گریسی مینشن کے باہر سینکڑوں یہودی طلبہ کا احتجاج، ممدانی سے نیویارک میں یہود مخالف واقعات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

گریسی مینشن کے باہر سینکڑوں یہودی طلبہ کا احتجاج، ممدانی سے نیویارک میں یہود مخالف واقعات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کی سرکاری رہائش گاہ گریسی مینشن کے باہر جمعہ کو گریڈ 7 سے 12 تک کے سینکڑوں یہودی طلبہ نے یہود دشمنی کے خلاف احتجاج کیا،طلبہ پیلے رنگ کی اسکول بسوں کے ذریعے مین ہٹن کے اپر ایسٹ سائیڈ پہنچے اور نیویارک میں یہودی شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا،احتجاج کے دوران کوئی گرفتاری نہیں ہوئی
مظاہرین میں شامل متعدد طلبہ نے کہا کہ ممدانی کی اسرائیل سے متعلق بیان بازی نے ان کے بقول شہر میں یہود دشمنی کو ہوا دی ہے،ایک آٹھویں جماعت کے طالب علم نے کہا کہ وہ میئر سے یہودی نیویارکرز کی سلامتی کو ترجیح دینے اور ان کے خدشات سننے کا مطالبہ کرنے آیا ہے
احتجاج کے دوران بعض والدین اور طلبہ کا ایک گروپ بھی موجود تھا جس نے مظاہرین سے کہا کہ میئر کی رہائش گاہ کے بجائے کسی غیر جانب دار مقام پر احتجاج کیا جائے
ممدانی نے بدھ کو احتجاج کے امکان پر کہا تھا کہ مظاہرین گریسی مینشن کے باہر اپنے احتجاج یا دعائیہ اجتماع کے لیے جگہ استعمال کرسکتے ہیں،انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ احتجاج کے وقت وہ غالباً شہر کے کسی دوسرے حصے میں موجود ہوں گے
یہ احتجاج ایسے وقت ہوا ہے جب اگلے ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا ہے اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے جمعرات کو اقوام متحدہ سے خطاب کا شیڈول ہے،نیویارک پولیس، امریکی سیکرٹ سروس، کوسٹ گارڈ، ایف بی آئی اور دیگر ادارے جنرل اسمبلی کے دوران متوقع متعدد احتجاجی مظاہروں کے لیے سکیورٹی انتظامات کر رہے ہیں
سی بی ایس نیویارک کے مطابق نیویارک پولیس کے اعداد و شمار میں رواں سال شہر میں تصدیق شدہ نفرت انگیز جرائم میں نصف سے زیادہ واقعات یہودی مخالف جرائم سے متعلق ہیں، جبکہ یہودی شہری شہر کی آبادی کا تقریباً 10 فیصد ہیں

قومی خبریں سے مزید