خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 3.45 ارب ڈالر ہوگیا
پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارتی خسارہ مالی سال 2026 کے پہلے 2 ماہ میں 2.61 فیصد بڑھ کر 3.45 ارب ڈالر ہوگیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ خسارہ 3.362 ارب ڈالر تھا اس اضافے کی بنیادی وجہ خلیجی ممالک سے پاکستان کی درآمدات میں اضافہ اور برآمدات کی نسبتاً کم رفتار ہے
اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست میں خلیجی خطے سے پاکستان کی درآمدات 3.2 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ اس خطے کو پاکستان کی برآمدات 7.4 فیصد بڑھ کر تقریباً 550 ملین ڈالر ہوئیں گزشتہ مالی سال کے دوران مشرق وسطیٰ کو پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی
ملک کے لحاظ سے سعودی عرب سے پاکستان کی درآمدات میں 14.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سعودی عرب کو برآمدات 1.7 فیصد کم ہوئیں قطر سے درآمدات میں 41.9 فیصد اور کویت سے 27.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بحرین سے درآمدات 39.4 فیصد بڑھیں دوسری جانب متحدہ عرب امارات سے پاکستان کی درآمدات تقریباً 1 فیصد کم ہوئیں جبکہ وہاں برآمدات 13.6 فیصد بڑھیں
پاکستان کی خلیجی ممالک پر توانائی کے لیے انحصار بھی نمایاں ہے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب مل کر پاکستان کی خلیجی توانائی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں، جس کے باعث خطے میں جاری جنگ اور بحری راستوں میں رکاوٹیں پاکستان کی درآمدی لاگت اور تجارتی توازن پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہیں
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 28 فروری سے جاری تنازع نے پاکستان کی تجارت کو متاثر کیا ہے اگست مسلسل چھٹا مہینہ تھا جس میں درآمدی سرگرمیوں میں ماہانہ بنیاد پر کمی دیکھی گئی، جبکہ توانائی کی ترسیل کے راستوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے پاکستان کی تجارت کو مزید حساس بنا دیا ہے






