امریکی ریاستوں میں 30 ہزار غیر شہری ووٹر لسٹ میں کیسے شامل ہوئے؟
واشنگٹن: امریکی ریاستوں میں ڈرائیونگ لائسنس اور ریاستی شناختی کارڈ کی درخواستوں پر کارروائی کے دوران سافٹ ویئر کی خرابیوں اور دفتری غلطیوں کے باعث سال 2000 سے اب تک 30 ہزار سے زائد ایسے افراد ووٹر لسٹوں میں شامل کیے جانے کا امکان ہے جنہوں نے خود کو امریکی شہری نہیں بتایا تھا
رائٹرز کی سرکاری ریکارڈز کے جائزے پر مبنی تحقیق کے مطابق یہ معاملہ کم از کم ایک درجن ریاستوں میں سامنے آیا، جن میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کی زیرانتظام ریاستیں شامل ہیں
رپورٹ کے مطابق ان افراد میں سے کتنے لوگوں نے حقیقتاً انتخابات میں ووٹ ڈالا، رائٹرز اس تعداد کا تعین نہیں کر سکا،ماہرین نے کہا کہ 30 ہزار سے زائد رجسٹریشنز ملک کے 170 ملین سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور ان سے قومی انتخابات کے نتائج پر اثر پڑنے کا امکان نہیں بتایا گیا
تحقیق میں سامنے آنے والے واقعات میں بنیادی طور پر انتظامی اور تکنیکی غلطیاں شامل ہیں،بعض معاملات میں ریاستی موٹر وہیکل یا شناختی نظام سے ووٹر رجسٹریشن کے نظام کو منتقل ہونے والی معلومات میں غلطی ہوئی، جبکہ بعض جگہ عملے کی دفتری غلطیوں کے باعث ایسے افراد رجسٹر ہو گئے جنہوں نے درخواست کے دوران خود کو غیر شہری ظاہر کیا تھا
رائٹرز کے مطابق یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ غیر شہریوں کی ووٹر رجسٹریشن کے ان واقعات کا ایک بڑا حصہ منظم طریقے سے غیر قانونی رجسٹریشن کرانے کے بجائے انتظامی ناکامیوں سے متعلق ہے،رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ ووٹر رجسٹریشن کے لیے شہریت کا ثبوت لازمی قرار دینے والی مجوزہ قانون سازی کیا واقعی ایسی غلطیوں کا خاتمہ کر سکے گی
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ووٹر رجسٹریشن اور غیر شہریوں کے ووٹ ڈالنے کی روک تھام آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی بحث بنی ہوئی ہے،تاہم ووٹ ڈالنے کی قانونی اہلیت اور محض ووٹر لسٹ میں غلطی سے رجسٹر ہو جانے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ رائٹرز کی تحقیق 30 ہزار سے زائد غلط رجسٹریشنز کی نشاندہی کرتی ہے، نہ کہ 30 ہزار غیر شہریوں کے ووٹ ڈالنے کی






