جعلی کاغذات پر 92 نرسوں کو سعودی عرب بھیجنے والے کو 41 سال قید
اسلام آباد میں خصوصی عدالت نے جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کے ذریعے 92 نرسوں کو سعودی عرب بھیجنے کے مقدمے میں مرکزی ملزم غلام ذوالفقار علی کو مجموعی طور پر 41 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے ملزم پر 9.2 ملین روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جو متاثرہ نرسوں میں تقسیم کیا جائے گا
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق 92 نرسوں کو جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کے ذریعے سعودی عرب بھیجا گیا تھا، تاہم وہاں پہنچنے کے ایک ماہ کے اندر انہیں ملک بدر کردیا گیا مقدمہ 2024 میں درج کیا گیا تھا اور اس کی کارروائی راولپنڈی کی خصوصی عدالت میں ہوئی
عدالت کے فیصلے کے مطابق مرکزی ملزم کو جعل سازی، دھوکا دہی اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی سمیت مختلف دفعات کے تحت متعدد سزائیں سنائی گئیں، جن کی مجموعی مدت 41 سال بنتی ہے عدالت نے ہر متاثرہ نرس کے لیے 100,000 روپے کے حساب سے مجموعی طور پر 9.2 ملین روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا
مقدمے کے دوسرے ملزم غلام فرید کو بھی امیگریشن آرڈیننس کی ایک دفعہ کے تحت 3 سال قید اور 200,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، تاہم عدالت نے اسے دیگر الزامات میں شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا
تحقیقاتی ادارے کے مطابق جعلی دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک ملازمت حاصل کرنے کے لیے بھیجے جانے والے افراد کو نہ صرف مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بیرون ملک پہنچنے کے بعد گرفتاری، ملک بدری اور مستقبل میں سفر یا ملازمت کے مسائل کا بھی خطرہ ہوتا ہے اس مقدمے میں بھی 92 نرسوں کو سعودی عرب پہنچنے کے بعد ایک ماہ کے اندر واپس بھیج دیا گیا تھا





