ڈی ایچ ایس کی خفیہ ای میل نے ٹرمپ انتظامیہ کے انتخابی منصوبوں پر نیا سوال اٹھا دیا

ڈی ایچ ایس کی خفیہ ای میل نے ٹرمپ انتظامیہ کے انتخابی منصوبوں پر نیا سوال اٹھا دیا

واشنگٹن: امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی گزشتہ سال کی ایک heavily redacted اندرونی ای میل سامنے آنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر امریکی شہریوں کے ووٹر لسٹوں میں شامل ہونے یا ماضی میں ووٹ ڈالنے کی تحقیقات کے طریقہ کار پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں
این پی آر کے مطابق 19 دسمبر کی اس ای میل میں ڈی ایچ ایس کے اہلکاروں نے 78 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز شیئر کی، جس میں ان ریاستوں اور کاؤنٹیز کی فہرست شامل تھی جہاں انتخابات سے متعلق مواد اور بیلٹ انگریزی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی دستیاب ہیں،اسی ای میل کے ساتھ محکمہ انصاف کی ایک فوجداری چیک لسٹ بھی منسلک تھی، جس میں ووٹنگ سے متعلق الزامات کے مقدمات چلانے کی ضروریات درج تھیں
تاہم دستیاب دستاویز میں کہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ غیر انگریزی زبان میں انتخابی مواد فراہم کرنے والے علاقوں کے بارے میں کوئی کارروائی کیوں زیر غور تھی،ای میل کے بڑے حصے کو سیاہ کر دیا گیا ہے، اس لیے اس فہرست کو شیئر کرنے کا اصل مقصد واضح نہیں ہو سکاڈی ایچ ایس نے عدالتی دستاویز میں اس ای میل کو قیادت کے ساتھ ابتدائی خیالات شیئر کرنے والی خط و کتابت قرار دیا ہے
ڈی ایچ ایس نے این پی آر کو دیے گئے بیان میں کہا کہ غیر قانونی طور پر ووٹ ڈالنے والا شخص یہ جواز پیش نہیں کر سکتا کہ اسے انگریزی زبان کا علم نہیں تھا،تاہم محکمہ نے یہ بھی کہا کہ اس کا منصوبہ پولنگ مقامات کو نشانہ بنانا نہیں ہے،اس کے باوجود انتظامیہ کے بعض حالیہ بیانات نے یہ خدشہ پیدا کیا ہے کہ وفاقی امیگریشن اہلکار انتخابی مقامات پر بھی کارروائی کر سکتے ہیں
امریکی قانون کے تحت ایسے علاقوں میں، جہاں ووٹنگ کی عمر کے شہریوں کی 5 فیصد سے زیادہ تعداد بنیادی طور پر انگریزی کے علاوہ کوئی دوسری زبان بولتی ہے، بعض انتخابی مواد متعلقہ زبان میں فراہم کرنا لازم ہے،این پی آر کے مطابق 78 صفحات کی فہرست میں ایسے قانونی طور پر کثیر لسانی انتخابی مواد فراہم کرنے والے علاقوں کے ساتھ بعض ریاستی اور مقامی پالیسیوں سے متعلق معلومات بھی شامل تھیں
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈی ایچ ایس نے غیر شہریوں کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے اپنے وسائل میں اضافہ کیا ہے،دوسری جانب حالیہ تحقیقات میں غیر شہری ووٹنگ کے واقعات کی تعداد بہت کم سامنے آئی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی ووٹر تصدیق کی کوششوں کو ریاستی حکام اور عدالتوں میں قانونی چیلنجز کا سامنا بھی ہے
نئی دستاویز میں کسی مخصوص علاقے یا زبان بولنے والے ووٹرز کے خلاف کارروائی کا ثبوت موجود نہیں، لیکن ای میل، اس کے ساتھ منسلک فہرست اور محکمہ انصاف کی فوجداری چیک لسٹ کا ایک ساتھ شیئر کیا جانا اس بات پر سوال ضرور اٹھاتا ہے کہ ڈی ایچ ایس انتخابی جرائم کی تحقیقات کے لیے کن معلومات کو اہم سمجھ رہا تھا اور ان معلومات کو کس مقصد کے لیے جمع کیا جا رہا تھا

قومی خبریں سے مزید