ہرمز آبنائے کھولنے کے معاہدے سے پہلے امریکا اور ایران میں پھر لفظی جنگ تیز
واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے ممکنہ معاہدے کی کوششوں کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی تیز ہوگئی ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ’’بہت، بہت جلد‘‘ ختم ہوسکتی ہے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران آبنائے ہرمز کھولنے کی اپنی تجویز پر امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے،ایران نے اس سے قبل 7 روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں امریکی بحری ناکہ بندی اٹھانے، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی اور خطے میں جنگ بندی کی شرائط شامل ہیں
قطر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم مذاکرات میں اہم اختلافات برقرار ہیں،امریکی مؤقف میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ضمانتیں شامل ہیں جبکہ تہران آبنائے ہرمز کھولنے کو دیگر شرائط سے جوڑ رہا ہے
اسی دوران برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک نامعلوم شے کی زد میں آنے سے ایک بحری جہاز میں آگ لگ گئی، جس پر قابو پالیا گیا،ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی خبردار کیا ہے کہ کسی نئی کارروائی یا اشتعال انگیزی کی صورت میں ایران کی جانب سے مزید حملے ہوسکتے ہیں




