ماچاڈو کی واپسی کا فیصلہ، وینزویلا میں نئے انتخابات کے لیے بڑا سیاسی معرکہ تیار

ماچاڈو کی واپسی کا فیصلہ، وینزویلا میں نئے انتخابات کے لیے بڑا سیاسی معرکہ تیار

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے ملک سے طویل جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اب وہ وینزویلا میں جمہوری منتقلی اور نئے انتخابات کے لیے براہ راست سیاسی جدوجہد شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ماچاڈو گزشتہ کئی ماہ سے پاناما میں رہتے ہوئے اپنی واپسی کی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں،انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ وہ بیرون ملک رہ کر اس سیاسی عمل کی قیادت نہیں کر سکتیں اور اب وطن واپس جانے کا وقت آ گیا ہے،وہ گزشتہ دسمبر میں وینزویلا سے خفیہ طور پر نکل کر ناروے گئی تھیں جہاں انہوں نے نوبیل امن انعام وصول کیا
ماچاڈو کی واپسی ایسے وقت میں ہونے جا رہی ہے جب امریکہ کی حمایت یافتہ عبوری حکومت اور اپوزیشن کے بعض دھڑوں کے درمیان ملک میں سیاسی نظام کی تشکیل نو اور مستقبل کے انتخابات پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم ماچاڈو کی سیاسی تحریک ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہے، رائٹر کے مطابق چار اپوزیشن ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ماچاڈو واپس جائیں گی، اگرچہ واپسی کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی
ماچاڈو کا بنیادی مطالبہ آزاد اور منصفانہ صدارتی انتخابات ہیں،وہ انتخابی فہرستوں کی ازسرنو تیاری، انتخابی اداروں میں تبدیلی اور سیاسی مقابلے کے لیے ضمانتوں کو ضروری قرار دیتی رہی ہیں،اپریل میں انہوں نے اندازہ دیا تھا کہ انتخابات کے لیے ضروری انتخابی اصلاحات مکمل کرنے میں 8 سے 9 ماہ لگ سکتے ہیں
تاہم ان کی واپسی واشنگٹن کی وینزویلا پالیسی کے لیے ایک اہم امتحان بھی بن سکتی ہے،امریکی انتظامیہ اس وقت عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے ساتھ کام کر رہی ہے اور واشنگٹن کی حمایت سے جاری مذاکرات میں ماچاڈو کی تحریک شامل نہیں، رائٹر کے مطابق امریکی حکام نے ماضی میں ان سے واپسی مؤخر کرنے کو کہا تھا، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ماچاڈو کو واپس جانے کا حق حاصل ہے لیکن وہ بیرون ملک وینزویلا کے شہریوں کو منظم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں
ماچاڈو کی واپسی کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وینزویلا میں مستقبل کے سیاسی نظام پر ابھی کوئی حتمی انتخابی شیڈول موجود نہیں،دوسری جانب اقوام متحدہ کی ایک حالیہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق سابق حکومت سے منسلک کئی ریاستی اداروں اور سکیورٹی ڈھانچوں میں بنیادی تبدیلیاں اب بھی نہیں ہوئیں اور ملک میں انسانی حقوق سے متعلق سنگین مسائل برقرار ہیں
اب ماچاڈو کے لیے اصل مرحلہ بیرون ملک سے سیاسی مہم چلانے کے بجائے وینزویلا کے اندر واپس جا کر اپنی تحریک کو منظم کرنا اور انتخابی عمل کے لیے دباؤ بڑھانا ہوگا،ان کی واپسی واشنگٹن کی موجودہ حکمت عملی، عبوری حکومت اور وینزویلا کی اپوزیشن کے درمیان طاقت کے توازن پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، تاہم اس کا عملی نتیجہ آئندہ مذاکرات اور انتخابات کے طریقۂ کار پر منحصر ہوگا

قومی خبریں سے مزید