پاکستان میں ’کُو‘ مکمل ہو چکا، اب صوبوں کی باری ہے، افراسیاب خٹک کا دعویٰ، ’نئی ایسٹ انڈیا کمپنی‘ کے خلاف مزاحمت کا اعلان
اسلام آباد: سابق سینیٹر اور سیاسی رہنما و تجزیہ کار افراسیاب خٹک نے پاکستان میں موجودہ سیاسی اور ریاستی بندوبست کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں عملاً اقتدار کی منتقلی مکمل ہوچکی ہے، پارلیمنٹ اور عدلیہ اپنی سابق حیثیت کھو چکی ہیں اور اب صوبائی سطح پر بھی مرکزیت کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،ان کے بقول موجودہ صورتحال کا بنیادی مسئلہ نہ گورننس ہے، نہ ڈیولوشن، بلکہ 1973 کے آئین کا وہ نظام ہے جسے ان کے مطابق فوجی حکمرانی نے ابتدا ہی سے مکمل طور پر قبول نہیں کیا
صوبائی خودمختاری سے متعلق ایک سیمینار میں تفصیلی خطاب کرتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا کہ برصغیر کی تاریخ میں 1947 اور پھر 1971 کی تقسیم کے پس منظر میں صوبائی اور علاقائی حقوق کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے،ان کے مطابق جب مختلف علاقوں کے حقوق اور صوبائی خودمختاری پر اتفاق رائے قائم نہ ہو سکا تو اس کے نتائج ملک کی تقسیم کی صورت میں سامنے آئے،انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ پاکستان میں بھی صوبائی خودمختاری اور وفاقی ڈھانچے کو کمزور کیا گیا تو تاریخ کے اس سبق کو نظر انداز کرنا خطرناک ہوگا
خٹک نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ 1973 کا آئین ہے اور ان کے بقول فوجی حکمرانی نے اس آئین کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک نسبتاً نیا ملک ہے اور اس کی ریاستی بنیاد کسی ہزاروں سال پر محیط بادشاہت یا تہذیبی تسلسل کے بجائے آئین اور عمرانی معاہدے پر قائم ہے، اس لیے اگر آئین ہی ختم یا معطل کردیا جائے تو ریاست کے اتحاد کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا
انہوں نے کہا کہ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں پارلیمانی اور وفاقی نظام کو مختلف طریقوں سے محدود یا تبدیل کیا گیا،خٹک نے 1970 کی دہائی کے اٹک سازش کیس اور 1977 کی فوجی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں منتخب حکومت کے خلاف فوجی مداخلت کا سلسلہ نیا نہیں،ان کے مطابق ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پارلیمانی نظام کو کمزور کیا اور صدارتی اختیارات میں اضافہ کیا، جبکہ 8ویں ترمیم کے ذریعے آئینی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں
18ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے خٹک نے بتایا کہ وہ اس ترمیم کی تیاری کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ تھے،ان کے مطابق جب ترمیم کا مسودہ آخری مرحلے میں پہنچا تو بعض ارکان کو خدشہ تھا کہ فوجی قیادت اسے روکنے کے لیے مداخلت کرسکتی ہے،انہوں نے کہا کہ اس وقت ایسا نہیں ہوا، لیکن ان کے خیال میں 18ویں ترمیم نے جو اختیارات صوبوں کو منتقل کیے، انسانی حقوق، وفاقیت اور جمہوری نظام کو جو تقویت دی، وہ طاقت کے ایک مرکز پر مبنی سوچ کے لیے قابل قبول نہیں تھی
خٹک نے 2014 کے دھرنے کو اس عمل کا اگلا مرحلہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس وقت سے ایک ’’کِرِیپنگ کُو‘‘ یعنی بتدریج اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کا عمل شروع ہوا،انہوں نے 2018 کے انتخابات کو انتخابی دھاندلی کے بجائے ’’انتخابی ڈاکا‘‘ قرار دیا اور 2024 کے انتخابات سے متعلق بھی سنگین الزامات عائد کیے،ان کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امیدواروں سے سرکاری اداروں کے ذریعے رقم وصول کی گئی، اور جہازوں میں رقم بھر بھر کے لائ گئی ،انہوں نے کہا کہ وہ ان دعوؤں کی تحقیقات اور متعلقہ افراد کے نام سامنے لانے کے لیے تیار ہیں
