Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

عراق سے امریکی افواج کا انخلا، خوشی کے ساتھ یا سکیورٹی خلا کا خوف

عراق سے امریکی افواج کا انخلا، خوشی کے ساتھ یا سکیورٹی خلا کا خوف

عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد آخری امریکی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ ایک طویل جنگی دور اختتام پذیر ہوگیا ہے، تاہم امریکی افواج کی روانگی نے عراقی عوام میں خوشی کے ساتھ مستقبل کی سکیورٹی کے بارے میں تشویش بھی پیدا کردی ہے
رائٹرز کے مطابق آخری امریکی فوجی، جن میں زیادہ تر کردستان کے خودمختار علاقے اربیل کے ایک فوجی اڈے سے روانہ ہوئے، عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے ایک بڑے باب کے اختتام کی علامت ہیں،بغداد اور شیعہ مقدس شہر نجف میں عراقی فورسز نے فوجی گاڑیوں کے ساتھ پریڈ کرکے امریکی انخلا کا خیرمقدم کیا
2003 میں امریکی قیادت میں ہونے والی فوجی کارروائی نے صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ کیا، لیکن اس کے بعد عراق کئی برس تک جنگ، فرقہ وارانہ تشدد اور بدامنی کا شکار رہا،عراقی سکیورٹی فورسز اب ملک کی سلامتی کی بنیادی ذمہ داری سنبھالیں گی، جبکہ پینٹاگون کے مطابق امریکہ عراقی شراکت داروں کو تربیت اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کرتا رہے گا
انخلا کے باوجود عراق میں یہ خدشہ موجود ہے کہ امریکی فوجی موجودگی ختم ہونے سے ایران نواز مسلح گروہوں کو مزید اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے یا شدت پسند تنظیم داعش دوبارہ اپنی سرگرمیاں بڑھانے کی کوشش کر سکتی ہے،ایران اور اس کے اتحادیوں نے امریکی فوج کے انخلا کو خطے سے امریکی افواج کے خاتمے کی اپنی مہم میں کامیابی قرار دیا ہے
رائٹرز کے مطابق بہت سے عراقی امریکی فوجیوں کے جانے کو خودمختاری کی بحالی کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہیں یہ سوال بھی درپیش ہے کہ اب ملک کی سکیورٹی کون یقینی بنائے گا اور کیا عراقی فورسز بیرونی مدد کے بغیر ممکنہ خطرات سے مؤثر طور پر نمٹ سکیں گی

قومی خبریں سے مزید