نیتن یاہو اور اماراتی صدر کی ملاقات، 10 ممالک کے نمائندوں کی شرکت کا متنازعہ دعوی
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ابوظبی میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بعد 10 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ایک توسیعی اجلاس بھی ہوا، تاہم اس دعوے کی مکمل آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی
اسرائیلی چینل 14 نے ایک نامعلوم اماراتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ملاقات دو مرحلوں میں ہوئی،پہلے نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کے درمیان ملاقات ہوئی، جس کے بعد امریکا، سعودی عرب، مراکش، مصر، کویت، بحرین، لیبیا اور عمان کے نمائندوں کو شامل کرکے وسیع اجلاس منعقد کیا گیا،اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو شامل کیا جائے تو شرکا کی تعداد 10 ممالک بنتی ہے
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اسرائیل اور امارات کے درمیان دفاعی اور خفیہ معلومات کے تعاون کو مضبوط بنانے، مشترکہ خطرات کے خلاف علاقائی دفاعی نظام قائم کرنے، ایران اور یمن کے حوثی گروپ سے متعلق اقدامات، سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور سکیورٹی معاونت اور نئے علاقائی اتحاد کے قیام کے امکانات پر بات ہوئی،آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل کی ترسیل کے ممکنہ راستے پر بھی تبادلہ خیال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا
تاہم اس رپورٹ کا اہم حصہ متنازع ہے،سعودی عرب نے اپنے نمائندے کی ایسی کسی ملاقات میں شرکت کی تردید کی ہے،اردن سے متعلق ایسی اطلاعات کو بھی مسترد کیا گیا، جبکہ اسرائیلی میڈیا میں سعودی نمائندے کی شرکت سے متعلق ابتدائی دعوے کی بعد میں تصحیح بھی کی گئی،قطر اور بعض دیگر ممالک کے نمائندوں کی ممکنہ موجودگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، لیکن ان کی شرکت کی آزادانہ سرکاری تصدیق نہیں ہوئی
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام نے صرف یہ تصدیق کی کہ شیخ محمد بن زاید نے اتوار کو ابوظبی میں نیتن یاہو سے ملاقات کی،سرکاری بیان میں کسی 10 ملکی اجلاس یا دوسرے ممالک کے نمائندوں کی شرکت کا ذکر نہیں کیا گیا
نیتن یاہو کے دفتر نے بھی دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے اور علاقائی چیلنجز پر بات کی،نیتن یاہو کے ہمراہ اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ، موساد کے سربراہ رومان گوفمین، فوجی سیکریٹری اور سیاسی مشیر بھی موجود تھے
رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام نے بتایا کہ نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کی ملاقات تقریباً چھ گھنٹے جاری رہی اور ایران اس گفتگو کا مرکزی موضوع تھا،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملاقات معمول کی رسمی سفارتی ملاقات سے کہیں زیادہ اہم اور سکیورٹی معاملات پر مرکوز تھی، تاہم کسی نئے 10 ملکی علاقائی دفاعی اتحاد کے قیام کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا
اس لیے موجودہ شواہد کی بنیاد پر نیتن یاہو اور اماراتی صدر کی اعلیٰ سطح کی طویل ملاقات اور اس میں ایران سمیت علاقائی سکیورٹی پر بات چیت کی تصدیق ہوتی ہے، جبکہ 10 ممالک کے نمائندوں کے اجلاس اور خاص طور پر سعودی شرکت کا دعویٰ ابھی مکمل طور پر ثابت شدہ نہیں ہے




