15 سال جلاوطنی کے بعد بشار الاسد مخالف شامی گلوکارہ اصالہ کی دمشق میں شاندار واپسی
شام کی معروف گلوکارہ اصالہ نصری 15 سال کی جلاوطنی کے بعد اپنے آبائی ملک شام واپس پہنچ گئیں اور دارالحکومت دمشق میں ان کا پہلا کنسرٹ ہزاروں مداحوں کی موجودگی میں منعقد ہوا۔ 57 سالہ گلوکارہ نے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف 2011 میں شروع ہونے والی عوامی تحریک کی کھل کر حمایت کی تھی، جس کے بعد وہ شام چھوڑ کر مصر چلی گئی تھیں
اصالہ نے جمعرات کی شب دمشق کے الفیحاء اسپورٹس ہال میں ہونے والے کنسرٹ کے آغاز پر شامی عوام سے محبت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنے لوگوں کے درمیان واپس آنے کا خواب دیکھتی رہی ہیں ہزاروں افراد نے ان کا استقبال کیا، کئی مداح جذباتی ہوگئے اور ہال میں شامی پرچم بھی لہراتے رہے یہ کنسرٹ شام میں دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والی نمایاں ثقافتی تقریبات میں شمار کیا جا رہا ہے
اصالہ 2011 میں شام میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہونے کے بعد ان کی حمایت کرنے والی نمایاں فنکاروں میں شامل تھیں انہوں نے حکومت کی حمایت میں ہونے والی تقریبات میں شرکت سے انکار کیا، جس کے نتیجے میں انہیں شامی فنکاروں کی یونین سے نکال دیا گیا اور ان کے خلاف سرکاری اور میڈیا مہمات بھی چلائی گئیں بعد میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ قاہرہ منتقل ہوگئیں اور شام سے باہر رہتے ہوئے عرب دنیا میں اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھا
شام میں 2011 کی احتجاجی تحریک پر حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد ملک ایک طویل خانہ جنگی میں داخل ہوگیا جو تقریباً 13 سال جاری رہی اس دوران لاکھوں افراد ہلاک ہوئے اور بڑی تعداد میں شامی شہری ملک سے باہر منتقل ہوئے اصالہ نے اپنی موسیقی کے ذریعے بھی شامی عوام کے حالات اور جنگ سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی جاری رکھا
واپسی کے موقع پر اصالہ نے اپنے نئے البم “شامی البم” کے گانے بھی پیش کیے، جس میں شام کے تمام 14 صوبوں کے لوک گیت شامل ہیں البم میں شام کے مختلف علاقوں، جنگ سے متاثرہ شہروں، ساحلی علاقے اور سویدا سمیت ملک کے مختلف حصوں کی ثقافتی اور انسانی صورتحال کو موسیقی کے ذریعے پیش کیا گیا ہے
اصالہ کے کنسرٹ کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے کیونکہ بعض مذہبی قدامت پسند حلقوں نے اس پروگرام کو منسوخ کرنے کی مہم بھی چلائی تھی تاہم کنسرٹ منعقد ہوا اور اس کی آمدنی کا نصف حصہ فلاحی اداروں کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے
اصالہ کی دمشق واپسی کو شام میں سیاسی تبدیلی کے بعد فنون اور ثقافت کے دوبارہ متحرک ہونے کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے شامی وزارت ثقافت نے ان کی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ ان کے لیے دمشق میں بڑے پیمانے پر تشہیری مہم بھی چلائی گئی اصالہ نے 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد “سوریا جنت” کے نام سے ایک گانا بھی جاری کیا تھا جس میں شام کے اتحاد اور دوبارہ تعمیر کا پیغام دیا گیا تھا






