جاپان کے 11 سالہ بچے نے ایشین گیمز میں ای اسپورٹس کا گولڈ میڈل جیت لیا
جاپان کے 11 سالہ ای اسپورٹس کھلاڑی یوکی کوریہارا نے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کردی کوریہارا نے جنوبی کوریا کے 24 سالہ کانگ ڈونگ شن کو پزل گیم ’’پیویو پیویو چیمپئنز‘‘ کے فائنل میں 10 کے مقابلے میں 2 پوائنٹس سے شکست دی
کوریہارا کو ایشین گیمز میں شریک سب سے کم عمر کھلاڑی سمجھا جا رہا ہے اور وہ جاپان کی تاریخ میں بھی ایشین گیمز میں حصہ لینے والے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں فائنل سے پہلے انہوں نے سیمی فائنل میں تھائی لینڈ کے 28 سالہ تنارک وونگ کٹ کن کو 10 کے مقابلے میں 1 سے شکست دی تھی
فائنل میں کامیابی کے بعد کوریہارا نے کہا کہ وہ اتنے بڑے مقابلے میں کامیابی پر خوش ہیں لیکن اپنی خوشی کا اظہار کرنے میں کچھ جھجک محسوس کر رہے تھے گولڈ میڈل وصول کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمغہ خوبصورت، چمکدار اور وزنی ہے
کوریہارا نے ابتدائی جماعت میں ہی ’’پیویو پیویو‘‘ کھیلنا شروع کردیا تھا اور جلد ہی مقامی مقابلوں میں حصہ لے کر کامیابیاں حاصل کرنے لگے۔ رواں سال اپریل میں انہیں اس کھیل کا پیشہ ور کھلاڑی بننے کا لائسنس ملا، اس وقت ان کی عمر 11 سال بھی مکمل نہیں ہوئی تھی
’’پیویو پیویو چیمپئنز‘‘ ایک پزل گیم ہے جس میں کھلاڑی مختلف رنگوں کے ٹکڑوں کو مخصوص انداز میں جوڑ کر انہیں ختم کرتے ہیں اعلیٰ سطح پر اس کھیل میں انتہائی تیز ردعمل، فوری فیصلہ سازی اور اسکرین پر بننے والے نمونوں کو تیزی سے سمجھنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے
کوریہارا کے لیے ای اسپورٹس میں کامیابی نئی بات نہیں جنوری میں انہوں نے جاپان کے ای اسپورٹس ایوارڈز میں 18 سال سے کم عمر کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا تھا، جبکہ فروری میں انہوں نے ایک بڑے مقابلے میں بالغ پیشہ ور کھلاڑی کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی
ایشین گیمز میں ای اسپورٹس کو پہلی مرتبہ 2022 میں ہانگژو گیمز کے دوران باضابطہ میڈل ایونٹ کے طور پر شامل کیا گیا تھا اور 2026 کے ایشین گیمز میں بھی اسے اہم مقابلوں میں شامل رکھا گیا ہے
کوریہارا کی کامیابی نے ایک بار پھر ایشین گیمز میں کم عمر کھلاڑیوں کی شرکت اور ای اسپورٹس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم ایشین گیمز کی پوری تاریخ میں سب سے کم عمر گولڈ میڈلسٹ کا باقاعدہ ریکارڈ دستیاب نہیں، اس لیے کوریہارا کو ایشین گیمز کا سب سے کم عمر گولڈ میڈلسٹ قرار دینے کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی






