Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خلیجی تیل کی جنگ نے پاکستان کو سب سے زیادہ کیوں جھنجھوڑ دیا؟ بھارت اور بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ مہنگا ڈیزل، محدود ذخائر اور سعودی راستہ بند ہونے کا نیا خطرہ

خلیجی تیل کی جنگ نے پاکستان کو سب سے زیادہ کیوں جھنجھوڑ دیا؟ بھارت اور بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ مہنگا ڈیزل، محدود ذخائر اور سعودی راستہ بند ہونے کا نیا خطرہ

مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی تیل منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، مگر جنوبی ایشیا میں اس بحران کا بوجھ یکساں نہیں پڑا،پاکستان میں ڈیزل کی قیمت جنگ کے آغاز سے تقریباً 53 فیصد تک اوپر گئی، جبکہ بھارت میں اضافہ اس کے مقابلے میں آٹھ فیصد اور بنگلہ دیش میں بھی قیمتوں میں حالیہ دس فیصد اضافے کے باوجود پاکستان جیسی شدت نظر نہیں آئی،سوال صرف یہ نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا کیوں ہوا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ہی عالمی تیل بحران نے پاکستان کو اپنے پڑوسیوں کے مقابلے میں اتنا زیادہ کیوں متاثر کیا؟
پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خالصتاً عالمی قیمت کا نہیں بلکہ سپلائی کے راستے، زرمبادلہ، مقامی ٹیکس اور حکومتی قیمت سازی کے چار گنا دباؤ کا شکار ہے
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپریل 2026 کی اپنی رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ پاکستان کی تقریباً 81 فیصد فیول درآمدات خلیج تعاون کونسل، یعنی GCC، کے ممالک سے آتی ہیں،IMF نے خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ کے نتیجے میں صرف قیمتیں ہی نہ بڑھیں بلکہ جسمانی طور پر ایندھن کی دستیابی بھی متاثر ہوئی تو پاکستان کی معیشت پر اثر قیمتوں میں اضافے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا
یہی پاکستان کی اصل کمزوری ہے
بھارت بھی خلیج سے تیل لیتا ہے، مگر اس کے پاس بہت بڑا ریفائننگ سیکٹر، زیادہ متنوع سپلائی ذرائع اور روس سمیت مختلف ممالک سے خام تیل خریدنے کی گنجائش موجود ہے،بھارت دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کنندہ ہے اور جنگ کے دوران بھی اس نے مختلف ذرائع سے سپلائی برقرار رکھی،بھارتی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 21 ستمبر 2026 کو دہلی میں ڈیزل کی قیمت 95.20 بھارتی روپے فی لیٹر تھی
اس کے برعکس پاکستان کا انحصار خلیجی سپلائی پر بہت زیادہ ہے،2026 میں پاکستان کے ایک بڑے ریفائنر Cnergyico نے امریکی خام تیل کی درآمد نمایاں طور پر بڑھائی، کیونکہ جنگ نے خلیج سے آنے والی سپلائی اور آبنائے ہرمز کے راستے کو خطرے میں ڈال دیا تھا،Reuters کے مطابق پاکستان کی خلیجی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد پہلے ہرمز سے گزرتا تھا
یہاں ایک انتہائی اہم فرق ہے،بھارت اور پاکستان دونوں عالمی تیل قیمت ادا کرتے ہیں، مگر پاکستان کے پاس سپلائی میں جھٹکا برداشت کرنے کے لیے اتنے متبادل راستے اور ذرائع نہیں
پاکستان نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں عوام تک عالمی قیمت کا پورا بوجھ منتقل کرنے کے بجائے عارضی سبسڈی اور پیٹرولیم لیوی میں تبدیلیاں استعمال کیں،IMF کے مطابق 3 اپریل کو سبسڈی ختم ہونے کے بعد ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 55 فیصد کا ابتدائی اضافہ ہوا،بعد میں حکومت نے قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل شروع کیا
