مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل پاکستان کا سابق تھری اسٹار جنرل، ریاض میں نیا دفاعی مرکز قائم ہوگا
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم ہونے والے نئے مکہ ڈیفنس الائنس نے عملی شکل اختیار کرنا شروع کر دی ہے اور پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اس نئے دفاعی اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کر دیا گیا ہے,پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ 23 ستمبر کو تقرری کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحاد کا جنرل سیکریٹریٹ سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم ہوگا اور اس کی قیادت ابتدائی طور پر 3 سال کے لیے پاکستانی سیکریٹری جنرل کریں گے
یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ صرف ایک سیاسی اعلامیے سے آگے بڑھ کر مستقل ادارہ جاتی شکل اختیار کر رہا ہے،پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول طے کیا گیا،31 اگست کو استنبول میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور فوجی سربراہوں کے پہلے اجلاس میں اس معاہدے کے لیے مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا
اب اس اتحاد کا انتظامی اور رابطہ کاری مرکز ریاض میں ہوگا اور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اس کے پہلے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اس ادارے کی بنیاد رکھنے والے افسر ہوں گے،پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا فوری کام اتحاد کا ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینا، تینوں ملکوں کے درمیان رابطہ کاری کا نظام بنانا اور سیاسی سطح پر کیے گئے دفاعی وعدوں کو عملی سکیورٹی انتظامات میں تبدیل کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنا ہوگا
لیکن نعمان محمود کے انتخاب کی اہمیت صرف اس عہدے تک محدود نہیں،وہ پاکستان آرمی میں تقریباً 36 سال کی فوجی، انٹیلی جنس اور اسٹریٹیجک ذمہ داریوں کا تجربہ رکھنے والے افسر ہیں،بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے نعمان محمود نے ستمبر 1987 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا،انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ، مصر کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلیم حاصل کی اور وار اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا
ان کے کیریئر کا ایک اہم حصہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج سے وابستہ رہا جہاں وہ مختلف تدریسی ذمہ داریوں کے بعد چیف انسٹرکٹر بھی رہے،بعد میں میجر جنرل کے طور پر انہوں نے شمالی وزیرستان میں انفنٹری ڈویژن کی کمان سنبھالی، جہاں دہشت گردی کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری تھیں
اس کے بعد وہ انٹیلی جنس کے شعبے میں گئے اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل اینالیسس ڈائریکٹوریٹ کی ذمہ داری سنبھالی،پاکستانی میڈیاکے مطابق اس عہدے میں بیرون ملک ہونے والی پیش رفت کا قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے تجزیہ اور غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ رابطہ بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھا
اپریل 2019 میں انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور جنرل ہیڈکوارٹرز میں انسپکٹر جنرل کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی مقرر کیا گیا،اسی سال دسمبر میں انہیں پشاور میں XI Corps کا کمانڈر مقرر کیا گیا،ان کی کمان کے دوران افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی تیاری، پاک افغان سرحد پر باڑ اور مغربی سرحد کی سکیورٹی بڑے مسائل میں شامل تھے۔ نومبر 2021 میں انہوں نے پشاور کور کی کمان چھوڑی اور بعد ازاں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر مقرر ہوئے،وہ اپریل 2023 میں فوج سے ریٹائر ہوئے
اب یہی سابق کور کمانڈر اور سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ریاض میں اس نئے تین ملکی دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل ہوں گے
اس عہدے کی اصل طاقت کو سمجھنے کے لیے یہ فرق اہم ہے کہ سیکریٹری جنرل کسی ایک ملک کی فوج کے سربراہ نہیں اور نہ ہی دستیاب معلومات کے مطابق انہیں تینوں ملکوں کی مشترکہ افواج کی براہ راست آپریشنل کمان دی گئی ہے،ان کا کردار اس مرحلے پر اتحاد کے مستقل ادارے کو چلانے، تینوں ریاستوں کے دفاعی اداروں کے درمیان رابطہ رکھنے، اجلاسوں اور فیصلوں کو آگے بڑھانے اور مشترکہ دفاعی تعاون کے نظام کو ادارہ جاتی شکل دینے کا ہے
تاہم اس عہدے کی اسٹریٹیجک اہمیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ مکہ ڈیفنس الائنس کا بنیادی اصول تینوں ممالک کی collective deterrence and defence یعنی مشترکہ دفاع اور مشترکہ باز deterrence پر مبنی ہے،تینوں ملکوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتحاد کو اس انداز میں ادارہ جاتی شکل دیں گے جس سے مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اجتماعی روک تھام کی ساکھ اور مؤثریت بڑھے
یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب کو خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور یمن کے حوثی حملوں نے سعودی دفاعی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے،اسی پس منظر میں اس نئے دفاعی معاہدے کے عملی طریقۂ کار کی اہمیت بڑھ گئی ہے،پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام بھی حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے انتہائی واضح بیانات دے چکے ہیں
یوں ریاض میں قائم ہونے والا یہ نیا سیکریٹریٹ محض ایک دفتری ادارہ نہیں ہوگا بلکہ یہی وہ مقام ہوگا جہاں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان نئے دفاعی فریم ورک کی مستقل رابطہ کاری اور ادارہ جاتی پیش رفت ہوگی،اور اس کے پہلے سربراہ کے طور پر پاکستان کا ایک سابق کور کمانڈر مقرر ہونا اس اتحاد کے ابتدائی ڈھانچے میں پاکستان کے کردار کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے
مکہ معاہدے نے اگست میں سیاسی عہد کو جنم دیا تھا، 31 اگست کو اس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ بنانے کا فیصلہ ہوا اور اب 23 ستمبر کو اس ڈھانچے کا پہلا سربراہ بھی سامنے آ گیا ہے،اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ ریاض کا سیکریٹریٹ اس معاہدے کے اجتماعی دفاع کے اصول کو عملی رابطہ کاری، مشترکہ منصوبہ بندی اور تینوں ملکوں کے دفاعی اداروں کے درمیان مستقل تعاون میں کس طرح تبدیل کرتا ہے






