صدر ٹرمپ کا اے آئی پر نرم حکومتی پالیسی کا دفاع ، ٹیکنالوجی صنعت میں خطرات پر تشویش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سخت سرکاری ضابطوں کے بجائے نسبتاً نرم حکومتی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اے آئی کی ترقی کو محدود نہیں کریں گے،یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی کمپنیوں کے بعض سربراہان نے ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور ممکنہ خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے
ٹرمپ نے 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کے بعد کہا کہ حکومت اے آئی کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بنے گی،تاہم اسی ملاقات میں ٹرمپ اور بڑی اے آئی کمپنیوں نے ایک رضاکارانہ معاہدے پر اتفاق کیا، جس کے تحت کمپنیاں اندرونی حفاظتی اقدامات اور بیرونی ماہرین سے جانچ کا نظام اپنائیں گی
معاہدے میں گوگل، میٹا، اوپن اے آئی، اینتھروپک، این ویڈیا اور دیگر کمپنیوں کے نمائندے شامل تھے،ٹرمپ نے اسے قانونی پابندی کے بجائے اخلاقی ذمہ داری قرار دیا