ان کے اس بیان کا سب سے سخت حصہ موجودہ نظام سے متعلق تھا،خٹک نے کہا کہ پاکستان میں ’’کُو‘‘ اب مکمل ہوچکا ہے اور اقتدار عملاً منتقل ہوچکا ہے،انہوں نے ریفرنڈم کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر یہ معاملہ وفاقی کابینہ یا پارلیمان میں زیر بحث نہیں آیا تو اس کا تصور کہاں سے سامنے آیا،ان کے بقول یہ تجویز جی ایچ کیو سے آئی، جسے وہ موجودہ طاقت کے ڈھانچے کی علامت سمجھتے ہیں
خٹک نے اسی تناظر میں صوبائی سطح پر انتظامی یونٹ بنانے کی بحث کو انتہائی اہم قرار دیا،ان کے بقول مرکزی اقتدار کا جو ماڈل وفاق میں قائم ہوا ہے، اب اسے صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے،انہوں نے اسے ’’ڈیولوشن پلان‘‘ کا نام دیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ حقیقی ڈیولوشن نہیں بلکہ صوبوں کے اختیارات اور وسائل کو مزید مرکز کے تابع کرنے کا طریقہ ہے
ان کے خطاب میں معدنی وسائل کا معاملہ بھی مرکزی حیثیت رکھتا تھا،خٹک نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے معدنی ذخائر پر عالمی طاقتوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور امریکہ اور چین کے درمیان مقابلے کے تناظر میں پاکستان کے معدنی وسائل کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے،انہوں نے ریکوڈک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل پر صوبے کے حق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا
البتہ ریکوڈک کے موجودہ ملکیتی ڈھانچے کے بارے میں سرکاری ریکارڈ ایک مختلف قانونی و مالی تصویر پیش کرتا ہے،وفاقی حکومت کے مطابق ریکوڈک منصوبے میں 50 فیصد حصہ Barrick کے پاس، جبکہ پاکستان کے 50 فیصد حصے میں وفاقی ریاستی اداروں اور حکومت بلوچستان کے حصے شامل ہیں؛ بلوچستان کا حصہ 25 فیصد ہے
خٹک نے اس بحث کو بلوچستان کے سابق گورنر اور قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی سے اپنی آخری ملاقات سے بھی جوڑا،انہوں نے بتایا کہ بگٹی نے اپنی وفات سے تین روز قبل ان سے کہا تھا کہ بلوچستان کے وسائل کو صوبے کی ملکیت سمجھنے کے مطالبے کی وجہ سے انہیں قتل کیا جا سکتا ہے،خٹک کے مطابق پھر بگٹی مارے گئے۔ اس واقعے کو انہوں نے موجودہ معدنی وسائل کی بحث کے تاریخی پس منظر سے جوڑا
انہوں نے مغربی طاقتوں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ مغربی ممالک کے لیے ایک مرکزی فوجی طاقت کے ساتھ معاملات کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ یہ ’’ون ونڈو آپریشن‘‘ بن جاتا ہے،ان کے مطابق ماضی میں سیٹو، سینٹو اور پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان کے فوجی حکام کے مغربی حکومتوں اور اداروں سے براہ راست روابط رہے، جس سے انہیں یہ تاثر ملتا ہے کہ ایک مضبوط مرکزی فوجی نظام بیرونی طاقتوں کے لیے زیادہ آسان شراکت دار ہوتا ہے
خٹک نے اسے پاکستان کے اندر ’’انٹرنل کالونائزیشن‘‘ یعنی داخلی نوآبادیاتی نظام قرار دیا اور کہا کہ اگر ایک مرکز صوبوں کے وسائل اور اختیارات پر بالادست ہوجائے تو یہ وفاقیت نہیں رہتی،انہوں نے اسے تاریخی ایسٹ انڈیا کمپنی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام نے ماضی میں بھی بیرونی اقتدار کے خلاف جدوجہد کی اور اگر آج داخلی سطح پر اسی نوعیت کا بالادستی کا نظام قائم کیا گیا تو اس کی بھی مزاحمت ہوگی
