکرات میں اصل شرط کیا ہے؟
اسلام آباد میں 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے صرف دو روز پہلے حکومت اور تحریک انصاف براہ راست مذاکرات کی میز پر آگئے ہیں، لیکن اصل کشمکش مذاکرات کے کمرے میں نہیں بلکہ اڈیالہ جیل میں ہے، جہاں عمران خان سے ملاقات کو اپوزیشن نے سیاسی حل کی بنیادی شرط بنا دیا ہے،آج قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں حکومت اور تحریک انصاف کے وفود کی پہلی باضابطہ نشست ہوئی، جبکہ دونوں طرف گزشتہ کئی ہفتوں سے پسِ پردہ رابطوں کا سلسلہ بھی جاری تھا
تحریک انصاف کے وفد میں بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں،حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی سمیت دیگر رہنما شامل ہیں
مذاکرات کی اصل اہمیت اس لیے ہے کہ تحریک انصاف نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت لانگ مارچ رکوانا چاہتی ہے تو صرف سیاسی وفد سے بات کافی نہیں ہوگی،اپوزیشن کی طرف سے عمران خان سے ملاقات، ان کی طبی سہولتوں اور قانونی و سیاسی معاملات میں پیش رفت کو بنیادی مطالبات کے طور پر سامنے رکھا گیا ہے،بیرسٹر گوہر کے مطابق حکومت اگر لانگ مارچ ختم کرانا چاہتی ہے تو عمران خان سے ملاقات، مناسب طبی علاج اور انصاف تک رسائی جیسے معاملات پر پیش رفت ضروری ہے
علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی مذاکرات کے وقفے میں یہی مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان سے ملاقات ہو جائے تو بہت سی چیزیں بہتر ہوسکتی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سیاست دان ہیں اور ان سے براہ راست بات چیت سے راستہ نکل سکتا ہے،دوسری طرف حکومتی وفد کی طرف سے بنیادی سوال یہ سامنے آیا کہ اگر عمران خان نے لانگ مارچ روکنے سے اتفاق نہ کیا تو پھر مذاکرات کا نتیجہ کیا ہوگا،اس کے جواب میں اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ پہلے ملاقات تو ہو، ایک ملاقات سے سیاسی راستہ بند نہیں بلکہ کھل سکتا ہے
یہاں اصل اختلاف صرف ملاقات کا نہیں بلکہ اختیار اور ضمانت کا ہے،تحریک انصاف یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ وہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر عمران خان سے الگ کوئی فیصلہ کر رہی ہے، جبکہ حکومت یہ جاننا چاہتی ہے کہ اگر وہ سیاسی اور انسانی معاملات میں کچھ گنجائش پیدا کرتی ہے تو اس کے بدلے لانگ مارچ واقعی ختم ہوگا یا صرف مؤخر کیا جائے گا،یہی سوال گزشتہ کئی ہفتوں کے غیر رسمی رابطوں میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا رہا ہے
28 ستمبر کو میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ گزشتہ چار سے پانچ ہفتوں میں تحریک انصاف اور حکام کے درمیان چھ سے زائد پسِ پردہ ملاقاتیں ہوچکی تھیں، مگر لانگ مارچ کے معاملے پر تعطل ختم نہیں ہوسکا،ان رابطوں میں بنیادی سوال یہ تھا کہ تحریک انصاف لانگ مارچ مکمل طور پر واپس لے گی یا صرف تاریخ آگے بڑھائے گی،انہی ذرائع کے مطابق حکومت اور ریاستی حلقوں کی جانب سے سیاسی گنجائش پیدا کرنے کی بات کی گئی، لیکن احتجاج، تشدد، سڑکوں کی بندش اور اسلام آباد کی طرف مارچ کو ناقابل قبول قرار دیا گیا
ایک اور رپورٹ میں چھ سے سات اہم پسِ پردہ رابطوں کا ذکر کیا گیا،اس رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر تحریک انصاف تصادم، سڑکوں کی بندش اور مارچ کی سیاست سے گریز کا واضح عہد کرے تو عمران خان سے ملاقات، ان کے علاج اور اسپتال منتقلی جیسے انسانی معاملات میں گنجائش پیدا ہوسکتی ہے،
