پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کا معاشی وژن سیاسی عدم تسلسل اور علاقائی کشیدگی کی نذر
پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی 2022 میں متعارف کرائی گئی تھی جس میں قومی سلامتی کے ساتھ معاشی تحفظ اور جیو اکنامکس کو مرکزی اہمیت دی گئی تھی پالیسی کا مقصد پاکستان کو شہریوں کی فلاح اور معاشی ترقی پر توجہ دینے والی ریاست کی طرف لے جانا تھا، تاہم 5 سالہ پالیسی اپنی مدت کے اختتام کے قریب پہنچتے ہوئے اپنے بنیادی معاشی اہداف حاصل نہیں کر سکی تجزیے کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں سیاسی عدم تسلسل، تحفظ پسند تجارتی پالیسی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی شامل ہیں
قومی سلامتی پالیسی جنوری 2022 میں اس وقت کی حکومت نے پیش کی تھی تاہم چند ماہ بعد حکومت کی تبدیلی کے نتیجے میں طویل مدتی پالیسی پر توجہ کم ہوگئی بعد کی حکومتیں بھی سیاسی بقا اور فوری معاشی بحرانوں سے نمٹنے میں زیادہ مصروف رہیں، جس کے باعث طویل مدتی معاشی انضمام اور علاقائی تجارت کے منصوبے پس منظر میں چلے گئے
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ جیو اکنامک پالیسی کے لیے آزاد تجارت، نسبتاً کھلی سرحدیں اور عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل برآمدی شعبہ ضروری ہے، لیکن پاکستان میں درآمدی خام مال اور درمیانی مصنوعات پر نسبتاً زیادہ محصولات صنعتی شعبے کی عالمی قدر کی زنجیروں میں شمولیت کو محدود کرتے ہیں قومی سلامتی پالیسی کے آغاز کے وقت پاکستان کی مجموعی برآمدات 39.52 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچی تھیں، تاہم بعد کے برسوں میں سیاسی عدم استحکام اور توانائی کی بلند قیمتوں سمیت مختلف مسائل نے برآمدی صلاحیت کو متاثر کیا
پاکستان کے لیے علاقائی صورتحال بھی جیو اکنامک منصوبے میں ایک بڑی رکاوٹ بن گئی بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی امیدیں 2021 میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی مفاہمت کے بعد پیدا ہوئی تھیں، لیکن بعد میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہی سندھ طاس معاہدے سے متعلق تنازع اور مئی 2025 کی 4 روزہ فوجی جھڑپوں نے تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا
مغربی سرحد پر بھی پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، سرحدی جھڑپوں، تجارتی راستوں کی بندش اور تحریک طالبان پاکستان سے متعلق سکیورٹی مسائل نے پاکستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک تجارتی راستے قائم کرنے کے منصوبوں کو متاثر کیا اس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، افغان ٹرانزٹ تجارت اور تیسرے ممالک کے لیے پاکستان کے راستے برآمدات میں کمی آئی ایران کے ساتھ تعلقات نسبتاً مستحکم ہونے کے باوجود امریکی پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر معاشی تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہیں
تجزیے کے مطابق پاکستان کو طویل مدتی معاشی حکمت عملی کو سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت تبدیل ہونے کے باوجود قومی معاشی منصوبہ تبدیل نہ ہو اس مقصد کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان معاشی پالیسی پر اتفاق رائے ضروری قرار دیا گیا ہے
اس کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو علاقائی سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی سے الگ رکھنے، سرحدی معاشی زون قائم کرنے اور جدید ٹرانزٹ مراکز بنانے کی تجویز دی گئی ہے پاکستان کو اپنی برآمدات کو صرف ٹیکسٹائل تک محدود رکھنے کے بجائے نئی اور زیادہ ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی طرف لے جانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مستحکم اور قابل پیش گوئی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے
تجزیے میں چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ افغانستان اور بھارت کے ساتھ مقامی سطح پر محدود تجارتی انتظامات تلاش کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے مجموعی طور پر مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کی عالمی اہمیت میں اضافے کے باوجود اگر وہ اپنے ہی خطے میں معاشی طور پر الگ تھلگ رہتا ہے تو جیو اکنامک اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا





