Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مانگی جاؤ،لُٹی جاؤ تے کھائ جاؤپاکستان کا عوامی قرض 4 سال میں 76 فیصد بڑھ کر 86.7 کھرب روپے ہوگیا، حکومت مزید 6.86 کھرب قرض لے گی

مانگی جاؤ،لُٹی جاؤ تے کھائ جاؤ
پاکستان کا عوامی قرض 4 سال میں 76 فیصد بڑھ کر 86.7 کھرب روپے ہوگیا، حکومت مزید 6.86 کھرب قرض لے گی

اسلام آباد: پاکستان کا مجموعی عوامی قرض گزشتہ 4 سال میں 76 فیصد اضافے کے بعد جون 2026 کے اختتام پر 86.7 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ خسارے اور پرانے قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے مزید 6.86 کھرب روپے قرض لینے کا منصوبہ بنایا ہے
وزارت خزانہ کی سالانہ قرضہ منصوبہ بندی کے مطابق جون 2022 میں مجموعی عوامی قرض 49.3 کھرب روپے تھا جو جون 2026 تک بڑھ کر 86.7 کھرب روپے ہوگیا،موجودہ مجموعی قرض میں 59.4 کھرب روپے ملکی جبکہ 27.3 کھرب روپے غیر ملکی قرض شامل ہے
حکومت کے مطابق مالی سال 2027 میں نئے قرضوں میں 6.046 کھرب روپے ملکی ذرائع سے اور 813 ارب روپے بیرونی ذرائع سے حاصل کیے جائیں گے،رواں مالی سال وفاقی بجٹ خسارہ 7.02 کھرب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ پرانے ملکی و غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں سمیت حکومت کی مجموعی مالی ضرورت 28.647 کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جو مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہے
وزارت خزانہ نے مختصر مدت کے ٹریژری بلز پر انحصار کم کرنے اور ان کی جگہ درمیانی اور طویل مدت کے قرضوں کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے،حکومت پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے 4.58 کھرب روپے کی نئی خالص رقم حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے، جبکہ مقررہ شرح والے بانڈز کو نئی جاری کردہ سیکیورٹیز میں 50 فیصد سے زیادہ رکھنے کا منصوبہ ہے
حکومت اسلامی سکوک کے ذریعے بھی بڑے پیمانے پر قرض لینے کا ارادہ رکھتی ہے اور مالی سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 6.6 کھرب روپے کے سکوک جاری کیے جائیں گے،بیرونی ذرائع سے 813 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس میں کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے 1.58 ارب ڈالر کی خالص آمد متوقع ہے
حکومت نے مالی سال 2027 میں عالمی منڈیوں سے 2 ارب ڈالر سے زیادہ کے یورو بانڈز یا بین الاقوامی سکوک جاری کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے، تاہم یہ اقدام عالمی مالیاتی حالات اور مارکیٹ کی صورتحال سے مشروط ہوگا۔ حکومت گزشتہ ماہ ہی 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرچکی ہے
وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ 10 مالی سالوں میں وفاقی بجٹ خسارے کا اوسطاً 81 فیصد ملکی ذرائع سے اور 19 فیصد بیرونی ذرائع سے پورا کیا گیا،مالی سال 2026 میں وفاقی خسارے کا 25 فیصد بیرونی ذرائع سے حاصل کیا گیا، جو مالی سال 2020 کے بعد بلند ترین شرح ہے

قومی خبریں سے مزید