اقتدار کی تقسیم پر اشرافیہ میں اختلاف، سیاسی بحران مزید گہرا
اسلام آباد میں احتجاج کے باعث سڑکوں پر رکھے گئے کنٹینرز اور سخت سکیورٹی کے مناظر پاکستان کے گہرے سیاسی اور حکمرانی کے بحران کی عکاسی کرتے ہیں تجزیے کے مطابق مسئلہ صرف سیاسی جماعتوں کے اختلاف تک محدود نہیں بلکہ طاقتور سیاسی، عسکری، عدالتی اور دیگر ادارہ جاتی حلقوں کے درمیان اقتدار اور اختیار کی تقسیم پر بھی اختلاف موجود ہے
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں سکیورٹی کے نام پر رکاوٹیں اور چیک پوسٹیں شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہیں مصنف کے مطابق احتجاج مؤخر ہونے کے باوجود ملک کے سیاسی، معاشی، حکمرانی اور سکیورٹی کے مسائل ختم نہیں ہوں گے
مضمون میں طاقتور طبقات کے درمیان اختلاف کو پاکستان کے طویل سیاسی بحران کی ایک بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ اصل اختیار پارلیمان، حکومت، فوج، عدلیہ یا بیوروکریسی میں سے کس کے پاس ہونا چاہیے اسی کے ساتھ معاشی وسائل، سکیورٹی اداروں اور مرکز و صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم بھی اہم مسئلہ قرار دی گئی ہے
مصنف کے مطابق موجودہ سیاسی نظام میں حکمران جماعتوں نے اقتدار برقرار رکھنے کے لیے بعض اختیارات سے دستبرداری اختیار کی ہے جبکہ اپوزیشن اپنے سیاسی حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے تجزیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاسی کشمکش ایک نئے سماجی معاہدے کی تشکیل کے بجائے اقتدار کے حصول کی جدوجہد تک محدود دکھائی دیتی ہے
مضمون میں مرکز اور صوبوں کے تعلقات، خصوصاً خیبر پختونخوا میں پولیس کے انتظام اور صوبائی نگرانی سے متعلق نئے قانون کو بھی طاقت کی وسیع تر کشمکش کا حصہ قرار دیا گیا ہے مصنف کے مطابق حکومت اور طاقتور حلقوں میں مذاکرات اور لچک کی کمی اندرونی سکیورٹی کے زیادہ سخت نظام کی طرف لے جا رہی ہے
تجزیے کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب طاقتور طبقات آپس میں اقتدار کی تقسیم پر اتفاق نہیں کر پاتے تو قومی سطح پر سیاسی استحکام اور یکجہتی پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ اس کشمکش کا سب سے زیادہ اثر عام شہریوں کی زندگی پر پڑتا ہے





