نیویارک پولیس کے 98 ہزار معیارِ زندگی ٹکٹوں میں سے تقریباً نصف مسترد، ہاتھ سے لکھے چالان بڑی وجہ بن گئے
نیویارک: نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے معیارِ زندگی سے متعلق معمولی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی میں جاری کیے گئے تقریباً 98 ہزار سول ٹکٹوں میں سے لگ بھگ نصف انتظامی سماعتوں میں مسترد کردیئے گئے، جس سے پولیس کے اس وسیع تر نفاذ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ گئے ہیں
گوتھمسٹ کی جانب سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں عوامی مقام پر پیشاب کرنے، کھلے شراب کے کنٹینر رکھنے اور اسی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر NYPD نے تقریباً 98 ہزار سول ٹکٹ جاری کیے،ان میں سے تقریباً 46 ہزار، یعنی 47 فیصد، نیویارک سٹی آفس آف ایڈمنسٹریٹو ٹرائلز اینڈ ہیئرنگز، جسے OATH کہا جاتا ہے، کے سماعتی افسران نے مسترد کردیئے
اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر ٹکٹ اس بنیاد پر خارج ہوئے کہ ان کی سروس یا خلاف ورزی کا نوٹس درست طریقے سے مکمل نہیں کیا گیا تھا،OATH کے حکام، محکمہ تحقیقات اور سٹی کونسل سے وابستہ حکام نے اس کی ایک اہم وجہ ہاتھ سے لکھے گئے چالانوں کو قرار دیا ہے،NYPD اب بھی اپنے تمام سول ٹکٹ ہاتھ سے لکھتا ہے، جبکہ شہر کے دیگر ٹکٹ جاری کرنے والے ادارے زیادہ تر الیکٹرانک نظام استعمال کرتے ہیں
OATH کی ترجمان ماریسا سینیگو کے مطابق ہاتھ سے لکھے جانے والے ٹکٹوں میں انسانی غلطیوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے،ان غلطیوں میں نام یا معلومات لکھنے میں غلطی، غلط قانونی کوڈ درج کرنا، ناقابلِ خواندہ تحریر کے باعث ڈیٹا انٹری میں غلطی اور ٹکٹ کی ترسیل سے متعلق ضروری معلومات کا غائب ہونا شامل ہیں
معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا جب NYPD کے اعلیٰ قانونی افسر نے سٹی کونسل کی نگرانی کی سماعت میں تسلیم کیا کہ محکمہ کو ٹکٹ جاری کرنے کا اپنا طریقہ کار درست کرنے کی ضرورت ہے،ڈپٹی کمشنر برائے قانونی امور مائیکل گیربر نے 47 فیصد مسترد ہونے کی شرح پر کہا کہ محکمہ اس صورتحال سے خوش نہیں اور اسے درست کرنے کی ضرورت ہے،تاہم ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ٹکٹ کسی جرم یا خلاف ورزی کے غلط تعین کی وجہ سے نہیں بلکہ کاغذی کارروائی، تحریر اور دیگر تکنیکی خامیوں کے باعث مسترد ہوئے، نیویارک پولیس کے ترجمان بریڈلی ویکس نے بھی کہا کہ محکمہ تکنیکی غلطیوں کو کم کرنے کے لیے اہلکاروں کی دوبارہ تربیت کر رہا ہے،ان کے مطابق مسترد ہونے والے ٹکٹ میرٹ یا اصل خلاف ورزی کی بنیاد پر نہیں بلکہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر خارج ہوئے، جبکہ پولیس اہلکار غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی اور مناسب کارروائی کر رہے تھے
شہر کے محکمہ تحقیقات نے 2020 کی ایک رپورٹ میں بھی سفارش کی تھی کہ سول سمن جاری کرنے والے تمام شہری ادارے، بشمول NYPD، ہاتھ سے لکھے جانے والے چالانوں سے الیکٹرانک نظام کی طرف منتقل ہوں،موجودہ اعداد و شمار نے اس پرانی سفارش کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے
دوسری جانب معیارِ زندگی کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر تقریباً نصف ٹکٹ بعد میں مسترد ہوجاتے ہیں تو اس عمل میں پولیس، انتظامی اداروں اور شہریوں کے وقت اور وسائل کا بڑا حصہ ضائع ہوتا ہے،NYPD کا مؤقف اس کے برعکس ہے کہ اصل مسئلہ کارروائی نہیں بلکہ ٹکٹوں کی تکنیکی تیاری میں موجود خامیاں ہیں