تحریک انصاف نے دوسری طرف مذاکرات کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کرنے سے گریز کیا ہے،علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر پیشگی شرائط کے بغیر،ساتھ ہی انہوں نے لانگ مارچ کو پرامن قرار دیا اور کہا کہ اس کے بارے میں کوئی غلط بیانیہ پیدا نہیں ہونا چاہیے
لانگ مارچ خود بھی کئی مرتبہ تاریخ بدل چکا ہے،ابتدا میں احتجاج اور اسلام آباد مارچ 27 ستمبر کے لیے مقرر تھا، جسے تحریک انصاف نے بعد میں 4 اکتوبر تک مؤخر کیا،پارٹی کی وضاحت تھی کہ حکومت کو مزید وقت دیا جارہا ہے اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے،دوسری جانب حکومت نے اسلام آباد اور اہم راستوں پر حفاظتی انتظامات اور رکاوٹیں قائم کیں ہیں اور اسلام آباد کو مکمل سیل کردیا ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ لانگ مارچ اس وقت ختم نہیں ہوا،4 اکتوبر کی کال برقرار ہے،آج کی مذاکراتی نشست اسے روکنے یا مؤخر کرنے کے لیے ایک سیاسی راستہ ضرور کھولتی ہے، لیکن جب تک تحریک انصاف باضابطہ طور پر مارچ واپس لینے کا اعلان نہیں کرتی، اسے ختم شدہ سمجھنا درست نہیں ہوگا،عرب نیوز نے بھی آج رپورٹ کیا کہ تحریک انصاف نے مذاکرات کے باوجود 4 اکتوبر کے مارچ کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے
حکومت کی طرف سے دباؤ کے آثار کا اندازہ اس کے اقدامات سے لگایا جاسکتا ہے، نہ کہ محض سیاسی بیانات سے،اسلام آباد کے راستوں پر کنٹینرز، اضافی سکیورٹی اور دیگر انتظامات پہلے ہی کیے جاچکے ہیں،رائٹرز کے مطابق کنٹینرز کی بڑے پیمانے پر ضبطی نے ملک کے مال بردار نظام کو بھی متاثر کیا ہے اور سڑکوں پر رکاوٹوں کے باعث ٹرانسپورٹ اور رسد کا نظام دباؤ میں آیا ہے
اسی دوران حکومت نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بھی مختلف آئینی راستوں پر غور شروع کیا ہے، جن میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات بھی زیر بحث آئے ہیں۔ یکم اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات میں صوبے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر غور ہوا اور اس ملاقات کا مقصد تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور تحریک انصاف سے مذاکرات میں حکمت عملی طے کرنا تھا
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا آج کے مذاکرات صرف لانگ مارچ کو چند دن آگے بڑھانے کی کوشش بنیں گے یا عمران خان سے براہ راست ملاقات کے ذریعے کوئی ایسا سیاسی فارمولا نکلے گا جس سے تحریک انصاف احتجاج ختم کرنے پر آمادہ ہوجائے،تحریک انصاف کے لیے عمران خان سے ملاقات صرف ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ مذاکرات کی سیاسی حیثیت کا سوال بن چکی ہے، جبکہ حکومت کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ ایسی ملاقات یا کسی رعایت کے بدلے اسے احتجاج ختم ہونے کی قابلِ اعتبار یقین دہانی کیسے ملے گی
اس وقت اصل امتحان 4 اکتوبر سے پہلے کے اگلے 48 گھنٹے ہیں،اگر عمران خان سے ملاقات، طبی سہولتوں اور قانونی معاملات پر کوئی قابلِ قبول پیش رفت سامنے آتی ہے اور تحریک انصاف مارچ واپس لینے کا اعلان کرتی ہے تو آج کے مذاکرات ایک بڑے سیاسی تصادم کو روکنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں،اگر ملاقات نہ ہوئی، یا حکومت اور تحریک انصاف اس بات پر متفق نہ ہوسکے کہ مذاکرات کے بدلے لانگ مارچ کا کیا ہوگا، تو 4 اکتوبر کی کال اپنی جگہ برقرار رہے گی اور مذاکرات ایک ایسے بحران کے درمیان جاری رہیں گے جس میں دونوں فریق پہلے ہی اپنی سیاسی سرخ لکیریں واضح کرچکے ہیں






