امن — ایک دن نہیں، ایک ذمہ داری

امن — ایک دن نہیں، ایک ذمہ داری
 تحریر۔ خالد مسعود چوہدری

دنیا میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو کیلنڈر پر صرف ایک تاریخ نہیں ہوتے، بلکہ انسان کو اپنے ہی وجود کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ 21 ستمبر بھی ایسا ہی دن ہے۔ عالمی یومِ امن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان نے صدیوں کی جنگوں، خونریزیوں اور تباہ کاریوں کے بعد بھی امن کی تلاش نہیں چھوڑی۔ شاید اس لیے کہ انسان کے پاس جتنی بھی طاقت، دولت اور ٹیکنالوجی آ جائے، آخرکار اسے جینے کے لیے ایک محفوظ گھر، پُرسکون معاشرہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل ہی درکار ہوتا ہے۔

امن کا تصور اکثر ہمیں سرحدوں، فوجوں اور جنگ بندیوں تک محدود دکھائی دیتا ہے، مگر امن اس سے کہیں زیادہ وسیع حقیقت ہے۔ ایک ماں کے لیے امن یہ ہے کہ اس کا بیٹا شام کو بحفاظت گھر واپس آئے۔ ایک باپ کے لیے یہ اطمینان کہ اس کے بچوں کا مستقبل خوف کے سائے میں نہیں گزرے گا۔ ایک طالب علم کے لیے امن وہ ماحول ہے جہاں وہ کتاب کھول سکے، بمباری کی آواز نہ سنے۔ ایک مزدور کے لیے امن یہ ہے کہ اسے روزگار ملے اور اسے کل کی روٹی کی فکر نہ ہو۔ اور ایک عام شہری کے لیے امن شاید صرف اتنا ہو کہ اسے اپنے ملک کے قانون، اداروں اور معاشرے پر اعتماد ہو۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو امن کوئی تجریدی عالمی تصور نہیں؛ یہ ہماری روزمرہ زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔

مگر امن صرف خاموشی کا نام بھی نہیں۔ قبرستان میں بھی خاموشی ہوتی ہے، مگر وہاں زندگی نہیں ہوتی۔ حقیقی امن وہ ہے جس میں اختلاف موجود ہو مگر دشمنی نہ ہو، بحث ہو مگر نفرت نہ ہو، سیاسی مقابلہ ہو مگر انسانیت باقی رہے، اور طاقت موجود ہو مگر اس کے استعمال پر عقل اور قانون کی پابندی بھی ہو۔ جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، لیکن جنگ کے اسباب کو ختم کرنا اس سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ بندوق خاموش کرانا شاید آسان ہو، دلوں میں پیدا ہونے والا خوف، بداعتمادی اور نفرت ختم کرنا مشکل ہے۔

آج کی دنیا میں امن کی ایک نئی سرحد بھی پیدا ہو چکی ہے—ہماری موبائل اسکرین۔ ایک جھوٹی خبر، ایک اشتعال انگیز ویڈیو، ایک نفرت بھرا جملہ یا ایک بے بنیاد الزام چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ کبھی ایک لفظ سرحد پر فائرنگ سے زیادہ تیزی سے معاشروں کو تقسیم کر دیتا ہے۔ اس لیے امن کا دفاع صرف فوجی مورچوں پر نہیں ہوتا؛ بعض اوقات یہ ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل فون، ہماری زبان اور ہماری انگلیوں سے بھی شروع ہوتا ہے۔ خبر آگے بڑھانے سے پہلے تصدیق کرنا، اختلاف کرنے والے کو دشمن نہ سمجھنا اور جذبات کے بجائے دلیل سے جواب دینا بھی امن کی خدمت ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستیں اپنی سلامتی کو نظرانداز کر دیں یا دفاعی طاقت غیر ضروری ہے۔ دنیا کی حقیقت اس قدر سادہ نہیں۔ ہر ریاست کو اپنے شہریوں اور اپنی سرحدوں کے تحفظ کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ لیکن طاقت کا اصل امتحان صرف اسے استعمال کرنے میں نہیں، بلکہ یہ جاننے میں ہے کہ اسے کب استعمال کرنا ہے، کب روکنا ہے اور کب مذاکرات کا راستہ کھولنا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی جنگیں میدانِ جنگ میں شروع ہوئیں، مگر ان کا اختتام بالآخر میز پر ہی ہوا۔

شاید اسی لیے امن میں سرمایہ کاری کا مطلب صرف ہتھیار کم کرنا نہیں بلکہ تعلیم بڑھانا، انصاف مضبوط کرنا، نوجوانوں کو مواقع دینا، معاشی محرومی کم کرنا، صحت کی سہولتیں بہتر بنانا اور ایسے معاشرے تشکیل دینا بھی ہے جہاں لوگوں کو اپنے مستقبل سے مایوسی نہ ہو۔ جس معاشرے میں ناانصافی، محرومی اور بے یقینی مسلسل بڑھتی رہے، وہاں امن محض ایک خوبصورت لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ امن بڑے ایوانوں سے شروع ہو کر عام انسان تک پہنچنے والی چیز نہیں۔ بعض اوقات اس کا آغاز ایک گھر سے ہوتا ہے، جہاں باپ اپنے بیٹے کو اختلاف کا احترام سکھاتا ہے۔ ایک استاد اپنی جماعت میں برداشت پیدا کرتا ہے۔ ایک صحافی خبر کو سنسنی کے بجائے ذمہ داری سے پیش کرتا ہے۔ ایک سیاست دان مخالف کو غدار کہنے کے بجائے اس کی بات سنتا ہے۔ دو پڑوسی برسوں کی ناراضی ختم کرکے ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔ یہی چھوٹے چھوٹے فیصلے مل کر بڑے معاشروں کا مزاج بناتے ہیں۔

21 ستمبر ہمیں ایک خوبصورت سوال دیتا ہے، لیکن شاید اس کا جواب الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے دینا ہوگا۔

ہم امن کے بارے میں کیا کہتے ہیں، یہ اہم ہے؛ لیکن ہم اختلاف کے وقت کیا کرتے ہیں، اصل امتحان وہاں ہوتا ہے۔

دنیا کو شاید مزید تقریروں سے زیادہ ایسے رویوں کی ضرورت ہے جو نفرت کو روکیں، فاصلے کم کریں اور انسان کو انسان سمجھنے کی عادت واپس لائیں۔

عالمی یومِ امن ہمیں صرف یہ یاد دلانے کے لیے نہیں آتا کہ جنگ بری چیز ہے۔ یہ ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے حصے کا امن کہاں پیدا کر سکتے ہیں۔

اپنے گھر میں،
اپنے دفتر میں،
اپنے معاشرے میں،
اپنی زبان میں،
اور شاید سب سے پہلے اپنے دل میں۔

کیونکہ دنیا کا امن کسی ایک معاہدے، کسی ایک رہنما یا کسی ایک ادارے سے نہیں آئے گا۔

امن تب آئے گا جب انسان طاقت رکھنے کے باوجود برداشت کو، اختلاف کے باوجود احترام کو، اور غصے کے باوجود عقل کو اختیار کرنا سیکھے گا۔

اور شاید یہی 21 ستمبر کا سب سے بڑا پیغام ہے:

امن کا انتظار مت کیجیے۔
جہاں آپ ہیں، وہیں سے امن کا آغاز کیجیے
۔

قومی خبریں سے مزید