بنوں میں محفوظ مقام منتقل ہونے والے 13 افراد کو مبینہ طور پر دہشت گردوں نے یرغمال بنا لیا
بنوں کے پہاڑی علاقے ہتھی خیل میں مبینہ دہشت گردوں نے محفوظ مقام کی جانب منتقل ہونے والے 13 افراد کو یرغمال بنا لیا مقامی ذرائع کے مطابق یہ افراد علاقے میں امن کمیٹی، پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث اپنے گھروں سے سامان گاڑیوں میں منتقل کرکے محفوظ مقام کی طرف جا رہے تھے کہ انہیں راستے میں روک لیا گیا
مقامی ذرائع کے مطابق یرغمال بنائے گئے افراد میں 4 بھائی رحمان اللہ، فرمان اللہ، لائق اور صادق، جبکہ میر علی، محمد رازق، عظیم خان اور 3 بھائی سمین، حامد اللہ اور رخید اللہ شامل ہیں۔ مزید 3 افراد کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی
پولیس کی جانب سے واقعے پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم پولیس ذرائع نے واقعے کی تصدیق کی ہے سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی گردش کر رہی ہے جس میں مبینہ طور پر یرغمال بنائے گئے افراد کو دکھایا گیا ہے، تاہم تصویر اور اس میں موجود افراد کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد علاقے کے رہائشیوں کو وہاں سے منتقل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے بعض پابندیاں عائد کی گئی ہیں بعض خاندانوں کی جانب سے مبینہ شرائط پوری نہ کرنے پر ان کے گھروں کو مسمار کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی
ہتھی خیل اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث متعدد خاندان محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں






