ممدانی نے یہود مخالف جرائم کے خلاف منصوبہ جاری کردیا، مگر یہود دشمنی کی تعریف شامل نہ کی
نیویارک کے میئر زوہرن ممدانی نے شہر میں یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی روک تھام کے لیے 35 صفحات پر مشتمل منصوبہ جاری کردیا، تاہم اس میں یہود دشمنی کی باقاعدہ تعریف شامل نہیں کی گئی
میئر کے دفتر برائے انسدادِ یہود دشمنی کی جانب سے تیار کردہ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ نیویارک شہر یہود دشمنی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے دستیاب تمام قانونی اور انتظامی ذرائع استعمال کرسکتا ہے اور اس کے لیے اس مخصوص قسم کی نفرت کی الگ تعریف اپنانا ضروری نہیں
یہ فیصلہ ایک انتہائی متنازعہ بحث سے بچنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ اور مغربی کنارے میں کارروائیوں پر بعض تنقید کہاں ختم ہوتی ہے اور یہود دشمنی کہاں سے شروع ہوتی ہے
ممدانی کے مطابق یہ ملک میں کسی بلدیاتی حکومت کی جانب سے یہود دشمنی سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا جامع منصوبہ ہے،یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک میں یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہوا ہے
نیویارک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال یہود مخالف نفرت انگیز جرائم گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہوئے ہیں،شہر کی آبادی میں یہودیوں کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے، لیکن پولیس کے مطابق تصدیق شدہ تمام نفرت انگیز جرائم میں نصف سے زیادہ واقعات میں یہودی نشانہ بنے ہیں
منصوبے میں یہود مخالف نفرت سے نمٹنے کے لیے مختلف حکومتی اداروں کے درمیان تعاون، متاثرین کے تحفظ اور نفرت انگیز واقعات کی روک تھام سمیت متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، تاہم یہود دشمنی کی متفقہ تعریف شامل نہ کرنے کا فیصلہ سیاسی اور سماجی بحث کا ایک اہم موضوع بن گیا ہے






