پاک فوج میں اعلیٰ کمان میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ، نئے ڈی جی ایم آئی سمیت 9 میجر جنرلز کو اہم ذمہ داریاں، اکتوبر میں لیفٹیننٹ جنرلز کی بڑی تبدیلیوں کا امکان

پاک فوج میں اعلیٰ کمان میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ، نئے ڈی جی ایم آئی سمیت 9 میجر جنرلز کو اہم ذمہ داریاں، اکتوبر میں لیفٹیننٹ جنرلز کی بڑی تبدیلیوں کا امکان

اسلام آباد: پاک فوج کے اعلیٰ کمان کے ڈھانچے میں ایک اور اہم ردوبدل سامنے آیا ہے جس کے تحت حالیہ ترقی پانے والے متعدد میجر جنرلز کو جنرل ہیڈکوارٹرز، فیلڈ فارمیشنز اور اہم سیکیورٹی اداروں میں نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں
تازہ رپورٹ کے مطابق میجر جنرل عدیل وارائچ کو ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس (ڈی جی ایم آئی) مقرر کیا گیا ہے،ان کی تقرری اس لیے بھی اہم ہے کہ ملٹری انٹیلی جنس فوج کے اہم انٹیلی جنس اور کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈھانچے میں مرکزی کردار رکھتی ہے، اسی کے ساتھ ڈی جی رینجرز سندھ کے عہدے پر میجر جنرل شمریز کو تعینات کیا گیا ہے
نئی تعیناتیوں میں میجر جنرل جواد کو ڈی جی پی، میجر جنرل ساجد کو جی ایچ کیو میں ڈائرکٹر کے عہدے پر اور میجر جنرل خرم شبیر کو 17 ڈویژن کا جی او سی مقرر کیا گیا ہے، جبکہ میجر جنرل عتیق رفیق کو پاکستان کوسٹ گارڈ کا ڈائریکٹر جنرل بنایا گیا ہے،اس کے علاوہ میجر جنرل ظفر کو آئی جی ایف سی ساؤتھ بلوچستان اور میجر جنرل فرحان کو آئی جی ایف سی ویسٹ بلوچستان تعینات کیا گیا ہے
یوں دستیاب نامزدگیوں میں کم از کم 9 میجر جنرلز شامل ہیں،تاہم موجودہ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان میں سے کتنے افسران اسی تازہ بورڈ میں بریگیڈیئر سے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والوں میں شامل ہیں اور کتنے پہلے سے میجر جنرل کے رینک پر فائز تھے،
یہ ردوبدل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ سال کی آئینی اور قانونی تبدیلیوں کے بعد پاکستان کے اعلیٰ فوجی کمانڈ ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں جاری ہیں،نئی قانونی ساخت کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہیں، جبکہ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کیا جا چکا ہے،اگست 2026 میں منظور کیے گئے ڈیفنس فورسز ایکٹ نے چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات اور نئے دفاعی کمانڈ ڈھانچے کو مزید قانونی شکل دی
اب نگاہیں اکتوبر کی طرف ہیں،بعض ذرائع کے مطابق اکتوبر کے پہلے یا تیسرے ہفتے میں متعدد لیفٹیننٹ جنرلز کی ریٹائرمنٹ، ممکنہ ترقیاں اور اعلیٰ کمان میں نئی تعیناتیاں متوقع ہیں،ایک حالیہ رپورٹ میں 7 لیفٹیننٹ جنرلز کے اکتوبر میں ریٹائر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جن میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک، شاہد امتیاز، احسن گلریز، نعمان زکریا، فیاض حسین شاہ، محمد ظفر اقبال اور انعام حیدر ملک کے نام شامل ہیں،تاہم یہ فہرست اور تاریخیں سرکاری طور پر حتمی قرار نہیں دی گئیں
اگر یہ ریٹائرمنٹس اور تبادلے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوئے تو میجر جنرلز میں سے بعض کی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی، کور کمانڈرز کی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں ڈویژنل کمانڈ کی ایک نئی چین بن سکتی ہے،یوں موجودہ ردوبدل اکتوبر میں متوقع بڑے کمانڈ سائیکل کا ابتدائی مرحلہ بھی ثابت ہو سکتا ہے
سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ نئے نظام میں اعلیٰ فوجی ترقیوں اور تعیناتیوں کا فیصلہ کس طریقہ کار کے تحت ہوگا،27ویں آئینی ترمیم اور بعد کے قانون سازی کے نتیجے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو تینوں سروسز سے متعلق وسیع اختیارات حاصل ہوئے ہیں،موجودہ قانونی ڈھانچے پر بعض تجزیوں میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ماضی کے نسبتاً اجتماعی یا بورڈ پر مبنی فیصلہ سازی کے مقابلے میں نئے نظام میں فیصلہ سازی کس حد تک مرکزی ہو گئی ہے،تاہم یہ کہنا کہ آئندہ بورڈ بیٹھے گا یا کوئی ایک شخصیت اکیلے فیصلہ کرے گی، اس مرحلے پر حتمی طور پر کہنا قبل از وقت ہوگا
اس پس منظر میں اکتوبر کی متوقع لیفٹیننٹ جنرل سطح کی ترقیوں، ریٹائرمنٹس اور ممکنہ چار اسٹار تقرری کو پاک فوج کے نئے کمانڈ ڈھانچے کے عملی امتحان کے طور پر دیکھا جائے گا،خاص طور پر یہ دیکھا جائے گا کہ نئی قانونی ساخت کے تحت اعلیٰ عہدوں کے لیے انتخاب اور تقرری کا عملی طریقہ کار کیا شکل اختیار کرتا ہے

قومی خبریں سے مزید