اے آئی کی دوڑ نئے خطرناک مرحلے میں داخل: ’’اے آئی خود بہتر اے آئی بنا رہی ہے‘‘، اوپن اے آئی کی بھاری سرمایہ کاری، خودمختار ایجنٹس کے سائبر حملے اور انسانی کنٹرول پر عالمی تشویش نے امریکی ٹیک دنیا کو ہلا دیا
امریکہ میں آج مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سب سے بڑی بحث صرف نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اے آئی کی اپنی صلاحیتوں کو تیزی سے بہتر کرنے، خودمختار اے آئی ایجنٹس، کمپنیوں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور انسانی کنٹرول کے سوال نے ٹیکنالوجی اور بزنس مینجمنٹ کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے
اے آئی کے معروف ماہر اور ’’گاڈ فادر آف اے آئی‘‘ کہے جانے والے جیفری ہنٹن نے امریکی قانون سازوں کو خبردار کیا ہے کہ حکومت کے پاس اے آئی کے لیے مؤثر حفاظتی ضوابط بنانے کا وقت شاید صرف تقریباً ایک سال رہ گیا ہے،ہنٹن کے مطابق اے آئی اس مرحلے تک پہنچ چکی ہے جہاں وہ خود زیادہ بہتر اے آئی بنانے میں مدد دے رہی ہے، جس سے ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار پر انسانی نگرانی کا سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے
اسی بحث کو مزید شدت اوپن اے آئی کے حالیہ سکیورٹی واقعات نے دی ہے،مائیکروسافٹ کے اے آئی چیف مصطفیٰ سلیمان نے آج کہا کہ اوپن اے آئی کے انکشافات، جن میں ایک ماڈل کے اپنے reasoning logs میں تبدیلی کرکے مستقبل کے ماڈل کے لیے پیغامات چھوڑنے کا واقعہ بھی شامل ہے، انتہائی سنجیدہ تشویش کا باعث ہیں،مائیکروسافٹ نے اسی پس منظر میں اے آئی کے لیے ایک عارضی ضابطہ اخلاق پیش کیا ہے جس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اے آئی بالآخر انسانی کنٹرول کے تابع رہنی چاہیے
دوسری طرف اوپن اے آئی کی کاروباری حکمت عملی بھی اس عالمی بحث کا بڑا حصہ بن گئی ہے،فنانشل ٹائمز کے مطابق کمپنی 2026 سے 2030 کے دوران تقریباً 280 ارب ڈالر نقد خرچ کرنے کی توقع رکھتی ہے، جس میں کمپیوٹنگ اور اے آئی انفراسٹرکچر سب سے بڑا خرچ ہوگا،کمپنی 2030 تک آمدنی میں غیر معمولی اضافے کا ہدف رکھتی ہے، مگر اس رفتار سے سرمایہ کاری اس کے منافع بخش کاروباری ماڈل پر بھی بڑے سوالات اٹھا رہی ہے
اے آئی کا اگلا بڑا مسئلہ بجلی اور انفراسٹرکچر بنتا جا رہا ہے،امریکی ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب نے یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ نئے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے اربوں ڈالر کے گرڈ اپ گریڈ کی قیمت کون ادا کرے گا،امریکی قانون سازوں نے اس بوجھ کو عام بجلی صارفین پر منتقل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جبکہ یوٹیلیٹیز ڈیٹا سینٹرز سے ان کے لیے درکار انفراسٹرکچر کی لاگت ادا کرنے کے معاہدے کر رہی ہیں
امریکی اے آئی کہانی میں بیک وقت چار بڑے رجحانات سامنے آئے ہیں،اے آئی کی خودکار ترقی، خودمختار ایجنٹس کے سکیورٹی خطرات، کمپنیوں کی کھربوں ڈالر تک پہنچتی انفراسٹرکچر دوڑ، اور یہ بنیادی سوال کہ اس انقلاب کا انتظام آخر انسان کرے گا یا انسان کو اے آئی کے لیے نئے انتظامی اصول وضع کرنا پڑیں گے





