Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ریاستی تشدد میں مذید اضافہ:بجلی صارفین پر 25 ارب روپے کا نیا بوجھ، اگست کے مہنگے ایندھن نے قیمت بڑھا دی

ریاستی تشدد میں مذید اضافہ:بجلی صارفین پر 25 ارب روپے کا نیا بوجھ، اگست کے مہنگے ایندھن نے قیمت بڑھا دی

اسلام آباد: ملک بھر کے بجلی صارفین کو اکتوبر کے بلوں میں تقریباً 25 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے،نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اگست کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخ میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مہنگی درآمدی گیس اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کو اضافی لاگت کی بڑی وجہ قرار دیا گیا
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو ریحان اختر نے بتایا کہ اگست میں پن بجلی کا حصہ ہدف 41 فیصد کے مقابلے میں تقریباً 38 فیصد رہا، جبکہ جوہری بجلی کی پیداوار بھی ہدف 16.4 فیصد کے بجائے صرف 10 فیصد رہی،کراچی کے جوہری بجلی گھر کی بندش کے باعث سستی جوہری بجلی کی دستیابی کم ہوئی اور درآمدی کوئلے سے پیداوار بڑھ کر 15.6 فیصد ہوگئی، حالانکہ ہدف 7.4 فیصد تھا
اعداد و شمار کے مطابق پن بجلی پر ایندھن کی لاگت نہیں آتی، جبکہ کم استعمال کے باعث جوہری بجلی کی اوسط ایندھن لاگت 2.50 روپے سے بڑھ کر 3.15 روپے فی یونٹ ہوگئی،درآمدی کوئلے سے بجلی کی لاگت تقریباً 17 روپے فی یونٹ جبکہ مقامی کوئلے سے پیداوار کی لاگت 5.50 روپے فی یونٹ رہی،آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار کی لاگت 45.93 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی
حکام کے مطابق حکومت نے جولائی اور اگست میں آر ایل این جی کے لیے تقریباً 6,000 روپے کے بجائے 2,000 روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ کی خصوصی شرح دے کر 10 ارب روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کیا، ورنہ صارفین پر اضافی ایندھن لاگت تقریباً 35 ارب روپے تک پہنچ سکتی تھی
پاور ڈویژن کے مطابق اگست میں روزانہ اوسطاً تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے اضافی ایندھن لاگت کو کسی حد تک محدود رکھا گیا
دوسری جانب صنعتی نمائندوں نے حکومت کے صنعتی اضافی کھپت پیکیج کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فائدہ بیشتر صنعتوں کو نہیں پہنچ رہا جبکہ اس کا مالی بوجھ تمام صارفین پر منتقل ہورہا ہے،صنعت کاروں نے علاقائی جنگ کے باعث درآمدی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے فرنس آئل پر پٹرولیم لیوی کم یا معطل کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے خصوصی رعایت لینے کا مطالبہ بھی کیا
نیپرا نے صنعتی صارفین کے لیے دسمبر 2025 میں متعارف کرائے گئے 22.96 روپے فی یونٹ کے خصوصی اضافی کھپت پیکیج کا جائزہ لینے کے لیے 5 اکتوبر کو الگ عوامی سماعت مقرر کردی ہے،یہ پیکیج 6 ماہ بعد نظرثانی کے وعدے کے باوجود 9ویں ماہ تک برقرار ہے۔ حکام کے مطابق اگر 25 ارب روپے کی اضافی ایندھن لاگت کی منظوری دی گئی تو یہ رقم سابق واپڈا ڈسکوز اور کے الیکٹرک سمیت تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین سے وصول کی جائے گی

قومی خبریں سے مزید