یہ بھی وجہ ہے کہ پاکستان میں قیمت کا موازنہ صرف عالمی خام تیل کے نرخ سے نہیں کیا جا سکتا
پاکستان میں پمپ پر جو قیمت صارف ادا کرتا ہے اس میں درآمدی اور ریفائنری لاگت کے ساتھ روپے کی قدر، اندرون ملک مال برداری، مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن، ڈیلر کمیشن اور وفاقی پیٹرولیم لیوی شامل ہوتی ہے،IMF کے مطابق پاکستان کا موجودہ نظام عالمی قیمت کو روپے میں تبدیل کرکے ان مختلف اخراجات اور لیوی کو آخری قیمت میں شامل کرتا ہے
جون 2026 میں ڈیزل کی قیمت میں ٹیکس اور لیوی کا حصہ تقریباً 29 فیصد بتایا گیا تھا، یعنی صارف کے ادا کردہ ہر 100 روپے میں تقریباً 29 روپے ٹیکسوں کی مد میں جا رہے تھے
یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان اور بھارت کا موازنہ دلچسپ ہوجاتا ہے،بھارت میں بھی ٹیکس اور ریاستی قیمت سازی کا کردار بہت اہم ہے، مگر وہاں سرکاری آئل کمپنیاں کئی مواقع پر عالمی قیمت بڑھنے کے باوجود خوردہ قیمت فوری طور پر نہیں بڑھاتیں،جون 2026 میں عالمی خام تیل میں نمایاں اتار چڑھاؤ کے باوجود بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کئی ہفتوں تک برقرار رہیں
دوسری طرف پاکستان IMF پروگرام کے تحت عالمی قیمت کو مقامی قیمتوں میں منتقل کرنے کا پابند بھی ہے،IMF نے صاف لکھا ہے کہ حکومت نے ایندھن کی قیمتوں کو ہر پندرہ دن بعد عالمی منڈی سے ہم آہنگ رکھنے کا عہد کیا ہے
یعنی پاکستان کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تیل مہنگا ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ عالمی قیمت بڑھتے ہی اس کا اثر زیادہ تیزی سے پاکستانی صارف تک پہنچتا ہے
مگر اب اصل خطرہ قیمت نہیں، سپلائی ہے
سعودی عرب کی East-West Pipeline پر حملے نے پاکستان کے لیے صورتحال مزید حساس بنا دی ہے،یہ پائپ لائن سعودی تیل کو خلیج سے بحیرہ احمر تک پہنچانے کا اہم متبادل راستہ ہے، تاکہ تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت کم ہو،حملے کے بعد پائپ لائن بند ہوئی اور عالمی مارکیٹ میں خدشہ پیدا ہوا کہ سعودی برآمدات مزید متاثر ہوسکتی ہیں
13 ستمبر کو Reuters نے سعودی ذرائع اور تاجروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اگر پائپ لائن چند دن میں بحال نہ ہوئی تو ینبع میں موجود ذخائر سعودی برآمدات کو صرف تقریباً 5 سے 7 دن تک سہارا دے سکتے ہیں
تاہم بعد کی صورتحال میں سعودی عرب نے ہرمز کے راستے بھی برآمدات بڑھانا شروع کیں، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سعودی تیل ایک ماہ بعد لازماً ختم ہوجائے گا،تازہ رپورٹوں کے مطابق سعودی تیل کی کچھ برآمدات ہرمز کے ذریعے دوبارہ بڑھ رہی ہیں
لیکن پاکستان کے لیے خطرہ برقرار ہے کیونکہ اسلام آباد خود تسلیم کر چکا ہے کہ سعودی راستہ اس کی توانائی سلامتی کے لیے اہم ہے،مارچ میں حکومت پاکستان نے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب سے ینبع کے راستے متبادل سپلائی مانگی تھی اور سعودی عرب نے پاکستان کو سپلائی جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی
اور اب صورتحال مزید تشویشناک ہے،16 ستمبر کو پاکستانی وزیر پٹرولیم کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ پاکستان کے پاس ڈیزل کے ذخائر موجودہ اور اگلے ماہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہیں، جبکہ حکومت سعودی راستے میں پھنسے ایک ٹینکر کو عمان یا متحدہ عرب امارات کے راستے موڑنے کے امکانات بھی دیکھ رہی تھی
یہی وہ حساسیت ہے جہاں 53 فیصد قیمت اضافہ محض مہنگائی کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی توانائی سلامتی کا سوال بن جاتا ہے
