محسن نقوی کی پریس کانفرنس کا اصل پیغام کیا تھا؟ بیس اور 27 ستمبر کے احتجاج، مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن کے بدلتے سیاسی منظرنامے کی اندرونی تصویر

محسن نقوی کی پریس کانفرنس کا اصل پیغام کیا تھا؟ بیس اور 27 ستمبر کے احتجاج، مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن کے بدلتے سیاسی منظرنامے کی اندرونی تصویر

اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی کی 18 ستمبر کی پریس کانفرنس بظاہر 27 ستمبر کو تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کے اعلان کردہ احتجاج اور اسلام آباد مارچ کے حوالے سے حکومتی سکیورٹی پالیسی واضح کرنے کے لیے تھی، لیکن اس کے الفاظ، لہجے اور اسی روز سامنے آنے والی سیاسی پیش رفت نے اسے محض انتظامی بیان سے زیادہ اہم بنا دیا ہے
محسن نقوی نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو احتجاج روکنے کی ہدایات دینے، فائرنگ کی صورت میں فورسز کی جانب سے جواب دینے اور دارالحکومت کو بند کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا،ساتھ ہی انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کریں لیکن اسلام آباد کا گھیراؤ نہ کریں
یہاں محسن نقوی کا سب سے اہم سیاسی پیغام پی ٹی آئی کے علاوہ بھی وسیع تھا،انہوں نے صرف تحریک انصاف یا جماعت اسلامی کو ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر “اپوزیشن” کے ذمہ دار رہنماؤں کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مشورہ دیا،اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت 27 ستمبر کی سرگرمی کو صرف ایک جماعت کا معمول کا احتجاج نہیں بلکہ ایسا اقدام سمجھ رہی ہے جو وفاقی دارالحکومت کی انتظامی اور سکیورٹی صورتحال کو متاثر کرسکتا ہے
یہ بیان اس وقت آیا جب تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو “انصاف مارچ” کے نام سے احتجاج کی کال دے رکھی ہے،تو تحریک انصاف سے پہلے بیس ستمبر کو جماعت اسلامی پچیس ستمبر کو کسان اتحاد نے ، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اپوزیشن جماعتوں، وکلا اور عوام کو اس میں شرکت کی دعوت دی ہے اور اسے عمران خان کی رہائی، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی آزادی اور آئینی حقوق کے مطالبات سے جوڑا ہے ،پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن ہوگا
لیکن اسی مرحلے پر جے یو آئی ف کا موقف ایک اہم سیاسی عنصر بن گیا،17 اور 18 ستمبر کو جے یو آئی کے مرکزی رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن ان کی جماعت نے معذرت کرلی ہے،ان کے مطابق مولانا فضل الرحمن پہلے ہی واضح کرچکے تھے کہ جے یو آئی کسی دوسری جماعت کے ساتھ مل کر اس احتجاج میں شریک نہیں ہوگی،انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنا احتجاج پہلے سے طے کر رکھا تھا اور صرف ایک ہفتہ پہلے دوسری جماعت کو اپنی سیاسی طاقت کے مظاہرے میں شامل کرنے کی دعوت دینا دونوں جماعتوں کے لیے موزوں نہیں تھا
یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی سامنے آتا ہے،چند روز پہلے پی ٹی آئی کا وفد مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرچکا تھا اور جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے زیر اہتمام کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی تھی،اس ملاقات میں آئینی اور جمہوری نظام، قانون کی حکمرانی اور قومی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی پر بات ہوئی تھی،لیکن 27 ستمبر کے براہ راست احتجاج یا مارچ میں شرکت کا معاملہ الگ رکھا گیا
اس فرق سے موجودہ اپوزیشن سیاست کی ایک اہم تصویر سامنے آتی ہے،جے یو آئی پی ٹی آئی کے ساتھ بعض سیاسی اور آئینی معاملات پر مشاورت کے لیے دروازہ بند نہیں کر رہی، لیکن اس نے خود کو 27 ستمبر کے پی ٹی آئی احتجاج کا باقاعدہ حصہ بنانے سے انکار کیا ہے،یہ دونوں باتیں بیک وقت درست ہیں اور انہیں ایک دوسرے کی ضد سمجھنا ضروری نہیں
محسن نقوی کی پریس کانفرنس کو اسی پس منظر میں دیکھا جائے تو ان کا بنیادی پیغام یہ دکھائی دیتا ہے کہ حکومت 27 ستمبر کو اسلام آباد میں کسی بڑے اجتماع یا مارچ کو دارالحکومت تک پہنچنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں،ان کی گفتگو میں “اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج” کی گنجائش کا ذکر بھی ہے، لیکن اسلام آباد کی طرف مارچ یا شہر کو مفلوج کرنے کی کوشش کے بارے میں انہوں نے انتہائی واضح انتظامی اور قانونی رکاوٹ کا اعلان کیا
ان کے خطاب کا دوسرا پہلو خیبر پختونخوا حکومت سے متعلق تھا،محسن نقوی نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اسلام آباد احتجاج کے لیے وسائل اور توانائی استعمال کرنے کے بجائے صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے،اس طرح ان کا پیغام صرف پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت تک محدود نہیں تھا بلکہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی سیاسی طور پر مخاطب کرتا تھا، کیونکہ 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے وہاں سے کارکنوں کی بڑی تعداد آنے کا امکان زیر بحث ہے

اسی لیے محسن نقوی کی گفتگو کو زیادہ درست طور پر حکومت کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے “ریڈ لائن” واضح کرنے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے،انہوں نے قانونی جواز، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے، سکیورٹی انتظامات اور ممکنہ تشدد کی صورت میں فورسز کے ردعمل کو ایک ہی فریم میں رکھا،حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج سیاسی حق ہے، لیکن دارالحکومت کا گھیراؤ، شہری زندگی میں خلل یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی قابل قبول نہیں ہوگی
دوسری طرف جے یو آئی کا الگ رہنا 27 ستمبر کی اپوزیشن صف بندی کو بھی پیچیدہ بناتا ہے،پی ٹی آئی تمام اپوزیشن جماعتوں کو مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دے رہی ہے، مگر کم از کم جے یو آئی نے براہ راست اس احتجاج کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے،اس کے باوجود دونوں جماعتوں کے درمیان آئینی، پارلیمانی اور قومی معاملات پر مشترکہ مشاورت کا عمل جاری رہ سکتا ہے
یوں 18 ستمبر کی پریس کانفرنس کا سب سے واضح سیاسی پیغام کسی ایک جماعت کے خلاف خفیہ اشارے کے بجائے یہ تھا کہ حکومت اسلام آباد مارچ کو انتظامی اور قانونی طور پر روکنے کا فیصلہ کرچکی ہے، جبکہ اپوزیشن کے اندر بھی 27 ستمبر کے احتجاج کے بارے میں مکمل یکجہتی موجود نہیں،محسن نقوی نے تصادم کی صورت میں ریاستی ردعمل کی حد بھی واضح کردی، جبکہ جے یو آئی نے اسی مرحلے پر پی ٹی آئی کے احتجاج سے فاصلہ برقرار رکھا،آئندہ چند دنوں میں اصل سیاسی سوال یہی ہوگا کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمان اور مشترکہ سیاسی فورم تک محدود رہتی ہیں یا 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے اپنی موجودہ پوزیشن تبدیل کرتی ہیں

قومی خبریں سے مزید