Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل جانے والی فلائی دبئی پرواز میں عمانی معاون پائلٹ کا مبینہ حملہ، طیارہ 14 ہزار فٹ نیچے آ گیا، مسافروں اور پائلٹوں نے بڑا حادثہ ٹال دیا

اسرائیل جانے والی فلائی دبئی پرواز میں عمانی معاون پائلٹ کا مبینہ حملہ، طیارہ 14 ہزار فٹ نیچے آ گیا، مسافروں اور پائلٹوں نے بڑا حادثہ ٹال دیا

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں بدھ کی صبح کاک پٹ کے اندر ایک انتہائی سنگین واقعہ پیش آیا، جب مبینہ طور پر عمانی شہری معاون پائلٹ نے کپتان پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھال کر اسے تباہ کرنے کی کوشش کی، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واقعے کو انتہائی سنگین سکیورٹی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر طیارے کو مسافروں سمیت گرانے کی کوشش کی گئی، تاہم حملے کا حتمی مقصد ابھی تحقیقات کا موضوع ہے
بوئنگ 737 میکس 8 میں تقریباً ڈھائی گھنٹے کی پرواز کے بعد اچانک خطرناک صورت حال پیدا ہوئی،فلائٹ ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق طیارہ تقریباً 33 سے 34 ہزار فٹ کی بلندی سے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 17 ہزار فٹ تک نیچے آ گیا، جبکہ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 30 سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں 14 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی کھوئی گئی،طیارے سے پہلے ہنگامی سگنل اور پھر ہائی جیکنگ سے متعلق ہنگامی کوڈ بھی منتقل ہوا، جس پر اسرائیل نے اپنے جنگی طیارے فضا میں بھیج دیے
صورتحال اس وقت قابو میں آئی جب طیارے میں موجود مسافروں اور عملے کے ارکان نے کاک پٹ میں مداخلت کی،رائٹرز کے مطابق مسافروں اور عملے کے ایک رکن نے کاک پٹ میں داخل ہو کر حملہ آور کو قابو کیا، جبکہ طیارے میں اتفاقاً موجود دو مسافر اضافی پائلٹوں نے بعد میں طیارے کو سنبھالنے اور محفوظ لینڈنگ میں مدد دی،اسرائیلی وزیراعظم نے کہاہے کہ مسافروں کی بروقت مداخلت نے بڑے سانحے کو روک دیا
ایک مسافر، جو حملہ آور کو قابو کرنے والوں میں شامل تھا، نے بتایا کہ اس کی اہلیہ نے کاک پٹ سے چیخنے کی آوازیں سنیں اور قریب بیٹھے ایک اضافی پائلٹ کو صورت حال دیکھنے کے لیے بلایا،اس کے بعد وہ اور دو دیگر افراد کاک پٹ میں داخل ہوئے اور حملہ آور کو قابو کیا،ایک ڈاکٹر بھی طیارے میں موجود تھا جس نے زخمی کپتان کو ابتدائی طبی امداد دی
طیارے کو اسرائیل کے بجائے سعودی عرب کے شمال مغربی شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی،سعودی حکام کے مطابق کپتان اور معاون پائلٹ دونوں زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ سعودی حکام نے مبینہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا،طیارے میں سوار تمام مسافر محفوظ رہے
واقعے کا ایک اہم پہلو پائلٹوں کی شناخت اور سکیورٹی جانچ بھی بن گیا ہے،رائٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے معاون پائلٹ کو عمانی شہری بتایا ہے، جبکہ دیگر رپورٹس میں کپتان کو اماراتی شہری بتایا گیا ہے،اسرائیلی حکام اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسرائیل جانے والی پرواز میں ایک ایسے ملک کے شہری کو پائلٹ کے طور پر تعینات کرنے کا طریقہ کار کیا تھا جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں،تاہم یہ دعویٰ درست نہیں ہوگا کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر متحدہ عرب امارات سے اس معاملے پر شکایت کر دی ہے،ایسی سرکاری شکایت کی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی
یہ واقعہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان 2020 میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے فضائی رابطوں کے تناظر میں بھی اہم ہے،فلائی دبئی ان چند خلیجی فضائی کمپنیوں میں شامل ہے جو اسرائیل کے لیے پروازیں چلا رہی ہیں،واقعے کے بعد اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سعودی حکام کی جانب سے گرفتار کیے گئے معاون پائلٹ سے پوچھ گچھ بھی کی جا رہی ہے
ابتدائی اسرائیلی جائزے میں واقعے کو ممکنہ دہشت گرد حملہ قرار دینے کا امکان زیرِ غور ہے، لیکن یہ نتیجہ ابھی حتمی نہیں ہے،اسرائیلی میڈیا میں پائلٹوں کے درمیان ذاتی تنازعہ اور دیگر ممکنہ وجوہات بھی زیرِبحث رہی ہیں، جبکہ فلائی دبئی نے فی الحال صرف اتنا کہا ہے کہ پرواز کو دورانِ سفر ایک واقعے کا سامنا ہوا، طیارہ بحفاظت تبوک پہنچا اور تمام مسافر محفوظ ہیں،کمپنی نے واقعے کی وجہ یا محرک کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی
اس واقعے نے ایک انتہائی غیر معمولی سوال بھی اٹھا دیا ہے: اگر طیارے میں اتفاقاً اضافی تربیت یافتہ پائلٹ اور بروقت مداخلت کرنے والے مسافر موجود نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟ فی الحال تحقیقات کا اہم حصہ یہی معلوم کرنا ہے کہ کاک پٹ میں چاقو کیسے پہنچا، پائلٹ کو دوسرے پائلٹ پر حملے کا موقع کیسے ملا، طیارہ اتنی تیزی سے نیچے کیوں آیا اور حملہ واقعی طیارہ تباہ کرنے کی دانستہ کوشش تھی یا پائلٹوں کے درمیان کسی تنازع کا نتیجہ

قومی خبریں سے مزید