پشتونوں کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انجمن اصلاح الافاغنہ اور بعد میں خدائی خدمتگار تحریک کا ذکر کیا اور کہا کہ پشتون معاشرہ تقریباً ایک صدی سے سیاسی اور آزادی کی جدوجہد کی تاریخ رکھتا ہے،ان کے مطابق یہ توقع رکھنا کہ لوگ ایک بیرونی حاکم کی جگہ داخلی حاکمیت کو بغیر مزاحمت قبول کرلیں گے، حقیقت پسندانہ نہیں
خٹک نے موجودہ وفاقی حکومت کے صوبائی توازن پر بھی سوال اٹھایا،انہوں نے کہا کہ انہیں کسی سیاسی جماعت کے پنجاب سے تعلق رکھنے پر اعتراض نہیں، لیکن اگر وفاقی حکومت وفاقیت کے اصول کے بجائے ایک صوبے کی بالادستی کے تصور کے تحت کام کرے تو یہ مسئلہ بن جاتا ہے،انہوں نے وفاقی کابینہ میں وزیروں کی وزارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد اس وزارت کی موجودہ حیثیت پر سوال اٹھتا ہے اور اسے محض علامتی کردار تک محدود کیا گیا ہے
اس کے بعد خٹک نے ریاستی طاقت کے نسلی اور علاقائی توازن پر ایک انتہائی سخت دعویٰ کیا،ان کے بقول سیاسی حکومت میں پنجاب کی بالادستی اور فوجی قیادت میں بھی پنجاب کی غالب نمائندگی موجود ہے اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتحال کو حقیقی وفاق کیسے کہا جاسکتا ہے،موجودہ فوجی قیادت کے تمام اعلیٰ عہدوں کی علاقائی شناخت کے بارے میں انہوں نے کہا صرف ایک لیفٹنٹ جنرل غیر پنجابی ہے
انہوں نے چھوٹے انتظامی یونٹ بنانے کی تجاویز کو بھی اسی تناظر میں دیکھا اور اسے ایوب خان کے دور کی بنیادی جمہوریت کے ایک نئے انداز سے تشبیہ دی،ہزارہ صوبے یا الگ انتظامی یونٹ کی بحث پر انہوں نے کہا کہ زبان کو بنیاد بنا کر انتظامی تقسیم کی منطق پیش کرنا اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے،انہوں نے یاد دلایا کہ خیبر پختونخوا میں پشتو، ہندکو، سرائیکی، چترالی اور کوہستانی سمیت متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان سب کو صوبے کی ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھا جانا چاہیے
سندھ اسمبلی کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے خٹک نے کہا کہ اگر کوئی صوبائی اسمبلی کسی منصوبے کی مخالفت کرتی ہے تو آئینی وفاقی ڈھانچے میں اس موقف کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،انہوں نے خبردار کیا کہ بلوچستان اوخیبر پختونخوا میں پہلے ہی مسلح تنازعات موجود ہیں اور اگر سندھ میں بھی اسی نوعیت کا احساس محرومی بڑھایا گیا تو یہ اشتعال انگیزی ہوگی اور ملک کو ایک نئے داخلی بحران کی طرف لے جا سکتی ہے، ایسا لگتا ہے یہ ملک توڑنا چاہتے ہیں انکے دماغ کے علاج کی ضرورت ہے
یہ خدشات پاکستان میں جاری وفاقی اور صوبائی اختیارات کی بحث سے الگ نہیں ہیں،جولائی میں بھی 18ویں ترمیم پر ہونے والے ایک فورم میں خٹک سمیت مقررین نے کہا تھا کہ ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنے کا عمل شروع ہوگیا تھا،اسی فورم پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثناء اللہ بلوچ نے سیاسی اختیارات، مالی وفاقیت اور سکیورٹی کے شعبے کی وفاقیت کو پاکستان کے وفاقی نظام کے بنیادی مسائل قرار دیا تھا
موجودہ صورتحال میں 18ویں ترمیم کے بارے میں بحث محض سیاسی نعرہ نہیں رہی،سینیٹ کی ڈیولوشن کمیٹی بھی حالیہ مہینوں میں صوبائی اختیارات، قدرتی وسائل میں صوبوں کے حصے اور آئین کے آرٹیکل 172(3) کے تحت تیل و گیس کی مشترکہ ملکیت جیسے معاملات اٹھا چکی ہے،عالمی بینک نے بھی جولائی 2026 کی اپنی رپورٹ میں کہا کہ 18ویں ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے صوبوں کو اہم ذمہ داریاں اور وسائل منتقل کیے، تاہم پاکستان کا مالی وفاقی نظام اب بھی ساختی کمزوریوں کا شکار ہے
