اقوام متحدہ کا آخری امتحان: جنگوں کے بیچ گوتریس کی آخری جنرل اسمبلی

اقوام متحدہ کا آخری امتحان: جنگوں کے بیچ گوتریس کی آخری جنرل اسمبلی

نیویارک: دنیا بھر کے سربراہان مملکت اور حکومتیں اس ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر پہنچ رہی ہیں، ایسے وقت میں جب یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں پر سفارت کاری مسلسل مشکلات کا شکار ہے اور عالمی ادارہ اندرونی تقسیم کا سامنا کر رہا ہے
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے لیے یہ جنرل اسمبلی کا آخری اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہے،ان کی مدت رواں سال کے اختتام پر مکمل ہو رہی ہے،گوتریس نے موجودہ عالمی صورتحال کو “گہری غیر یقینی کے دور” سے تعبیر کیا ہے، جس میں عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات نے اقوام متحدہ کے لیے مشترکہ فیصلوں اور مؤثر سفارت کاری کی گنجائش محدود کر دی ہے
اس جنرل اسمبلی کا اصل امتحان بھی یہی ہوگا کہ کیا عالمی رہنما جنگوں کے خاتمے، انسانی بحرانوں اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی پر کسی مشترکہ راستے کے قریب آسکتے ہیں یا دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں بڑے تنازعات پر اتفاق رائے سے زیادہ طاقت اور مفادات فیصلہ کن حیثیت اختیار کر رہے ہیں
گوتریس کے آخری جنرل اسمبلی اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ ان کے دور کا اختتام ایک ایسی عالمی صورتحال میں ہو رہا ہے جس میں اقوام متحدہ کو بیک وقت جنگوں، انسانی بحرانوں، بڑی طاقتوں کی باہمی کشمکش اور عالمی اداروں پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کا سامنا ہے
نیویارک میں اس ہفتے ہونے والی ملاقاتیں اور تقریریں اسی بڑے سوال کے گرد گھومیں گی کہ شدید عالمی تقسیم کے ماحول میں اقوام متحدہ اب بھی سفارت کاری کا مؤثر مرکز بن سکتا ہے یا نہیں

قومی خبریں سے مزید