گوادر اور پنجگور میں 8 افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں، بلوچستان میں یہ سلسلہ آخر کب ختم ہوگا
بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور گوادر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8 افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں مختلف مقامات سے ملنے کے بعد صوبے میں جاری بدامنی اور لاپتا افراد کے مسئلے نے ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرلی ہے پنجگور کے علاقے گوارگو سے 5 افراد کی لاشیں ملیں جبکہ گوادر کے جیوانی سب ڈویژن کے علاقے کلدان سے 3 لاشیں برآمد ہوئیں۔ پولیس کے مطابق پنجگور میں ملنے والی تمام 5 لاشوں پر گولیوں کے متعدد نشانات موجود تھے ان میں سے 2 کی شناخت شفیق ولد دادا محمد اور سلیم کٹا کے نام سے ہوئی
گوادر سے ملنے والی 3 لاشوں کی شناخت احسن، نادل اور حسن رفیق کے نام سے ہوئی پولیس کے مطابق قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاشیں اہلخانہ کے حوالے کردی گئیں ان میں احسن کا معاملہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق اسے 21 جنوری 2026 کی رات جیوانی میں اس کے گھر سے مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ لاپتا تھا کئی ماہ بعد اس کی لاش ملنے سے اہلخانہ اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ وہ کہاں رہا اور اس کی موت کیسے ہوئی
بلوچستان میں لاپتا افراد اور بعد میں ان کی لاشیں ملنے کے واقعات گزشتہ کئی برس سے ایک سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں بلوچ انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ بعض افراد کو سکیورٹی ادارے حراست میں لیتے ہیں، ان کے اہلخانہ کو کئی ماہ تک ان کے بارے میں معلومات نہیں ملتیں اور بعض صورتوں میں بعد میں ان کی لاشیں ملتی ہیں ریاستی ادارے دوسری طرف مسلح علیحدگی پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں اس لیے ہر واقعے کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے الگ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں
حالیہ واقعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ ختم نہیں ہوا انسانی حقوق کے مقامی ادارے نے جون 2026 کے دوران بلوچستان میں 63 جبری گمشدگیوں اور 77 ہلاکتوں کے واقعات ریکارڈ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اس رپورٹ میں پنجگور کو ان اضلاع میں شامل کیا گیا جہاں جبری گمشدگیوں کے واقعات زیادہ رپورٹ ہوئے یہ اعداد و شمار اس ادارے کی اپنی دستاویزات ہیں، سرکاری اعداد و شمار نہیں، اس لیے انہیں اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے
بلوچ انسانی حقوق کی تنظیم پَانک نے بھی مئی 2026 کے دوران بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے متعدد واقعات رپورٹ کیے تھے اس کی رپورٹ میں پنجگور اور گوادر دونوں سے گمشدگیوں کے واقعات درج کیے گئے تنظیم کا مؤقف ہے کہ بعض افراد کو لاپتا کیے جانے کے بعد ان کی لاشیں ملتی ہیں، جبکہ ریاستی اداروں کی جانب سے ان الزامات کی ہر معاملے میں آزادانہ عدالتی تصدیق موجود نہیں
پنجگور میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں جون 2026 میں پنجگور اور کیچ سے 4 لاشیں ملنے کی اطلاع سامنے آئی تھی جن میں ایک ایسے شخص کی لاش بھی شامل تھی جس کے بارے میں اس کے خاندان نے کہا تھا کہ وہ پہلے لاپتا ہوگیا تھا بعض لاشوں پر گولیوں کے نشانات بھی بتائے گئے تھے، تاہم حکام نے ہر معاملے میں موت کی مکمل وجوہ بیان نہیں کی تھیں
اسی طرح اگست میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پنجگور میں 2 افراد کی ہلاکتوں کو جبری گمشدگی کے بعد مبینہ ماورائے عدالت قتل قرار دیا تھا۔ تنظیم کے مطابق دونوں افراد پہلے لاپتا ہوئے اور بعد میں ان کی لاشیں ملیں یہ بھی ایک فریق کا الزام ہے اور ایسے دعووں کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں
دوسری جانب بلوچستان میں مسلح شورش بھی مسلسل جاری ہے بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ریاستی اداروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف حملے کرتی رہی ہیں اور حکومت ان تنظیموں کے خلاف فوجی اور سکیورٹی کارروائیاں کرتی ہے۔ 18 ستمبر کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پنجگور اور کچھی میں 2 الگ کارروائیوں کے دوران 7 عسکریت پسند مارے گئے، جن میں 5 پنجگور میں مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں تو دوسری طرف عام آبادی میں لاپتا افراد اور ہلاکتوں کے بارے میں شکایات بھی برقرار ہیں
بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے حال ہی میں مسلح گروہوں کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق ریاست مسلح گروہوں کے خلاف جنگ میں ہے دوسری طرف انسانی حقوق کے کارکنوں اور بلوچ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف سکیورٹی کارروائیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور لاپتا افراد، سیاسی حقوق، وسائل میں مقامی آبادی کے حصے اور شہری آزادیوں کے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے
یوں بلوچستان کا بحران صرف چند لاشیں ملنے کا معاملہ نہیں رہا ایک طرف مسلح گروہوں کے حملے، سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی ہلاکتیں اور ریاستی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ دوسری طرف لاپتا افراد کے خاندان برسوں سے اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات اور انصاف کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جب کسی لاپتا شخص کی لاش ملتی ہے تو خاندان کے لیے سب سے بڑا سوال یہی رہ جاتا ہے کہ اسے کس نے اٹھایا، کہاں رکھا گیا، اس کے ساتھ کیا ہوا اور آخر اسے کس نے قتل کیا
گوادر اور پنجگور میں ملنے والی 8 لاشوں کے معاملے میں بھی ابھی ان سوالات کے مکمل جواب سامنے نہیں آئے پولیس نے لاشیں برآمد کرکے شناخت اور قانونی کارروائی مکمل کی ہے، لیکن قتل کے محرکات، ذمہ داروں اور خصوصاً احسن کے لاپتا ہونے سے لے کر اس کی لاش ملنے تک کے عرصے کی مکمل تفصیل ابھی واضح نہیں جب تک ان واقعات کی شفاف تحقیقات نہیں ہوتیں، بلوچستان میں لاپتا ہونے، لاش ملنے اور پھر ایک نئے واقعے کے سامنے آنے کا یہ سلسلہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا






