مسائل اور انتظامی مشکلات کے باوجود جاپان میں 20ویں ایشین گیمز کا آغاز
جاپان کے شہر ناگویا میں 20ویں ایشین گیمز کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے، تاہم کھیلوں کے اس بڑے عالمی ایونٹ سے قبل منتظمین کو رہائش، ٹرانسپورٹ اور موسم سمیت کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ایشین گیمز میں تقریباً 17,000 کھلاڑی اور عہدیدار شریک ہیں، جو اولمپکس کے مقابلے میں بھی زیادہ تعداد ہے
اس بار منتظمین نے اخراجات کم رکھنے کے لیے روایتی ایتھلیٹس ولیج تعمیر نہیں کیا۔ کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو عارضی کنٹینر نما رہائش گاہوں، ہوٹلوں اور ایک کروز شپ میں ٹھہرایا گیا ہے بعض ٹیموں نے رہائش کے معیار پر شکایات کی ہیں، جن میں بستروں کا چھوٹا ہونا بھی شامل ہے
انتظامی مشکلات کا سامنا صرف رہائش تک محدود نہیں رہا بعض کھلاڑیوں کو ہوائی اڈے پر ٹرانسپورٹ نہ پہنچنے کے باعث انتظار کرنا پڑا گزشتہ ہفتے ناگویا میں شدید بارش سے شہر کے بعض علاقوں میں سیلابی صورتحال بھی پیدا ہوئی جبکہ موسم کی پیش گوئی کے مطابق ایک ٹائفون جاپان کے مرکزی جزیرے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے اتوار یا پیر کو مزید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے
اس کے باوجود منتظمین نے امید ظاہر کی ہے کہ ایشین گیمز کی موجودہ میزبانی کئی نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔ باسکٹ بال، فٹبال اور کرکٹ سمیت بعض کھیل افتتاحی تقریب سے پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں، جبکہ اتوار سے باقاعدہ مقابلوں میں طلائی تمغوں کی دوڑ بھی شروع ہو جائے گی مجموعی طور پر 45 کھیلوں میں 469 طلائی تمغوں کے لیے مقابلے ہوں گے اور کھیلوں کا اختتام 4 اکتوبر کو ہوگا
ایشین گیمز میں ایتھلیٹکس اور تیراکی جیسے اولمپک کھیلوں کے ساتھ کبڈی اور سیپک ٹاکرا جیسے ایشیائی کھیل بھی شامل ہیں نوجوان شائقین کو متوجہ کرنے کے لیے ای اسپورٹس، بریک ڈانس اور بی ایم ایکس سائیکلنگ بھی پروگرام کا حصہ ہیں پیڈل اور مکسڈ مارشل آرٹس بھی ایشین گیمز میں پہلی مرتبہ شامل کیے گئے ہیں
ان مقابلوں میں کئی کم عمر اور ابھرتے ہوئے کھلاڑی بھی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ بھارت کے 15 سالہ کرکٹر وائبھَو سوریہ ونشی اور چین کی 13 سالہ تیراک یو زیڈی ان میں شامل ہیں یو زیڈی اتوار کو خواتین کے 200 میٹر بٹر فلائی مقابلے میں ایکشن میں ہوں گی فلپائن کی ٹینس کھلاڑی الیگزینڈرا ایالا اور تائیوان کی باکسر لن یو ٹنگ بھی نمایاں ناموں میں شامل ہیں
میزبان جاپان کو اپنے اولمپک چیمپئنز سے بڑی توقعات ہیں، جن میں جمناسٹ شینوسوکے اوکا اور جیولن تھرو کی کھلاڑی ہاروکا کیتوگچی شامل ہیں چین نے 2023 میں ہانگژو میں منعقد ہونے والے ایشین گیمز میں 201 طلائی سمیت 383 تمغے جیتے تھے اور اس مرتبہ بھی بڑی تعداد میں کھلاڑیوں کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ چین کے دستے میں 800 سے زیادہ کھلاڑی شامل ہیں، جن میں 36 اولمپک چیمپئنز بھی ہیں
بھارت کرکٹ میں بھی اہم دعویداروں میں شامل ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ اس کے ممکنہ مقابلے پر بھی شائقین کی خاص نظر ہوگی دونوں ٹیمیں اگر فائنل تک پہنچتی ہیں تو ناگویا کے نئے کرکٹ میدان میں ایک انتہائی اہم مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، تاہم بارش اس پروگرام میں رکاوٹ بن سکتی ہے
جاپان میں منعقد ہونے والے یہ ایشین گیمز 2028 کے اولمپکس کے لیے بعض کھیلوں میں جگہ حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کریں گے انتظامی مشکلات اور خراب موسم کے خدشات کے باوجود منتظمین نے کھیلوں کو کامیابی سے مکمل کرنے اور ایشیا بھر سے آنے والے ہزاروں کھلاڑیوں کو مقابلے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے





