میکرون کے مغربی کنارے سے متعلق بیان پر نیتن یاہو برہم، ’مضحکہ خیز حد تک بے معنی‘ قرار دے دیا
نیویارک: اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنانے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے
میکرون نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ مغربی کنارے میں روزانہ کی بنیاد پر خلاف ورزیاں دیکھی جا رہی ہیں اور سوال اٹھایا کہ یہ سب کس مقصد کے لیے ہو رہا ہے،ان کے فرانسیسی الفاظ کی اقوام متحدہ کے ترجمان نے تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ’’حماس مغربی کنارے میں کبھی زیادہ فعال نہیں رہی”
نیتن یاہو نے اس بیان کو ’’مضحکہ خیز حد تک بے معنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے میں حماس کے ارکان تقریباً روزانہ یہودیوں کے خلاف حملے کرتے ہیں،ان کے دفتر نے حالیہ ایک واقعے کا حوالہ بھی دیا جس میں مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی شخص کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا
تاہم فرانسیسی سفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ میکرون کے بیان کا غلط مطلب لیا گیا،ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے وضاحت کی کہ میکرون کے اصل فرانسیسی جملے ’’Le Hamas n’a jamais sévi en Cisjordanie‘‘ کا مطلب یہ تھا کہ حماس نے مغربی کنارے پر کبھی حکومت نہیں کی، نہ کہ یہ کہ حماس وہاں کبھی سرگرم نہیں رہی
میکرون نے اپنے خطاب میں غزہ کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ ختم ہو چکی ہے،انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تشدد جاری ہے اور انسانی صورتحال بدستور انتہائی سنگین ہے
یہ تنازعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں،نیتن یاہو پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور اپنے ملک پر ہونے والی تنقید کا جواب دیں گے





