Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

وزیراعظم واپس آ گئے، اب فیصلہ کن مرحلہ؟ حافظ نعیم کا حیدرآباد سے حکومت کو آخری پیغام، اسلام آباد مارچ پھر زیرِ غور

وزیراعظم واپس آ گئے، اب فیصلہ کن مرحلہ؟ حافظ نعیم کا حیدرآباد سے حکومت کو آخری پیغام، اسلام آباد مارچ پھر زیرِ غور

حیدرآباد :پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم ایک نئے موڑ میں داخل ہوگئی ہے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے 30 ستمبر کو حیدرآباد میں منعقدہ “لیوی ختم کرو جلسے” میں حکومت پر واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی بیرون ملک مصروفیات ختم ہوچکی ہیں، اب حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لیے مزید تاخیر کی گنجائش نہیں،جماعت اسلامی کے مطابق اگر پٹرولیم لیوی واپس نہ لی گئی تو اسلام آباد میں احتجاج کو فیصلہ کن مرحلے میں لے جایا جائے گا
حافظ نعیم الرحمن کی موجودہ مہم کا مرکزی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے،ان کا مؤقف ہے کہ حکومت نے عوام کو براہ راست ریلیف دینے کے بجائے محدود مالی رعایت کی بات کی ہے، جبکہ جماعت اسلامی مکمل لیوی واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے،اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک سے حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی اور پاکستان واپسی پر ملاقات اور مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کی یقین دہانی کرائی تھی
حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم کی درخواست پر احتجاجی مارچ عارضی طور پر مؤخر کیا، تاہم دھرنے اور احتجاجی کیمپ ختم نہیں کیے گئے،جماعت اسلامی کے مطابق اس وقت ملک کے مختلف مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں اور حکومت کو لیوی ختم کرنے کے لیے ایک آخری موقع دیا گیا،20 ستمبر کو کراچی سے اسلام آباد کے لیے ٹرین مارچ شروع کیا گیا، جو جماعت اسلامی کی احتجاجی حکمت عملی کا اگلا بڑا مرحلہ تھا
یہاں “فیز 2” کی اصطلاح بھی اہم ہے،جماعت اسلامی نے دراصل احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ جولائی میں ہی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ملک بھر میں شاہراہوں کی بندش، دھرنوں اور عوامی رابطہ مہم کا پروگرام بنایا گیا تھا،بعد میں 20 ستمبر کو کراچی سے اسلام آباد جانے والے ٹرین مارچ کو بھی احتجاج کے دوسرے مرحلے کے طور پر بیان کیا گیا، جبکہ 21 ستمبر کو حیدرآباد اور سندھ سے آگے بڑھنے والا قافلہ اسی مارچ کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوا
حیدرآباد اس تحریک میں ابتدا ہی سے اہم مرکز رہا ہے،حیدر چوک پر جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا شروع ہوا تھا جس میں مقامی جماعتی کارکنوں کے ساتھ تاجروں، طلبہ، مزدوروں، وکلا اور شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت رپورٹ ہوئی۔ تاہم 30 ستمبر کے موجودہ جلسے کے شرکا کی درست تعداد کسی معتبر دستیاب رپورٹ میں جاری نہیں کی گئی، اس لیے اس جلسے کے حجم کے بارے میں کوئی مخصوص عدد دینا قبل از وقت ہوگا
حافظ نعیم الرحمن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حکومت اگر مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو احتجاج کو دھرنوں سے آگے بڑھایا جائے گا،27 ستمبر کو انہوں نے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، کراچی اور دیگر شہروں میں بڑے جلسوں اور ملک گیر دستخطی مہم کا اعلان بھی کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ وزیراعظم کی واپسی کے بعد بات چیت کا راستہ کھلا رہے گا، لیکن ریلیف نہ ملنے کی صورت میں لانگ مارچ دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے
اب اصل سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کی واپسی کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ہونے والی بات چیت پٹرولیم لیوی کے معاملے کو حل کرتی ہے یا نہیں،جماعت اسلامی پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ اگر لیوی واپس نہ لی گئی تو اسلام آباد کی جانب مارچ کا راستہ دوبارہ اختیار کیا جائے گا،یوں حیدرآباد کا آج کا جلسہ محض ایک مقامی احتجاج نہیں بلکہ اس ملک گیر مہم کے اگلے مرحلے کے لیے عوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے

قومی خبریں سے مزید