پاکستان کے لیے خوش آئند پہلو یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر ایک ہی سپلائر پر منحصر نہیں،FY2026 میں ملک نے خام تیل کی درآمد بڑھائی، مقامی ریفائنریوں کی پیداوار میں اضافہ کیا اور درآمد شدہ HSD یعنی ڈیزل پر انحصار کم کیا،اعداد و شمار کے مطابق HSD کی درآمد 34 فیصد کم ہو کر 1.35 ملین ٹن رہی
لیکن یہ بہتری ابھی اتنی بڑی نہیں کہ جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کی صورت میں خطرہ ختم ہوجائے
اگر جنگ کئی ماہ جاری رہی تو؟
اگر مشرق وسطیٰ کا تنازعہ طویل ہوتا ہے، ہرمز کی آمدورفت دوبارہ شدید متاثر ہوتی ہے، سعودی East-West Pipeline مسلسل دباؤ میں رہتی ہے اور Red Sea shipping بھی خطرناک رہتی ہے، تو پاکستان کو تین بڑے مسائل ایک ساتھ درپیش ہوسکتے ہیں
پہلا، تیل کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے
دوسرا، فریٹ اور انشورنس کی قیمت بڑھ سکتی ہے، یعنی پاکستان کو ایک بیرل تیل صرف زیادہ مہنگا ہی نہیں بلکہ اسے پاکستان پہنچانے کے لیے بھی زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی
تیسرا اور زیادہ خطرناک، سپلائی کی جسمانی کمی پیدا ہوسکتی ہے
اس صورت میں مسئلہ پٹرول پمپ پر چند روپے اضافے تک محدود نہیں رہے گا،ڈیزل ٹرکوں، بسوں، زرعی مشینری، بجلی پیدا کرنے والے بعض پلانٹس اور صنعتی سرگرمیوں کی لاگت میں داخل ہوگا،اس کے نتیجے میں خوراک سے لے کر برآمدی مصنوعات تک پوری معیشت متاثر ہوسکتی ہے
بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال بھی اس خطرے کی ایک مثال ہے،21 ستمبر کو ڈیزل کی قیمت 115 سے بڑھا کر 135 ٹکا فی لیٹر کی گئی، یعنی 17.4 فیصد اضافہ،حکومت نے اس کی وجہ عالمی قیمتوں اور جنگ کے باعث بڑھتے ہوئے شپنگ اخراجات بتائی،بنگلہ دیشی حکومت کے مطابق مارچ سے اگست کے دوران سرکاری Bangladesh Petroleum Corporation کو تقریباً 228.76 ارب ٹکا کا نقصان ہوا
یہاں ایک دلچسپ نکتہ سامنے آتا ہے،بنگلہ دیش بھی تیل درآمد کرتا ہے، لیکن اس کے پاس بھی مقامی قیمتوں کو کچھ عرصہ روکنے یا بعد میں منتقل کرنے کے لیے مختلف مالیاتی طریقے موجود رہے،اس کے باوجود اب وہاں بھی عالمی بحران کا دباؤ براہ راست صارف تک پہنچ رہا ہے
پاکستان میں اصل سوال اس لیے زیادہ سخت ہے کہ ملک پہلے ہی زرمبادلہ، قرض، توانائی اور مہنگائی کے دباؤ سے گزر رہا ہے،عالمی تیل قیمت میں ہر بڑا اضافہ پاکستان کے درآمدی بل اور ڈالر کی طلب کو بڑھاتا ہے، جبکہ ڈیزل کی مہنگائی تقریباً ہر شعبے میں منتقل ہوتی ہے
اس لیے پاکستان میں ڈیزل کی قیمت کا 53 فیصد تک بڑھ جانا صرف یہ نہیں بتاتا کہ دنیا میں تیل مہنگا ہوگیا ہے،یہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ پاکستان کا معاشی ڈھانچہ عالمی توانائی کے جھٹکوں کے مقابلے میں بھارت جیسے بڑے اور متنوع ریفائننگ نظام کے مقابلے میں زیادہ حساس ہے
اور مستقبل کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر جنگ ختم نہ ہوئی تو پاکستان مہنگا تیل کہاں سے خریدے گا، اسے کس راستے سے لائے گا اور اس کی ادائیگی کس ڈالر سے کرے گا؟
کیونکہ اگر ہرمز، سعودی راستہ اور Red Sea shipping بیک وقت غیر محفوظ رہتے ہیں تو مسئلہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان میں ڈیزل 53 فیصد مہنگا کیوں ہوا
اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا پاکستان کے پاس مہنگا ڈیزل خریدنے کے لیے بھی کافی ڈالر اور اسے پاکستان تک پہنچانے کے لیے کافی محفوظ راستے موجود ہیں؟

قومی خبریں سے مزید