میاں چنوں اسپتال میں ڈائیلاسس کے 4 مریض ایچ آئی وی کا شکار
میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں ڈائیلاسس کرانے والے 4 مریضوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد جنوبی پنجاب کے طبی مراکز میں انفیکشن سے بچاؤ کے انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں
متاثرہ مریضوں میں 3 خواتین بھی شامل ہیں اسپتال انتظامیہ نے انہیں مزید طبی معائنے اور علاج کے لیے ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کردیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے
میاں چنوں اسپتال میں 60 سے زیادہ مریض ڈائیلاسس کرارہے ہیں اسپتال حکام نے کہا ہے کہ ڈائیلاسس کے عمل سے ایچ آئی وی منتقل نہیں ہوسکتا اور صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید ڈائیلاسس مریضوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے کا امکان ہے، لیکن حکام نے اضافی کیسز کی تصدیق نہیں کی
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی پنجاب کے اسپتالوں میں ڈائیلاسس سے وابستہ ایچ آئی وی کیسز پہلے بھی سامنے آچکے ہیں نومبر 2024 میں ملتان کے نشتر اسپتال میں تقریباً 30 گردوں کے مریضوں میں ڈائیلاسس کے دوران ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ ایک مریض پیچیدگیوں کے باعث انتقال کرگیا تھا پنجاب حکومت کی تحقیقات میں نشتر اسپتال کے شعبہ امراض گردہ میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ اور ڈائیلاسس کے حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی
2026 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں بھی نشتر اسپتال ملتان کے ان کیسز کو آپس میں قریبی طور پر منسلک قرار دیتے ہوئے اس بات کے شواہد پیش کیے گئے کہ انفیکشن کا تعلق طبی ماحول سے تھا اس معاملے کے بعد پنجاب حکومت نے بعض سینئر حکام اور طبی عملے کے خلاف کارروائی بھی شروع کی تھی
ماضی میں پنجاب کے تونسہ علاقے میں بھی ایچ آئی وی کا بڑا مسئلہ سامنے آیا تھا جہاں مارچ 2025 تک 106 بچوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی بعد میں عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور یو این ایڈز سمیت مختلف اداروں کی مدد سے تقریباً 50,000 افراد کی گھر گھر اسکریننگ کی گئی
صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق پنجاب میں ایچ آئی وی کی مفت تشخیص، مشاورت اور علاج کی سہولت فراہم کی جارہی ہے قومی سطح پر دسمبر 2025 تک پاکستان میں 84,421 ایچ آئی وی کیسز رجسٹرڈ تھے، جن میں سے 60,785 افراد کو اینٹی ریٹرو وائرل علاج فراہم کیا جارہا تھا






