Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

میامی میں ہسپانک ووٹرز، ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی اور 2026 کا انتخابی معرکہ

میامی میں ہسپانک ووٹرز، ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی اور 2026 کا انتخابی معرکہ

واشنگٹن : وال اسٹریٹ جرنل کی قومی سیاسی رپورٹر سبرینا روڈریگز اپنے آبائی شہر میامی کے علاقے ہیالیا واپس گئیں، جہاں انہوں نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ہسپانک ووٹرز سے ملاقات کرکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امیگریشن پالیسی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی ہے ، روڈریگز کے جائزے میں سامنے آیا کہ کئی ووٹرز کو ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کارروائیوں پر تشویش ہے اور بعض ری پبلکن حلقوں کو خدشہ ہے کہ ناراض ووٹر ڈیموکریٹس کی طرف جانے کے بجائے انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے ہی گریز کرسکتے ہیں
میامی واپس جاکر ہسپانوی ووٹرز کی رائے جاننے والی رپورٹ سے یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مسئلہ صرف امیگریشن پالیسی کی مخالفت یا حمایت نہیں بلکہ اس پالیسی پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کا بھی ہے،میامی ڈیڈ کاؤنٹی کی تقریباً 70.6 فیصد آبادی ہسپانک یا لاطینی ہے، جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز میں ہسپانکس کا حصہ تقریباً 62 فیصد ہے
رپورٹ کے مطابق جنوبی فلوریڈا میں کیوبا اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی بڑی آبادی میں آئی سی ای کی کارروائیوں نے خاص تشویش پیدا کی ہے،ایک تازہ فلوریڈا ہسپانک سروے میں 40 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں یا ان کی برادری کے لوگوں کو خدشہ ہے کہ امیگریشن حکام انہیں ہراساں یا گرفتار کرسکتے ہیں، چاہے وہ امریکی شہری یا قانونی رہائشی ہی کیوں نہ ہوں،اسی سروے میں 86 فیصد نے طویل عرصے سے امریکا میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کی حمایت کی، جبکہ 61 فیصد نے بغیر حفاظتی شرائط کے آئی سی ای کے لیے مزید فنڈنگ کی مخالفت کی
جبکہ آئی سی ای کی کارروائیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے،رائٹرز کے مطابق اگست 2026 میں پورے امریکا میں آئی سی ای کی گرفتاریاں تقریباً 51 ہزار تک پہنچ گئیں، جو مسلسل تیسرا ماہانہ ریکارڈ تھا،فلوریڈا میں ٹرمپ کی واپسی کے بعد آئی سی ای کے میامی فیلڈ آفس نے 41,310 گرفتاریاں ریکارڈ کی تھیں، جو ملک کے تمام آئی سی ای فیلڈ دفاتر میں سب سے زیادہ تعداد تھی،میامی ڈیڈ میں اگست 2025 سے مئی 2026 تک سنی آئیلز بیچ پولیس نے 32 اور میامی اسپرنگز پولیس نے 16 امیگریشن سے متعلق گرفتاریاں رپورٹ کیں
یہ صورتحال اب انتخابی سیاست میں بھی داخل ہوچکی ہے،میامی کی ری پبلکن کانگریس رکن ماریا ایلویرا سالازار نے حال ہی میں ٹرمپ کو براہ راست متنبہ کیا کہ ان کی امیگریشن کارروائیوں میں کچھ اقدامات ’’بہت آگے‘‘ جاچکے ہیں،سالازار کے ضلع میں تقریباً 74 فیصد ووٹرز ہسپانک ہیں اور وہ ڈیموکریٹ ایلیٹ روڈریگز کے مقابلے میں دوبارہ انتخاب لڑ رہی ہیں،ایک حالیہ پول میں دونوں امیدوار تقریباً برابر دکھائی دیے، جبکہ 2024 میں سالازار نے 20 سے زیادہ پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی
سینیٹ کی دوڑ پورے فلوریڈا کی ہے اور اس میں ری پبلکن ایشلے موڈی اور ڈیموکریٹ اینجی نکسن آمنے سامنے ہیں،ستمبر کے تازہ سرویز میں خاصا فرق نظر آیا،7 سے 9 ستمبر کے Change Research سروے میں دونوں 47،47 فیصد پر برابر تھے، 17 ستمبر کے St. Pete Polls میں موڈی 45 اور نکسن 45 فیصد پر تھے، جبکہ 21 ستمبر کے Stetson سروے میں موڈی 51 اور نکسن 40 فیصد پر تھیں۔ RealClearPolitics کا تازہ اوسط موڈی کو 49 فیصد اور نکسن کو 42.4 فیصد دکھاتا ہے،یعنی ستمبر کی پولنگ میں مقابلہ مکمل طور پر یک طرفہ نہیں رہا، لیکن مختلف سرویز میں خاصا اتار چڑھاؤ موجود ہے
ہسپانک ووٹرز کے مخصوص سروے میں بھی موڈی کو نکسن پر معمولی برتری حاصل تھی،مئی کے UnidosUS سروے میں فلوریڈا کے ہسپانک ووٹرز میں موڈی 40 فیصد اور نکسن 32 فیصد تھیں، تاہم 20 فیصد غیر فیصلہ شدہ تھے،اسی سروے میں فلوریڈا کے ہسپانک ووٹرز کے عمومی کانگریسی بیلٹ میں ری پبلکن 42 فیصد اور ڈیموکریٹ 38 فیصد پر تھے
کانگریس کی سطح پر میامی کا FL-27 خاص توجہ کا مرکز ہے، جہاں سالازار اور روڈریگز کا مقابلہ ہے۔ ستمبر کے دستیاب پولز میں 13 ستمبر کے Tulchin سروے میں روڈریگز 46 اور سالازار 47 فیصد، جبکہ 30 اگست کے Bendixen & Amandi سروے میں دونوں 45،45 فیصد پر تھے۔ Cook Political Report نے 25 ستمبر کو اس نشست کو اب بھی Likely Republican قرار دیا، لیکن ساتھ ہی مقابلے کو واضح طور پر مسابقتی قرار دیا ہے
میامی کے باہر بھی فلوریڈا کی کئی کانگریسی نشستیں اہم ہیں،رائٹرز کے مطابق نئے حلقہ بندی نقشے کے بعد ڈیموکریٹک رکن جیرڈ موسکووٹز کو نئے ضلع میں ری پبلکن سکاٹ سنگر کا سامنا ہے، اور یہ ان مقابلوں میں شامل ہے جن پر ایوانِ نمائندگان کے کنٹرول کے لیے نظر رکھی جارہی ہے
یوں میامی کی موجودہ سیاسی تصویر میں ایک اہم تضاد سامنے آتا ہے،ہسپانک ووٹرز میں ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی سے مکمل لاتعلقی نظر نہیں آتی، لیکن امیگریشن کارروائیوں کے طریقۂ کار، گرفتاریوں اور مہنگائی نے اسی ووٹر گروپ کے اندر نئی بے چینی پیدا کی ہے،اسی لیے میامی ڈیڈ کی سینیٹ اور کانگریس کی دوڑوں میں امیگریشن ایک اہم انتخابی مسئلہ بن چکا ہے، جبکہ پولنگ ابھی دونوں جماعتوں کے درمیان مکمل طور پر واضح سمت نہیں دکھا رہی

قومی خبریں سے مزید