حوثی حملوں نے پاکستان کے سعودی دفاعی معاہدے کو کڑے امتحان میں ڈال دیا، ایران سے تعلقات اور معاشی انحصار کے درمیان اسلام آباد کے لیے نئی سفارتی آزمائش

حوثی حملوں نے پاکستان کے سعودی دفاعی معاہدے کو کڑے امتحان میں ڈال دیا، ایران سے تعلقات اور معاشی انحصار کے درمیان اسلام آباد کے لیے نئی سفارتی آزمائش

سعودی عرب پر یمن کے حوثیوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں نے پاکستان کو ایک ایسے سفارتی اور دفاعی امتحان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس میں ریاض کے ساتھ دفاعی عہد، ایران کے ساتھ طویل سرحد اور سفارتی روابط، مشرق وسطیٰ میں ثالثی کی کوششیں اور خود پاکستان کی داخلی سلامتی و معاشی مشکلات بیک وقت ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں
19 ستمبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں، آگ اور دھوئیں کے مناظر سامنے آئے، جبکہ سعودی حکام نے دارالحکومت اور الخرج میں فضائی حملے کے خطرے کے الرٹس جاری کیے،یہ واقعات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حوثیوں نے سعودی شہروں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب نے اتحادیوں سے فضائی دفاعی مدد طلب کی ہے،ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب نے فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سے دفاعی معاونت کے لیے رابطہ کیا ہے، کیونکہ جاری لڑائی کے دوران میزائل شکن نظام کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے
پاکستان کے لیے اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سعودی عرب پر حملہ ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسلام آباد نے گزشتہ ایک سال میں ریاض کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو ایک غیر معمولی سطح تک پہنچایا ہے،2025 کے پاکستان سعودی اسٹریٹیجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ کے بعد اگست 2026 میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے ذریعے تعاون کو مزید وسیع کیا،اس انتظام میں کسی ایک فریق پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملے کے طور پر دیکھا جانے کا اصول شامل ہے، اگرچہ معاہدے کی تمام عملی اور خفیہ شرائط عوام کے سامنے نہیں ہیں
اسلام آباد اب بیک وقت دو پیغامات دے رہا ہے،ایک طرف پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور دفاع کے حق کی کھل کر حمایت کر رہا ہے، دوسری طرف جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مذاکرات اور تحمل پر زور دے رہا ہے،16 ستمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل اور مذاکرات کی واپسی کا مطالبہ کیا اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے قانونی حق کی حمایت کی
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فریقین سے “maximum restraint” اختیار کرنے اور مزید کشیدگی کے کنارے سے پیچھے ہٹنے پر زور دیا،پاکستان نے ساتھ ہی سعودی قیادت سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے
لیکن پاکستان کی سب سے پیچیدہ پوزیشن ایران کے حوالے سے ہے،اسلام آباد کے تہران کے ساتھ سفارتی رابطے قائم ہیں اور پاکستان حالیہ مہینوں میں ایران اور دوسرے فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوشش بھی کرتا رہا ہے،فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستانی حکام نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے روکنے یا کم کرنے پر آمادہ کرے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی قیادت کے ساتھ اس معاملے پر رابطے کیے ہیں
یہی پاکستان کے لیے بنیادی تضاد ہے،اگر اسلام آباد سعودی عرب کے دفاع میں براہ راست جنگی کردار اختیار کرتا ہے تو ایران کے ساتھ اس کی ثالثی کی پوزیشن شدید متاثر ہو سکتی ہے،اگر وہ سعودی دفاعی معاہدے کے باوجود فوجی کردار سے گریز کرتا ہے تو ریاض کے ساتھ کیے گئے دفاعی وعدوں کی عملی حیثیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں
پاکستانی عسکری قیادت نے اس دباؤ کو کم کرنے کے بجائے اپنے عزم کو بہت واضح الفاظ میں بیان کیا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 18 ستمبر کو کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے سفارتی اور عملی طور پر اس کے ساتھ کھڑا ہے اور ضرورت پڑنے پر “to any extent” جائے گا،تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف براہ راست پاکستانی فوج بھیجنے کی باضابطہ درخواست کی ہے
