شمالی کوریا نے جوہری طاقت کی حیثیت کو ناقابل واپسی قرار دے دیا، عالمی جوہری ادارے کی قرارداد مسترد

شمالی کوریا نے جوہری طاقت کی حیثیت کو ناقابل واپسی قرار دے دیا، عالمی جوہری ادارے کی قرارداد مسترد

شمالی کوریا نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے اس کے جوہری پروگرام پر تنقید کے بعد ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ اپنی جوہری طاقت کی حیثیت سے دستبردار نہیں ہوگا شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کی جوہری طاقت کی حیثیت ناقابل واپسی ہے اور اسے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کے ذریعے تحفظ حاصل ہے
یہ ردعمل عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی 17 ستمبر کو منظور کی گئی قرارداد کے بعد سامنے آیا۔ قرارداد میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی قرارداد میں پیانگ یانگ سے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ قرارداد کے حق میں 103 ممالک نے ووٹ دیا، 6 نے مخالفت کی جبکہ 14 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا چین اور روس مخالفت کرنے والے ممالک میں شامل تھے
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا ان کے مطابق ادارہ امریکا اور جنوبی کوریا کی جوہری سرگرمیوں کو نظر انداز کر رہا ہے جبکہ شمالی کوریا کی جوہری سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے انہوں نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو اپنے دفاع کے لیے جائز قرار دیا
شمالی کوریا کا مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی ادارے کو اس کے جوہری ڈھانچے میں مسلسل توسیع کے شواہد مل رہے ہیں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونگ بیون کے جوہری مرکز میں یورینیم افزودگی کی نئی تنصیب تیار کی گئی ہے، جبکہ کانگسون کے افزودگی مرکز میں بھی توسیعی سرگرمیاں جاری ہیں عالمی ادارے کے معائنہ کار 2009 سے شمالی کوریا میں موجود نہیں ہیں، اس لیے اس کی موجودہ جوہری تنصیبات کے بارے میں زیادہ تر معلومات سیٹلائٹ تصاویر اور کھلے ذرائع سے حاصل کی جاتی ہیں
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا کا جوہری پروگرام 2022 سے مسلسل پھیلتا رہا ہے ادارے نے یونگ بیون میں 5 میگاواٹ کے جوہری ری ایکٹر اور ایک ہلکے پانی والے ری ایکٹر کی سرگرمیوں کے شواہد بھی ریکارڈ کیے ہیں تاہم معائنہ کاروں کی عدم موجودگی کے باعث ادارہ ان تنصیبات کی موجودہ حالت اور سرگرمیوں کی مکمل طور پر تصدیق نہیں کر سکتا
دوسری جانب شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ ان نے رواں ہفتے 3 روز تک اسلحہ ساز فیکٹریوں کا معائنہ کیا اور ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے پر زور دیا سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے توپ خانے کی ایسی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی جو جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ دشمن کو جنگ سے روکنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہوں
شمالی کوریا نے 2003 میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور 2009 میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ملک سے نکال دیا تھا اس کے بعد سے پیانگ یانگ اور عالمی اداروں کے درمیان جوہری پروگرام پر اختلاف مسلسل برقرار ہے موجودہ تنازع میں ایک طرف عالمی ادارے شمالی کوریا سے جوہری سرگرمیاں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف پیانگ یانگ اپنی جوہری صلاحیت کو ملکی دفاع کا مستقل حصہ قرار دے رہا ہے

قومی خبریں سے مزید