Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اقوام متحدہ میں ایرانی صدر کا دوٹوک جواب، ’’امریکا نے حملہ کیا، ہم نے گھٹنے نہیں ٹیکے‘‘

اقوام متحدہ میں ایرانی صدر کا دوٹوک جواب، ’’امریکا نے حملہ کیا، ہم نے گھٹنے نہیں ٹیکے‘‘

نیویارک: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک روز قبل ایران کو ’’تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم وہ سفارت کاری کے ذریعے تنازعہ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں
پزشکیان نے اپنے مختصر خطاب کے آغاز میں کہا کہ ٹرمپ کی تقریر سننے سے پہلے ان کا ارادہ مختلف نوعیت کی تقریر کرنے کا تھا،انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دہشت گرد قرار دیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں”
ایرانی صدر نے جنگ کے دوران مارے جانے والے شہریوں کا ذکر کرتے ہوئے مناب کے ایک اسکول پر فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر بھی جنرل اسمبلی میں دکھائیں،ان کا کہنا تھا کہ ایران نے صرف اپنا دفاع کیا ہے اور ایرانی عوام کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا
پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، ’’انہوں نے ہمیں نشانہ بنایا، لیکن ہم نے گھٹنے نہیں ٹیکے”
ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز کو بھی اپنی تقریر کا اہم حصہ بنایا اور کہا کہ اس آبی گزرگاہ سے سب کو فائدہ اٹھانے کی اجازت ہو لیکن ایران کو وہاں جہاز رانی سے محروم رکھا جائے، یہ قابل قبول نہیں،انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں مستقل دشمن بحری بیڑوں کی موجودگی اور جنگ کو مزید پھیلانا امن کا راستہ نہیں
پزشکیان کا خطاب ایسے وقت میں ہوا جب ایک روز قبل ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ نہ ہوا تو امریکا اسلامی جمہوریہ ایران کو ’’annihilate‘‘ کر سکتا ہے
ایرانی صدر کے خطاب کے آغاز پر امریکی وفد جنرل اسمبلی سے باہر چلا گیا،ادھر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیویارک میں ایرانی حکام سے بالواسطہ مذاکرات بھی کیے، جنہیں ٹرمپ نے بعد میں ’’بہت اچھی ملاقات‘‘ قرار دیا، تاہم مذاکرات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں

قومی خبریں سے مزید