یورپ میں امیگریشن پر سختی، سیوٹا بحران سے دائیں بازو کو نئی تقویت، سویڈن میں اسلام مخالف مہم کو انتخابی دھچکا، جبکہ برطانیہ میں مساجد پر حملوں اور چینل تارکین وطن کا تنازع مزید شدت اختیار کر گیا

یورپ میں امیگریشن پر سختی، سیوٹا بحران سے دائیں بازو کو نئی تقویت، سویڈن میں اسلام مخالف مہم کو انتخابی دھچکا، جبکہ برطانیہ میں مساجد پر حملوں اور چینل تارکین وطن کا تنازع مزید شدت اختیار کر گیا

یورپ اور برطانیہ میں 18 ستمبر 2026، اسلام، مسلمانوں اور امیگریشن سے متعلق کئی اہم پیش رفت ایک ہی بڑے سیاسی اور سماجی تناظر میں سامنے آئی ہیں
اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں جولائی کے بڑے مہاجر بحران کے اثرات آج بھی یورپی سیاست پر نمایاں ہیں،یورپی یونین کے مائیگریشن کمشنر میگنس برونر نے رائٹرز کو بتایا کہ مراکش سے 72,000 سے زیادہ افراد کے اچانک سیوٹا میں داخل ہونے کی تصاویر نے یورپ میں امیگریشن مخالف جماعتوں کو سیاسی فائدہ پہنچایا، حالانکہ یورپ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی مجموعی تعداد سخت پالیسیوں کے بعد کم ہوئی ہے،اسپین کے مطابق تقریباً 12,000 افراد اب بھی سیوٹا میں موجود ہیں، جن میں نابالغ بھی شامل ہیں،برونر نے کہا کہ یورپی ممالک کے لیے فوری واپسی کے اقدامات ضروری ہیں تاکہ ریاستی کنٹرول کا تاثر قائم رہے
سویڈن میں اس کے برعکس امیگریشن اور اسلام مخالف سیاست کو حالیہ انتخابات میں ایک اہم سیاسی دھچکا لگا ہے،13 ستمبر کے انتخابات میں سویڈن ڈیموکریٹس کا ووٹ شیئر تقریباً 3 فیصد کم ہوا اور پارٹی پارلیمانی نشستوں کے اعتبار سے دوسرے سے تیسرے نمبر پر چلی گئی،سویڈن میں مسلم تنظیموں اور بعض مسلم رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران اسلام مخالف بیان بازی کے خلاف براہ راست عوامی رابطہ مہم بھی چلائی تھی
برطانیہ میں امیگریشن کا مسئلہ بھی آج دوبارہ مرکزی خبر بنا،کینٹربری کراؤن کورٹ نے جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ پناہ کے درخواست گزار چان میتھوک اتک کو 27 ماہ قید کی سزا سنائی،اس نے جولائی میں فرانس سے برطانیہ آنے والی ایک چھوٹی کشتی چلانے کا اعتراف کیا تھا جس میں 165 افراد، جن میں 31 بچے بھی شامل تھے، سوار تھے۔ رائٹرز کے مطابق اگست میں ایک اور کشتی کے ذریعے 230 افراد کے برطانیہ پہنچنے سے یہ ریکارڈ دوبارہ ٹوٹ گیا، جبکہ چینل کے ذریعے آمد کی تعداد میں حالیہ کمی کے باوجود یہ معاملہ برطانوی سیاست میں انتہائی حساس ہے
مسلمانوں کے حوالے سے برطانیہ میں آج ایک اور نمایاں خبر یہ ہے کہ لندن کے مشرقی علاقے میں متعدد مساجد اور اسلامی اداروں پر مذہبی و نسلی نفرت پر مبنی گرافٹی کرنے والے 21 سالہ یوکرینی شہری نے عدالت میں جرم قبول کر لیا،جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی برج انیشی ایٹو کے مطابق اس نے جنوری 2025 میں Stratford Islamic Association، Al-Birr Mosque، Leyton Jamia Masjid، Noor Ul Islam Primary School اور Islamic Shariah Council کو نشانہ بنایا تھا،پولیس کے مطابق اسے مبینہ طور پر ٹیلی گرام کے ذریعے ایک روسی بولنے والے شخص نے یہ کام کرنے کے لیے بھرتی کیا تھا
اسی دوران لندن کے لیمبیتھ پیلس نے پاکستانی نژاد مسلمان عالم اور ہر پاکستانی حکومت کے خصوصی مشیر اور سعودی عرب شاہی خاندان سے قربت کے لیے مشہور مولانا حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو دیا گیا ایک اعزاز واپس لے لیا،برطانوی مذہبی میڈیا کے مطابق 2007 میں اسامہ بن لادن کے حوالے سے ان کے ایک پرانے بیان کے سامنے آنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا
یورپ ایک طرف غیر قانونی امیگریشن کو محدود کرنے، واپسی اور سرحدی کنٹرول سخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سویڈن کے انتخابی نتائج اور برطانیہ میں مساجد سے متعلق واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امیگریشن، اسلام اور مسلم اقلیتوں کا معاملہ اب صرف سرحدی پالیسی نہیں رہا بلکہ یورپ کی انتخابی سیاست، مذہبی آزادی اور سماجی ہم آہنگی کے بڑے مباحث میں تبدیل ہو چکا ہے

قومی خبریں سے مزید