سوال و جواب کے مرحلے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ اس بحران کا حل کیا ہے تو خٹک نے اپنی بات کو براہ راست انتخابات اور آئین کی بحالی سے جوڑ دیا،انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کو وہ غیر آئینی اور غیر قانونی سمجھتے ہیں اور اس لیے اس نظام کے تحت اصلاحات پر بحث سے پہلے ایک ایسے عام انتخاب کی ضرورت ہے جس میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو اور جس کے نتیجے کو تمام فریق قبول کریں
انہوں نے کہا کہ جو جماعت یا امیدوار عوام کے ووٹ سے کامیاب ہو، اسے حکومت بنانے کا حق دیا جائے، اس کے بعد جمہوریت، معیشت، گورننس اور ریاستی اصلاحات پر بحث ہونی چاہیے،ان کے مطابق اس وقت آئین عملاً معطل ہے اور اس لیے سیاسی عمل کا آغاز آئین کی بحالی، آزاد انتخابات اور ایک نمائندہ جمہوری نظام سے ہونا چاہیے
اختتامی گفتگو میں خٹک نے کہا کہ موجودہ سیاسی جماعتیں اگر اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں تو ان کی جگہ نئی سیاسی تنظیمیں ابھر سکتی ہیں، کیونکہ سیاسی خلا مستقل نہیں رہتا،انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل آئین اور جمہوریت سے وابستہ ہے اور صرف ایٹمی ہتھیار، ٹینک اور توپیں کسی ملک کو طویل مدت تک متحد نہیں رکھ سکتیں،انہوں نے سوویت یونین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بڑی عسکری طاقت کے باوجود اس کا اتحاد برقرار نہ رہ سکا کیونکہ اندرونی cohesion ختم ہوگئی تھی
انہوں نے 2024 کے انتخابات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اور دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امیدواروں سے سرکاری اداروں کے ذریعے رقم وصول کی گئی،انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بارے میں ایسی شکایات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر کسی ادارے یا اہلکار نے انتخابی عمل میں غیر قانونی مداخلت کی تو اس کا تعین کیا جانا چاہیے
جنرل پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے خٹک نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں کو ریکارڈ کا حصہ رہنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ ریاستی طاقت کے استعمال کے بارے میں عدالتوں نے کیا فیصلہ کیا تھا
آخر میں انہوں نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر آئین، جمہوریت اور وفاقی نظام کے تحفظ کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کریں،انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان پہلے ہی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سنگین سکیورٹی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ افغانستان کی صورتحال بھی دوبارہ کشیدہ ہوسکتی ہے، اس لیے ملک کو مزید داخلی تصادم کی طرف لے جانا خطرناک ہوگا
خٹک کے پورے خطاب کا مرکزی مقدمہ یہی تھا کہ پاکستان کی بقا کا سوال صرف انتظامی اصلاحات، نئے صوبوں یا بہتر گورننس کا سوال نہیں بلکہ 1973 کے آئین، وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور منتخب نمائندہ حکومت کے درمیان تعلق کا سوال ہے،ان کے نزدیک موجودہ انتظامی تقسیم کی تجاویز اسی وقت قابل قبول ہوسکتی ہیں جب وہ آئینی وفاقیت، صوبوں کے وسائل پر ان کے حقوق اور عوامی نمائندگی کو مضبوط کریں؛ اگر ان کے بقول انہیں اختیارات اور وسائل دوبارہ مرکز میں جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ وفاق کو مضبوط کرنے کے بجائے اندرونی کشمکش بڑھا سکتا ہے