یہ فرق انتہائی اہم ہے،سعودی عرب کا دفاع کرنا اور حوثیوں کے خلاف یمن میں جنگ لڑنا ایک ہی چیز نہیں،پاکستان پہلے ہی سعودی عرب میں مقدس مقامات اور دیگر تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوجی اہلکار رکھتا ہے،فضائی دفاع، انٹیلی جنس، تربیت، تکنیکی مدد یا سعودی سرزمین کے دفاع میں کردار اور یمن کے اندر حوثیوں کے خلاف زمینی یا جارحانہ کارروائی الگ الگ سطح کے فوجی فیصلے ہوں گے،پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے نیت اور عزم موجود ہے، لیکن “کب، کیسے، کہاں اور کس قوت کے ذریعے” کارروائی ہوگی، اس کی تفصیلات ابھی عملی سطح پر واضح نہیں کی گئیں
اس صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ جنگ میں داخل ہونے سے پہلے ہی جنگ کے اثرات کا شکار ہونا ہے،پاکستان پہلے ہی دہشت گردی کے شدید دباؤ میں ہے،19 ستمبر کو خیبر پختونخوا کے کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ پر حملے میں 21 افراد ہلاک اور 103 زخمی ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے طویل کارروائی کے بعد حملہ آوروں کو ہلاک کیا
بلوچستان میں بھی 2026 کے دوران عسکریت پسندی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق اگست کے آخری ہفتے اور ستمبر کے آغاز میں ملک بھر میں حملوں میں 52.5 فیصد اضافہ ہوا اور بلوچستان اس اضافے کا مرکزی مرکز رہا
اسی طرح سندھ میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹوں کے معاملے پر سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے،سندھ اسمبلی میں اس معاملے پر کئی روز تک شدید بحث ہوئی اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان بداعتمادی نمایاں رہی
معاشی محاذ بھی پاکستان کو بیرون ملک ایک نئی جنگ کا خطرہ مول لینے کے لیے بہت محدود گنجائش دیتا ہے،آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی سالانہ ترسیلات زر تقریباً 9 فیصد جی ڈی پی کے برابر ہیں اور ان میں 55 فیصد خلیجی ممالک سے آتی ہیں،اسی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خلیجی معیشتوں میں شدید خلل، توانائی کی بلند قیمتیں یا علاقائی جنگ کا طویل ہونا پاکستان کے بیرونی کھاتے، ترسیلات اور مالی استحکام پر منفی اثر ڈال سکتا ہے
یہاں سعودی عرب پاکستان کے لیے صرف دفاعی اتحادی نہیں بلکہ معاشی اہمیت رکھنے والا ملک بھی ہے،دوسری طرف ایران کے ساتھ کشیدگی پاکستان کے لیے سرحدی سلامتی، تجارت اور بلوچستان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے،چنانچہ اسلام آباد کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ہے یا ایران کے ساتھ،اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بیک وقت سعودی دفاعی شراکت دار، ایران سے رابطہ رکھنے والا ثالث اور ایک ایسے ملک کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھ سکتا ہے جو خود دہشت گردی اور معاشی دباؤ سے گزر رہا ہے؟
موجودہ پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان فوری طور پر یمن کے اندر جنگی محاذ کھولنے کے بجائے تین سطحوں پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے،سعودی عرب کے دفاع کے حق کی واضح حمایت، سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے معاہداتی ذمہ داری کو برقرار رکھنا، اور ایران سمیت خطے کے فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے کے ذریعے جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا،پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ بحیرہ احمر، باب المندب اور عالمی تجارت کو متاثر کرنے والی کشیدگی کو سفارتی عمل کے ذریعے ختم کیا جائے
لیکن اگر سعودی عرب باضابطہ طور پر دفاعی معاہدے کو فعال کرتے ہوئے پاکستان سے بڑے پیمانے پر فوجی مدد طلب کرتا ہے تو اسلام آباد کے سامنے سب سے مشکل فیصلہ اسی وقت آئے گا،براہ راست جنگ میں شمولیت سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدے کو عملی شکل دے سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ایران کے ساتھ تعلقات، پاکستان کی ثالثی کی ساکھ، داخلی سلامتی، عسکری وسائل اور پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشت پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے
یوں حوثی حملے پاکستان کے لیے محض سعودی عرب کا دفاعی مسئلہ نہیں رہے،یہ اب اسلام آباد کی پوری خارجہ پالیسی، ایران کے ساتھ تعلقات، سعودی عرب سے دفاعی وابستگی، داخلی سلامتی اور معاشی بقا کے درمیان توازن کا امتحان بن چکے ہیں

قومی خبریں سے مزید