Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسپین کا سیوتا پہنچنے والے تارکین وطن کے لیے پناہ کے قوانین سخت کرنے کا منصوبہ، حقوق کی تنظیموں کا احتجاج

اسپین کا سیوتا پہنچنے والے تارکین وطن کے لیے پناہ کے قوانین سخت کرنے کا منصوبہ، حقوق کی تنظیموں کا احتجاج

اسپین نے شمالی افریقہ میں واقع اپنے علاقے سیوتا میں حالیہ بڑے پیمانے پر داخل ہونے والے تارکین وطن کے لیے پناہ حاصل کرنے کے طریقہ کار کو سخت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے،رائٹرز کے مطابق مجوزہ حکمنامے میں معمول کے ہجرت اور پناہ کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی تجاویز شامل ہیں
مجوزہ حکمنامے کا مقصد سیوتا میں موجود 10 ہزار سے زیادہ تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں اور ممکنہ ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا ہے،تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے مجوزہ اقدامات کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے
مجوزہ قواعد کے تحت ان ممالک سے آنے والے تارکین وطن جنہیں اسپین محفوظ ممالک تصور کرتا ہے، ان کے لیے پناہ کی درخواست مسترد ہونے کی صورت میں یورپی یونین کے اندر رہ کر اپیل کا راستہ محدود ہوسکتا ہے اور انہیں یورپی یونین سے باہر رہتے ہوئے اپیل کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے
یہ اقدام اسپین کی بائیں بازو کی امیگریشن حامی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی تبدیلی بھی سمجھا جا رہا ہے،حکومت طویل عرصے سے بین الاقوامی ہجرت کے قوانین اور کثیر ملکی اداروں کے کردار کی حمایت کرتی رہی ہے، تاہم سیوتا میں سرحدی بحران کے بعد اسے اندرون ملک بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے
سیوتا مراکش کی سرحد سے متصل اسپین کا چھوٹا سا علاقہ ہے اور یورپی یونین کی بیرونی سرحد کا حصہ ہے،جولائی میں ہزاروں افراد کے بڑے پیمانے پر سیوتا میں داخل ہونے کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے اسپین کے لیے پناہ، سرحدی نگرانی اور تارکین وطن کی واپسی کے طریقہ کار کو دوبارہ زیر بحث لا دیا ہے
قانونی ماہرین اور غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں پناہ کے متلاشی افراد کے قانونی حقوق اور بین الاقوامی تحفظ کے اصولوں سے متصادم ہوسکتی ہیں،حکومت کی جانب سے حتمی حکمنامہ ابھی جاری نہیں کیا گیا

قومی خبریں سے مزید