کارنیل یونیورسٹی میں جنسی تشدد کے 1200 سے زائد واقعات رپورٹ، ذمہ دار قرار دیے گئے افراد میں صرف چند کو نکالا گیا
امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے کی خصوصی تحقیقات کے مطابق کارنیل یونیورسٹی میں 2018 سے 2024 کے دوران جنسی حملوں، ڈیٹنگ اور گھریلو تشدد اور تعاقب کے 1,200 سے زیادہ واقعات یونیورسٹی کے ٹائٹل نائن دفتر کو رپورٹ کیے گئے
اعداد و شمار کے مطابق یونیورسٹی نے ان واقعات میں سے صرف 162 کیسز میں طلبہ یا ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی،ان میں سے 51 افراد کو کم از کم ایک الزام میں ذمہ دار قرار دیا گیا،تاہم ذمہ دار قرار دیے گئے زیادہ تر افراد کو ایسی نسبتاً معمولی سزائیں دی گئیں جن کے بعد وہ کیمپس میں رہ سکتے تھے، جن میں زیرِنگرانی رہنا اور تربیتی پروگرام شامل تھے
تحقیقات کے مطابق 14 کیسز میں معطلی کی سزا دی گئی، جبکہ صرف 7 کیسز میں طالب علم کو یونیورسٹی سے نکالا گیا یا ملازمت سے برطرف کیا گیا،یوں یونیورسٹی کے اپنے تادیبی عمل میں جن افراد کو جنسی یا صنفی تشدد کا ذمہ دار پایا گیا، ان میں نصف سے بھی کم کو معطل یا یونیورسٹی سے خارج کیا گیا
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کارنیل کو جنسی تشدد سے متعلق اپنے طریقۂ کار پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے،نیویارک کی ریاستی عدالت میں دائر ایک مقدمے میں ایک طالبہ نے الزام لگایا ہے کہ 2024 میں ایک برادری کے سات ارکان نے اسے نشہ آور چیز دے کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور یونیورسٹی اسے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی
یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق کارنیل کے 2018 سے 2024 تک کے ریاست نیویارک کو رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ یونیورسٹی کے جنسی اور صنفی تشدد کے معاملات سے نمٹنے کے مجموعی تادیبی نظام پر بھی سوالات اٹھاتا ہے






