حماس، اسلامی جہاد اور فتح کے سابق طاقتور رہنما کا انتخابی اتحاد، فلسطینی سیاست میں نئی صف بندی
فلسطینی سیاست میں ایک غیر معمولی انتخابی اتحاد سامنے آیا ہے،حماس اور اس کی اتحادی تنظیم اسلامی جہاد نے الفتح کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے متحدہ عرب امارات سے قریبی روابط ہیں،فلسطینی حکام نے یہ معلومات ایسوسی ایٹڈ پریس کو دی ہیں
اتحاد میں شامل فریق آئندہ انتخابات میں ایک متحدہ قومی فہرست کے ذریعے حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں،اگر انتخابات واقعی مقررہ وقت پر ہوئے تو یہ اتحاد صدر محمود عباس کی الفتح جماعت کی فلسطینی اتھارٹی پر طویل عرصے سے قائم سیاسی بالادستی کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے
محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں پارلیمانی انتخابات 28 نومبر کو ہوں گے،تاہم فلسطینی انتخابات گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل تعطل کا شکار ہیں،عباس نے اس سے قبل بھی انتخابات کا اعلان کیا تھا لیکن انہیں مؤخر کردیا گیا، خاص طور پر 2021 میں جب فتح کو شکست کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا
اسلامی جہاد کے نائب سیکریٹری جنرل محمد الہندی نے پیر کو استنبول میں ایسوسی ایٹڈ پریس سے ایک تازہ انٹرویو میں انتخابی اتحاد کی تشکیل کی تصدیق کی،ان کے مطابق اتحاد مشترکہ قومی فہرست کی حمایت کرے گا
فلسطینی سیاست میں حماس اور فتح کے درمیان طویل عرصے سے شدید سیاسی تقسیم موجود ہے،2006 کے آخری پارلیمانی انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد اسرائیل اور مغربی ممالک نے اس کی حکومت کا بائیکاٹ کیا تھا،اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی بالآخر 2007 میں حماس کے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے پر منتج ہوئی اور فلسطینی سیاسی تقسیم مزید گہری ہوگئی
نیا انتخابی اتحاد اسی پس منظر میں غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں حماس اور اسلامی جہاد کے ساتھ فتح کے ایک سابق طاقتور رہنما بھی شامل ہیں،تاہم اس اتحاد کا عملی سیاسی اثر اسی صورت سامنے آسکے گا جب 20 سال بعد فلسطینی قومی انتخابات واقعی 28 نومبر کو منعقد ہوتے ہیں






