پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کیوں ضروری سمجھی جا رہی ہے، نئے صوبوں سے کیا بدلے گا؟

پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کیوں ضروری سمجھی جا رہی ہے، نئے صوبوں سے کیا بدلے گا؟

پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل اور نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے اس بحث کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ اور انتظامی ضروریات کے باعث موجودہ صوبائی ڈھانچہ عوام کو بنیادی سہولتیں مؤثر انداز میں فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں رہا دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اختیارات اور وسائل کو مقامی حکومتوں تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے
یہ بحث اس وقت نمایاں ہوئی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے انتظامی نظام کو ازسرنو ترتیب دینے اور نئے انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت پر زور دیا ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 8 دہائیاں گزرنے کے باوجود تعلیم، صحت، صاف پانی اور صفائی سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں مسائل موجود ہیں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ انتظامی ڈھانچے کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کی طرف سے مسلط نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کی رائے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے
نئے صوبوں کے حامیوں کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ موجودہ صوبے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بہت بڑے ہوچکے ہیں، جس کے باعث دور دراز علاقوں کے شہریوں کو حکومت اور انتظامیہ تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور دیگر علاقوں میں طویل عرصے سے الگ صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے مطالبات موجود رہے ہیں ان مطالبات میں بہتر انتظامیہ کے ساتھ ساتھ علاقائی شناخت، سیاسی نمائندگی اور ترقی میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کی خواہش بھی شامل ہے
تاہم انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی صرف نقشے پر نئی حد بندی کرنے کا نام نہیں ایک نیا صوبہ قائم کرنے کے لیے اسمبلی، سیکریٹریٹ، اعلیٰ عدالت، سرکاری محکمے، پولیس، ٹیکس نظام، سرکاری ملازمین اور دیگر اداروں کا پورا انتظام قائم کرنا پڑتا ہے اس کے نتیجے میں مستقل مالی اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں ماہرین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ نئے صوبوں سے حاصل ہونے والے انتظامی فوائد ان اضافی اخراجات کے مقابلے میں کتنے ہوں گے
اس بحث کا ایک اہم پہلو مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا بھی ہے پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140 اے صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کریں۔ ناقدین کے مطابق اگر سڑکوں، گلیوں، نکاسی آب، صفائی، مقامی انفراسٹرکچر اور شہری سہولتوں کے فیصلے صوبائی دارالحکومتوں کے بجائے مقامی سطح پر کیے جائیں تو حکومت اور عام شہری کے درمیان فاصلہ کم ہوسکتا ہے
دوسری طرف نئے صوبوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صرف مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے سے بعض بڑے علاقائی مسائل حل نہیں ہوں گے ان کے مطابق چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومت کو شہریوں کے قریب لاسکتی ہیں اور ایسے علاقوں کو زیادہ سیاسی اور انتظامی نمائندگی دے سکتی ہیں جو موجودہ نظام میں خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں ایک قومی بحث میں سیاست دانوں، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی نئے صوبوں، انتظامی یونٹس، مالی اختیارات کی منتقلی اور مقامی حکومتوں کی مضبوطی کو ایک ہی وسیع اصلاحاتی عمل کے مختلف حصوں کے طور پر زیر بحث لایا
نئے صوبے بنانے کے معاملے میں آئینی طریقہ کار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں 2 تہائی اکثریت سے قرارداد، اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں 2 تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے اس لیے کسی انتظامی تبدیلی کو محض انتظامی حکم کے ذریعے نافذ نہیں کیا جاسکتا
اس بحث میں مالی معاملات بھی اہم ہیں موجودہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم پہلے ہی ایک پیچیدہ معاملہ ہے اگر صوبوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو وسائل کی تقسیم، نئے صوبوں کے اخراجات اور وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی ذمہ داریوں کے تعین کے لیے نئے انتظامات درکار ہوسکتے ہیں بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے صوبے بنانے کی وجہ سے معاشی اور انتظامی اصلاحات سے توجہ بھی ہٹ سکتی ہے
پاکستان میں انتظامی اصلاحات کی بحث کا دوسرا رخ یہ ہے کہ موجودہ مسائل کی بڑی وجہ صرف صوبوں کا حجم نہیں بلکہ سیاسی عدم استحکام، اختیارات کا ارتکاز، کمزور ادارے، وسائل کی غیر مؤثر تقسیم اور مقامی حکومتوں کا محدود کردار بھی ہیں۔ اسی لیے بعض ماہرین کے مطابق صوبائی حدود تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ سول سروس، مقامی حکومت، مالیاتی نظام، قانون کی حکمرانی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں اصلاحات ضروری ہوں گی
یوں پاکستان میں جاری بحث صرف اس سوال تک محدود نہیں کہ ملک میں 4 صوبے رہیں یا مزید صوبے بنائے جائیں اصل سوال یہ بھی ہے کہ اختیارات کس سطح پر ہوں، عوام کو سرکاری اداروں تک کتنی آسان رسائی حاصل ہو، وسائل کیسے تقسیم کیے جائیں اور مقامی نمائندوں کو کتنے مالی و انتظامی اختیارات دیے جائیں حکومت کی جانب سے بھی فی الحال یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ بحث ابتدائی مرحلے میں ہے اور نئے صوبوں، نئے انتظامی یونٹس یا مقامی سطح پر مزید اختیارات کی منتقلی کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا

قومی خبریں سے مزید