دنیا نیویارک میں، پاکستان کا پیغام تہران میں: محسن نقوی کا اچانک دورہ کس بڑی ڈپلومیسی کا حصہ؟

دنیا نیویارک میں، پاکستان کا پیغام تہران میں: محسن نقوی کا اچانک دورہ کس بڑی ڈپلومیسی کا حصہ؟

اسلام آباد/تہران: جب دنیا کے تقریباً 130 سربراہان اور اعلیٰ حکام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک میں جمع ہو رہے ہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی امریکی سرزمین پر موجود ہوں گے اور وزیراعظم شہباز شریف بھی اس وقت نیویارک میں ہیں، عین اسی وقت پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا دو روزہ تہران روانہ ہونا محض معمول کا پاک ایران رابطہ دکھائی نہیں دیتا
سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ محسن نقوی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر بات کریں گے، تاہم موجودہ حالات میں اس دورے کا اصل وزن ان الفاظ سے کہیں زیادہ ہے،پاکستان ایک طرف نیویارک میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر سفارتی سرگرمیوں میں شریک ہے اور دوسری طرف اس کا ایک اہم رابطہ کار تہران میں موجود ہے،امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی آج نقوی کے دورے کو پاکستان کی امریکہ ایران مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں سے جوڑا ہے
اصل کہانی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس دورے کو گزشتہ چند ماہ کی پاکستانی سفارت کاری کے تسلسل میں دیکھا جائے،پاکستان پہلے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے،وزیر داخلہ نقوی متعدد مرتبہ ایران جا چکے ہیں، جبکہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی اگست بھی محسن نقوی کے ساتھ تہران کا دورہ اسی وسیع تر سفارتی کوشش کے پس منظر میں ہوا تھا
اب صورتحال پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہے،امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کے لیے انتہائی حساس مسئلہ بن چکی ہے اور یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حالیہ حملوں نے تنازعے کو ایک اور خطرناک سمت دے دی ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے بارے میں اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں
اسی لیے نقوی کا تہران پہنچنا ایسے وقت میں اہم ہے جب ایران کی اعلیٰ قیادت نیویارک میں ہوگی،بظاہر یہ ایک عجیب سفارتی منظر ہے،ایرانی صدر اور وزیر خارجہ امریکہ میں، پاکستانی وزیراعظم امریکہ میں، مگر پاکستان کا ایک اہم وزیر ایران میں،لیکن یہی بظاہر تضاد ممکنہ طور پر اس سفارتی حکمت عملی کی اصل خصوصیت ہے
اس کا ایک ممکنہ مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ تہران کے ساتھ وہ حساس پیغامات براہ راست شیئر کیے جائیں جو نیویارک کی عوامی سفارت کاری یا بڑے عالمی اجلاس کے ماحول میں زیادہ مشکل سے زیر بحث آسکتے ہیں،دوسری طرف، پاکستان نیویارک میں موجود اپنی اعلیٰ قیادت کے ذریعے عالمی طاقتوں سے بات چیت جاری رکھ سکتا ہے،یوں اسلام آباد بیک وقت دونوں اطراف کے سفارتی دروازے کھلے رکھنے کی کوشش کر رہا ہے
ایرانی صدر پزشکیان اور وزیر خارجہ عراقچی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکہ نے ویزے بھی دیے ہیں، اگرچہ ایرانی وفد پر سفری اور دیگر پابندیاں عائد کی گئی ہیں،یعنی تہران کی قیادت اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست رابطے کا ایک نادر موقع نیویارک میں پیدا ہو رہا ہے
یہاں پاکستان کے لیے معاملہ صرف امریکہ ایران تعلقات تک محدود نہیں،سعودی عرب پر حوثی حملوں نے اسلام آباد کی سفارت کاری کو مزید مشکل بنا دیا ہے،پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات گہرے ہو چکے ہیں، دوسری طرف ایران اس کا براہ راست ہمسایہ ہے،اسلام آباد نہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی چاہتا ہے اور نہ سعودی عرب کے خلاف کسی علاقائی تنازعہ میں کھینچا جانا چاہتا ہے
چنانچہ تہران میں نقوی کی ملاقاتوں میں بظاہر “دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال” کا ایجنڈا ہے، مگر موجودہ حالات میں اس کے اندر کم از کم تین بڑے سوالات چھپے ہوئے ہیں،امریکہ ایران مذاکرات دوبارہ کیسے شروع ہوں، آبنائے ہرمز کا بحران کیسے محدود کیا جائے، اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کو مزید علاقائی جنگ سے کیسے بچایا جائے،موجودہ اطلاعات بھی بتاتی ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی ہیں
اس لیے محسن نقوی کا تہران دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نیویارک میں دنیا سفارت کاری کا بڑا اسٹیج سجانے جا رہی ہے،فرق صرف یہ ہے کہ اسلام آباد شاید یہ سمجھتا ہے کہ کچھ باتیں اقوام متحدہ کے ہال میں نہیں بلکہ تہران کے بند دروازوں کے پیچھے زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکتی ہیں، اور یہ بند دروازے یقیناً پاسداران انقلاب کے تہہ خانوں میں کہیں جاکر کھلتے ہیں جو ایرانی حکومت میں طاقت کا اصل سرچشمہ ہیں
یہ دورہ کسی حتمی معاہدے یا کامیاب ثالثی کی ضمانت نہیں، لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان امریکہ، ایران اور خلیج کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں اپنے سفارتی رابطے کا دروازہ بند کرنے کے بجائے اسے مزید فعال رکھنا چاہتا ہے،اور شاید اسی لیے، جب دنیا کی نظریں نیویارک پر ہیں، پاکستان کی ایک اہم سفارتی نظر تہران پر بھی ہے

قومی خبریں سے مزید