پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کی تحقیقات اور ان کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کا حکم دے دیا ہے عدالت نے صوبائی پولیس کے انسپکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرکے ایک ہفتے کے اندر وزیر کے بارے میں معلومات عدالت میں پیش کریں
2 رکنی بینچ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل تھا عدالت میں فضل شکور خان کے بھائی انور عزیز کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صوبائی وزیر کو 21 ستمبر کو پشاور اسلام آباد موٹروے ٹول پلازہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا تھا
درخواست کے مطابق فضل شکور خان اپنے 2 ساتھیوں کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب مسلح افراد نے انہیں روکا۔ پولیس نے واقعے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا ہے
تحقیقات کے دوران پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ وزیر کے ساتھ موجود 2 افراد بعد میں بحفاظت گھروں کو واپس پہنچ گئے اور انہوں نے اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرائے ان بیانات کے مطابق تقریباً 14 افراد نے انہیں بھی اپنے ساتھ لے جاکر ایک نامعلوم مقام پر رکھا، تاہم بعد میں دونوں کو رہا کردیا گیا جبکہ صوبائی وزیر بدستور لاپتا ہیں
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کے مقام کے قریب پولیس کی چیک پوسٹیں موجود تھیں لیکن مبینہ اغوا کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی وکیل نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ صوبائی وزیر کے بارے میں فوری طور پر معلومات حاصل کی جائیں اور اگر انہیں کسی ادارے یا شخص نے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے
عدالت نے پولیس کو وزیر کی بازیابی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے اور تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 1 اکتوبر کو ہوگی
اس سے قبل عدالت میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا تھا کہ درخواست گزار نے موٹروے ٹول پلازہ اور اطراف کی سڑکوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے اور واقعے سے متعلق دیگر شواہد کا جائزہ لینے کی درخواست کی تھی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی





