ٹرمپ کا AI پر جینسن ہوانگ پر غیر معمولی اعتماد، اصل کھیل روبوٹس نہیں چپس کا ہے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے باوجود این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کے نسبتاً بے خوف مؤقف سے واضح قربت اختیار کرلی ہے,معاملہ صرف یہ نہیں کہ ٹرمپ نے ہوانگ کو فون کرکے کہا کہ “روبوٹس دنیا پر قبضہ نہیں کرنے والے”، بلکہ یہ گفتگو اس بڑے امریکی مباحثے میں صدر کی پوزیشن بھی واضح کرتی ہے کہ AI کی تیز رفتار ترقی کو حفاظتی خدشات کے نام پر محدود کیا جائے یا امریکہ اسے مزید تیزی سے آگے بڑھائے
14 ستمبر کو لاس اینجلس میں All-In Summit کے دوران ہوانگ مصنوعی ذہانت پر گفتگو کر رہے تھے کہ صدر ٹرمپ کا فون آگیا،ہوانگ نے فون اسپیکر پر ڈال دیا اور صدر نے مجمع کے سامنے AI کے تباہ کن مستقبل کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روبوٹس دنیا پر قبضہ نہیں کریں گے،واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز، ٹیک کرنچ، دی ورج اور دیگر امریکی میڈیا نے اس غیر معمولی گفتگو کو رپورٹ کیا
لیکن جینسن ہوانگ کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ محض ایک کامیاب کاروباری شخصیت نہیں،انہوں نے 1993 میں NVIDIA قائم کی تھی اور اس کے بعد تین دہائیوں سے کمپنی کی قیادت کر رہے ہیں،Oregon State University سے الیکٹریکل انجینئرنگ اور Stanford University سے ماسٹرز کرنے والے ہوانگ نے ابتدا میں کمپیوٹر گرافکس کے میدان میں کام کیا، مگر NVIDIA کے GPU نے بعد میں parallel computing اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کی بنیاد مضبوط کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا
اصل اہمیت یہاں سامنے آتی ہے۔ ChatGPT جیسے AI ماڈلز بنانے والی کمپنیاں جتنی اہم ہیں، انہیں چلانے کے لیے درکار انتہائی طاقتور کمپیوٹنگ infrastructure بھی اتنا ہی اہم ہے، اور اس infrastructure میں NVIDIA کی چپس بنیادی حیثیت رکھتی ہیں،NVIDIA کے مطابق دنیا بھر میں 40,000 سے زیادہ کمپنیاں اس کی AI ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہیں
اسی لیے ہوانگ کا AI پر مؤقف دوسرے ٹیک رہنماؤں سے مختلف دکھائی دیتا ہے،Anthropic کے سربراہ ڈاریو اموڈی سمیت بعض بڑے AI رہنما ترقی کی رفتار کم کرنے، زیادہ حفاظتی جانچ اور حکومتی نگرانی پر زور دے رہے ہیں،ہوانگ اس کے برعکس یہ دلیل دیتے ہیں کہ AI کی ترقی روکنا یا غیر ضروری طور پر سست کرنا امریکہ کو چین کے مقابلے میں نقصان پہنچا سکتا ہے،وہ خطرات کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے بجائے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ AI کی ترقی جاری رہنی چاہیے اور اسے محفوظ طریقے سے آگے بڑھایا جائے
ٹرمپ اور ہوانگ کی قربت کا ایک بڑا سبب یہی مشترکہ مفاد ہے،ٹرمپ AI کو امریکی معاشی طاقت، ڈیٹا سینٹرز، توانائی، چپ سازی اور چین کے ساتھ تکنیکی مقابلے سے جوڑتے ہیں، جبکہ NVIDIA کا کاروباری مستقبل AI infrastructure کی مسلسل توسیع سے براہ راست وابستہ ہے،2025 میں NVIDIA نے امریکہ میں اپنی manufacturing capacity میں سینکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، جسے وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی صنعتی پالیسی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا
ہوانگ کی موجودہ حیثیت اس قربت کو مزید اہم بناتی ہے،2026 میں انہیں صدر کی President’s Council of Advisors on Science and Technology میں بھی مقرر کیا گیا،یوں NVIDIA کا سربراہ اب صرف Silicon Valley کا صنعت کار نہیں رہا بلکہ امریکی حکومت کے اعلیٰ سطحی سائنسی اور تکنیکی مشاورتی حلقے کا حصہ بھی ہے
اس پوری بحث کا اصل سوال اس لیے “کیا روبوٹس دنیا پر قبضہ کریں گے؟” سے کہیں بڑا ہے،سوال یہ ہے کہ امریکہ AI کی دوڑ میں رفتار کو ترجیح دے گا یا حفاظتی ضوابط کو،ٹرمپ اور ہوانگ فی الحال واضح طور پر رفتار، سرمایہ کاری اور امریکی تکنیکی برتری کو ترجیح دینے والے کیمپ میں نظر آتے ہیں، جبکہ Anthropic اور بعض دوسرے AI رہنما زیادہ محتاط راستے پر زور دے رہے ہیں،یہی اختلاف آنے والے برسوں میں نہ صرف Silicon Valley بلکہ امریکی معیشت، قومی سلامتی اور چین کے ساتھ ٹیکنالوجی کی مسابقت کو بھی متاثر کر سکتا ہے
ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہوانگ کی طاقت دراصل AI ماڈل بنانے میں نہیں بلکہ AI کو چلانے والی بنیادی computing طاقت میں ہے۔ اسی لیے ٹرمپ کے لیے ان کی بات محض ایک CEO کی رائے نہیں، بلکہ اس صنعت کے اس حصے کی آواز ہے جس کے بغیر AI کی موجودہ دوڑ کی رفتار برقرار رکھنا مشکل ہے






