بنگلہ دیش نے خارجہ پالیسی میں بھارت پر انحصار کم کرنے کا راستہ اختیار کر لیا
بنگلہ دیش اپنی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی لاتے ہوئے بھارت پر روایتی انحصار کم کرنے اور پاکستان، چین، ترکیہ، سعودی عرب، امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے یہ تبدیلی 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی اور فروری 2026 کے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی حکومت آنے کے بعد بھی اس پالیسی کو جاری رکھا گیا ہے
1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی اہم رہے خاص طور پر شیخ حسینہ کے طویل دور حکومت میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، سلامتی اور سفارتی تعاون میں اضافہ ہوا تاہم 2024 کی سیاسی تبدیلی کے بعد ڈھاکا نے اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ اختیارات اور متبادل شراکت دار تلاش کرنے پر توجہ دینا شروع کی
پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 2025 کے آخر میں پاکستان کے اس وقت کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے ڈھاکا کا دورہ کیا، جہاں تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون سمیت مختلف معاملات پر بات چیت ہوئی اس کے بعد 2026 کے آغاز میں کراچی اور ڈھاکا کے درمیان براہ راست بحری اور فضائی روابط بھی دوبارہ بحال ہوئے
پاکستان نے کراچی بندرگاہ کو بنگلہ دیش اور چین کے درمیان تجارت کے لیے ایک ممکنہ راہداری کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز بھی دی ہے اس کا مقصد بنگلہ دیش کو کسی ایک زمینی یا بحری راستے پر انحصار سے بچنے کے لیے مزید تجارتی متبادل فراہم کرنا ہے
چین کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات بھی مضبوط ہوئے ہیں جبکہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی روابط بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق بنگلہ دیش کی موجودہ پالیسی کو کسی ایک نئے اتحاد میں شامل ہونے کے بجائے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات متوازن کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
بھارت کے ساتھ تعلقات تاہم مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ بنگلہ دیش اب بھی بھارت کے ساتھ تجارت اور دیگر شعبوں میں روابط برقرار رکھے ہوئے ہے، لیکن نئی حکومت نے سابق حکومت کے دور میں بھارت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کا جائزہ بھی شروع کیا ہے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایسے 101 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں تجارت، بندرگاہوں تک رسائی اور علاقائی رابطوں سے متعلق معاملات شامل ہیں
اسی بدلتی پالیسی کا ایک نمایاں اظہار یہ بھی تھا کہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ برکس اجلاس میں شرکت نہیں کی اس غیر حاضری کو بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان تعلقات میں جاری تبدیلی کے تناظر میں دیکھا گیا، اگرچہ بنگلہ دیش نے بھارت سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا
بنگلہ دیش کی اس نئی خارجہ پالیسی کے حامی اسے زیادہ خودمختار اور متوازن سفارتی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کے قریب جانے سے بھارت کے ساتھ پہلے ہی پیچیدہ تعلقات مزید متاثر ہو سکتے ہیں اور بنگلہ دیش علاقائی کشمکش میں زیادہ الجھ سکتا ہے اس کے باوجود موجودہ رجحان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈھاکا اب اپنی خارجہ پالیسی کو صرف ایک ملک کے ساتھ قریبی تعلق تک محدود رکھنے کے بجائے متعدد عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت روابط بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے





